کالمکار : جاوید صدیقی
پاکستان میں وقت کے ساتھ ساتھ فلاحی و رفاہی امور پر کام بڑھتا ھوا دکھائی دیتا رھا ھے۔ بیشتر شہرت و مقبولیت کی بلندیوں تک پہنچے ھیں ، ابتدا میں ایدھی ویلفیئر ٹرسٹ نے ملکی سطح پر فلاحی و رفاہی امور میں اپنا لوہا منوایا پھر دیکھتے ہی دیکھتے کے کے ایف، چھپا، سیلانی اور اب جے ڈی سی سمیت بیشمار این جی اوز ، رفاہی اور فلاحی ادارے نہ صرف پاکستان میں بلکہ دنیا میں معروف ھوچکے ھیں ، انکے علاوہ دیگر کئی ایسی مذہبی تنظیمیں گروہ اور یونین بھی ھیں جو فنڈز کی مد میں اربوں نہیں کھربوں جمع کرتی ھیں ، سوال تو یہ پیدا ھوتا ھے کہ کیا ریاست کے سب سے بڑے ذمہ دار وزیراعظم و صدر نے انکے آڈٹ یعنی حسابات کی جانچ پڑتال کیلئے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کو کبھی پابند کیا کہ ان سب فلاحی و رفاہی اور این جی اوز سمیت دینی مراکز کی سالانہ رپورٹ جاری کریں اور پرنٹ و الیکٹرونک میڈیا کو فراہم کریں تاکہ عطیہ دینے والے حقیقتاً آگاہ ھوسکیں کہ انکی امانت صحیح ہاتھوں میں موجود ھے کہ نہیں یعنی عطیہ دینے والوں کی محنت اور حق حلال کی رقم کس طرح اور کس انداز میں صرف ھورہی ھیں۔ حالیہ دنوں میں جے ڈی سی کے ظفر عباس کی شورش کا سن رکھا ھے۔ جس طرح ظفر عباس کے شتر مرغ کی شہریوں کی طرف سے مخالفت ہوئی ظفر عباس اپنے عمل کی حمایت میں نہ تو کوئی ایک بھی جاندار دلیل لاسکے ہیں نہ ہی ان کو اپنے اس عمل میں کسی بھی طرف سے معمولی پزیرائی مل رہی ہے بلکہ ہر انسان لعن تعن ہی کررہا ہے لہٰذا ان کے اپنے لئے بہتر ہے کہ وہ پورے شہر سے لڑنے کے بجائے اپنی غلطی تسلیم کرلیں اور معافی نہ سہی کم از کم یہ اعلان کردیں کہ وہ آئندہ شتر مرغ نہیں کھلائیں گے۔ باوثوق ذرائع سے معلوم ھوا ھے کہ شتر مرغ جو معمولی قیمت میں ملتا تھا سرمایہ کاروں نے جے ڈی سی کے پلیٹ فارم کو تیار کیا اور چند سو قیمت میں بکنے والا شتر مرغ لاکھوں قیمت پہنچانے کا مقصد عوام کو دھوکہ دینا اور دوسری جانب رفاہی و فلاحی ادارے کے ذریعے چند سو شتر مرغ کا کھانا کھلا کر اربوں روپے بٹورنا ھے جس کی سہولتکاری میں جے ڈی سی کے مالک ظفر عباس ھیں، یاد رھے کہ کراچی سخی دل لوگوں کا شہر ہے، پورے ملک میں خیراتی اور امدادی سرگرمیوں کا سب سے بڑا مرکز یہی شہر ہے، جتنے کھلے دل سے اس شہر کے مخیر تو مخیر مڈل کلاس لوگ فلاحی اور رفاہی سرگرمیوں میں خرچ کرتے ہیں اس کو پوری دنیا تسلیم کرتی ہے۔ یہی وجہ ھے کہ پورے ملک کی فلاحی و رفاہی سرگرمیوں کا سب سے بڑا مرکز کراچی ہی ہے۔ ان میں ایس آئی یو ٹی ، انڈس اسپتال ، ایدھی ویلفیئر ٹرسٹ ، سٹیزن فاؤنڈیشن ، کے جی این ویلفیئر ٹرسٹ ، سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ ، انصار برنی ویلفیئر ٹرسٹ سمیت لاتعداد مثالیں دی جاسکتی ہیں۔ جناح اسپتال کی سائبر نائف اور امراض قلب کے اسپتال کا جو کریڈٹ صوبائی حکومت لیتی ہے، بنیادی طور پر وہ مخیر حضرات کی کاوشوں کا ہی نتیجہ ہیں۔ عمران خان کا شوکت خانم اسپتال کبھی نہ بنتا اگر کراچی کے مخیر حضرات اس میں بھاری رقم نہ لگاتے، شاہد آفریدی اور عالمگیر اپنے اپنے آبائی علاقوں میں جو اسپتال بنارہے ہیں وہ کراچی سے ہی جمع کردہ رقوم کے طفیل ہے۔ جماعت اسلامی کی الخدمت اور ایم کیو ایم کی کے کے ایف سابقہ کی تمام سرگرمیاں بھی کراچی والوں کی فیاض دلی کی مرہون منت رہی ہیں۔ اس حوالے سے درجنوں نہیں ، سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں زندہ مثالیں موجود ہیں۔ پورے ملک میں اگر کہیں آپ کو سماجی خدمات کا نیٹ ورک نظر آئیگا تو وہ بھی صرف کراچی کے مخیر حضرات کے دم پر نظر آئیگا مگر اس شہر کے عام آدمی نے کبھی اس بات کو پسند نہیں کیا کہ پیشہ ور بھکاریوں ، فقیروں یا نشے کے عادی افراد یا کام چوروں کو سڑکوں پر مفت کا کھانا کھلایا جائے۔ ایدھی ، چھیپا ، سیلانی اور جے ڈی سی کے ظفر عباس کو بھی چاہئے کہ وہ سحری اور افطاری کا میلہ سجانے کے بجائے ضرورت مند افراد کو خاموشی سے ماہانہ راشن پہنچادیا کریں، یقین کریں اس میں بھی انکی اتنی ہی واہ واہ ہوگی اور ساتھ میں مستحق کا بھی مسئلہ حل ہوجائے گا۔
جہاں تک جے ڈی سی کے مفت اسکول ، لیبارٹری اور کمپیوٹر لرننگ کا کام ہے وہ بلاشبہ قابل ستائش اور قابل تحسین اور داد کے قابل ہے اس کی ہم سب کو کھل کر حمایت بھی کرنی چاہئے اور حسب توفیق اور استطاعت تعاون بھی کرنا چاہئے۔ مزارات اولیاء سے ملنے والی سالانہ رقم جو محکمہ اوقاف اپنے اکاؤنٹ میں جمع کرکے اشرفیہ کے عیش و تعیش کا ساماں بہم پہنچاتے ھیں اس پر بھی عوامی سطح میں آگاہی اور رپورٹ پیش کرنے کی اشد ضرورت ھے۔ پاکستان مسلم دنیا میں واحد ملک ھے جہاں فلاحی رفاہی اور دینی و مسلکی سطح پر پاکستان سمیت دنیا بھر سے لوگ کھربوں سے زائد رقوم بھیجتے ھیں اس کا حساب لینا ریاست کی براہ راست ذمہداری ھے اس ذمہداری میں آئین و دستور ، عدلیہ ، مقننہ اور انتظامیہ کو براہ راست عمل کرنے کا حق دیتی ھے یہی نہیں بلکہ قرآن و احادیث اور اخلاقیات پابند کرتا ھے کہ عوامی دولت کا غیر قانونی استعمال سنگین جرم ھے جس کی سزا تختہ دار سے کم نہیں۔ اب دیکھنا یہ ھے کہ کیا ریاست پاکستان اور ملک پاکستان سیاسی و اشرفیائی مافیاؤں قوتوں کے ہاتھوں کھلونا بنتی رہی گی یا کوئی ایمان کامل ، عشق رسول ﷺ سے لبریز با عمل با کردار با اختیار اس ملک و قوم کی قسمت بدلنے کیلئے ان مافیاؤں کے خلاف جہاد کیلئے اترتا ھے کہ نہیں وقت بہت کچھ حقائق عیاں کرتا ھے ، تاریخ ہمیشہ اچھے کو اچھا اور برے کو برا کہتی ھے تاریخ کسی کی غلام اور قدغن کی پابند نہیں۔۔۔۔!!





