نومبر 5, 2026

ڈنگہ کے چھوٹے دکانداروں پر بڑے شہروں والا بھاری صفائی ٹیرف مسلط ، میاں وسیم خادم ایڈووکیٹ کی حکومت کو تحریری درخواست، شیڈول موصول ، فوری ری اسٹیٹ کا مطالبہ

ممتاز قانون دان اور سماجی شخصیت میاں وسیم خادم ایڈووکیٹ نے گوجرانوالہ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کی جانب سے ستھرا پنجاب ٹیرف کے نام پر 51 ہزار 500 آبادی والے قصبہ ڈنگہ کو بڑا شہر قرار دے کر بھاری بل بھیجنے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چھوٹے دکانداروں پر بڑے شہروں کے برابر صفائی ٹیرف لاگو کرنا کھلی زیادتی اور معاشی دباؤ ہے۔

چھوٹے کاروباری طبقے کی نمائندگی کرتے ہوئے انہوں نے حکومتِ پنجاب سے وضاحت طلب کی جس کے بعد کیبنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے فنانس اینڈ ڈیویلپمنٹ نے سرکاری ٹیرف شیڈول فراہم کیا۔ اس شیڈول کے مطابق:

پانچ مرلہ تک چھوٹے کاروبار پر 500 روپے ماہانہ

پانچ سے دس مرلہ تک میڈیم بزنس پر 1000 روپے ماہانہ

دس سے بیس مرلہ یا زائد رقبے والے کاروبار پر 3000 روپے ماہانہ صفائی ٹیرف لاگو ہوگا۔

میاں وسیم خادم کے مطابق ڈنگہ بازار میں صرف 5 فیصد دکانیں بڑے رقبے پر قائم ہیں جبکہ 25 فیصد دکاندار ایک سے دو مرلہ کی چھوٹی دکانیں رکھتے ہیں، جن سے 3000 روپے ماہانہ وصول کرنا کسی طور درست نہیں۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ 27 اکتوبر آخری تاریخ تھی لیکن دکانداروں کو 2 سے 6 نومبر کے دوران بل فراہم کیے گئے اور اوور ڈیٹ جرمانے سمیت جمع کروانے کا کہا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ وہ چیف آفیسر میونسپل کمیٹی ڈنگہ عرفان احمد گوندل اور اے سی کھاریاں احمد شیر گوندل سے ملاقات کر کے مطالبہ کریں گے کہ غلط پیمائش اور غیر منظور شدہ ٹیرف کے تحت جاری کیے گئے بلز فوری طور پر ری اسٹیٹ کیے جائیں۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ایک دکان "مولٹی فوم اینڈ پردہ کلاتھ” کو ایک ہی نام کے باوجود دو الگ بل بھیجے گئے ہیں، جو ناانصافی ہے اور کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے دکانداروں پر صفائی کے نام پر اضافی مالی بوجھ ڈالنے کی کوششوں کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے۔