جون 2, 2026

عافیہ صدیقی کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاق سے 20 جنوری تک جواب طلب کر لیا

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی صحت اور وطن واپسی سے متعلق کیس میں وفاقی حکومت کو 20 جنوری تک جواب جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔
لارجر بینچ جسٹس ارباب محمد طاہر کی سربراہی میں جسٹس خادم حسین سومرو، جسٹس محمد اعظم خان اور جسٹس انعام امین منہاس نے فوزیہ صدیقی کی درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار کی جانب سے عمران شفیق ایڈووکیٹ جبکہ وفاق کی طرف سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل راشد حفیظ پیش ہوئے۔
عمران شفیق نے مؤقف اپنایا کہ درخواست بنیادی طور پر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی وطن واپسی سے متعلق ہے، تاہم عدالت نے نشاندہی کی کہ یہ استدعا اصل پٹیشن میں شامل نہیں تھی اور امریکا کے ساتھ مجرمان کی حوالگی کا معاہدہ بھی موجود ہے۔

وکیلِ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت پہلے ہی ہدایات جاری کر چکی ہے جبکہ توہینِ عدالت کی درخواست بھی دائر ہے۔
اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ معاملے میں کئی فارن پالیسی ایشوز حائل ہیں، اور حکومت نے ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج بھی کر رکھا ہے، جو تاحال مقرر نہیں ہوا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ میڈیکل سہولیات کا معاملہ امریکی حکام کے سامنے اٹھانے پر کیا جواب ملا؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ جواب آیا ہے کہ امریکی جیل میں تمام میڈیکل سہولیات دستیاب ہیں، تاہم پاکستان کی طرف سے نامزد ڈاکٹر کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ عدالت اس پٹیشن کو جلد از جلد طے کرنا چاہتی ہے، چار ججز روز روز سماعت کیلئے وقت نہیں نکال سکتے۔ عدالت نے کہا کہ وفاقی حکومت کو اس معاملے میں عملی اقدامات کرنا ہوں گے اور متعلقہ بریف جمع کرایا جائے۔

عدالت نے کیس کی سماعت 20 جنوری تک ملتوی کر دی۔