کراچی میں تعینات ایرانی قونصل جنرل اکبر عیسیٰ زادے نے ایک حالیہ انٹرویو میں واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز پاکستانی بحری جہازوں کے لیے مکمل طور پر کھلی ہے اور خام تیل یا گیس لانے والے ٹینکرز ایرانی حکومت سے رابطہ کر کے اس اہم گزرگاہ کو استعمال کر سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندی محض امریکہ، اسرائیل اور ان کے ان اتحادیوں کے لیے ہے جو جارحیت میں ملوث ہیں، جبکہ پاکستان سمیت دیگر دوست ممالک کے لیے بین الاقوامی تجارت کے تمام راستے کھلے ہیں۔
اسی تناظر میں امریکی جریدے بلومبرگ کی ایک رپورٹ نے عالمی توجہ حاصل کر لی ہے، جس کے مطابق پاکستانی پرچم بردار بحری جہاز "کراچی” 8 کروڑ لیٹر سے زائد تیل لے کر ایرانی جزائر لارک اور قشم کے درمیان سے گزرا۔ یہ سفر اس لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ پاکستانی ٹینکر اب ایرانی ساحل کے قریب سے گزر کر ایک "محفوظ راستے” کی علامت بن گیا ہے۔ اس پیشرفت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ خطے میں ایران کا ایک غیر رسمی میرین ٹریفک کنٹرول نظام متحرک ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے اب بحری جہازوں کو محفوظ گزرنے کے لیے ایرانی منظوری لازمی دکھائی دیتی ہے۔
عالمی سطح پر اس کے اثرات اتنے گہرے ہیں کہ اب بھارت اور ترکیہ جیسے ممالک نے بھی ایران سے محفوظ راہداری کی درخواست کر دی ہے، کیونکہ بیمہ کمپنیاں اور عالمی بینک روایتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات سے شدید تشویش کا شکار ہیں۔ یوں پاکستانی ٹینکر کا یہ کامیاب سفر نہ صرف پاکستان کے لیے توانائی کی ترسیل کو یقینی بنا رہا ہے بلکہ خطے میں بحری تجارت کے ایک نئے اور محفوظ نقشے کی بنیاد بھی رکھ رہا ہے۔




