ڈنگہ (میاں احتشام اللہ اسلم) سینئر پارلیمنٹرین‘ سابق صوبائی وزیر‘ راہنما مسلم لیگ ن میاں طارق محمود نے ”عوامی رابطہ ڈے“ پر میاں ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے عوام نے 1988ء میں ایم پی اے کی سیٹ پر بھاری تعداد میں ووٹ دے کر بٹھایا تو میں نے عہد کیا کہ ڈنگہ کو قصبہ سے ترقی دے کر شہر بناؤں گا۔ اس وقت صورت حال یہ تھی کہ ہماری بیٹیوں کو گریجوایشن کی تعلیم کے لئے زمیندارہ کالج گجرات یا گرلز ڈگری کالج منڈی بہاؤالدین جانا پڑتا تھا۔ جس کے باعث والدین اپنی بچیوں کو میٹرک کے بعد تعلیم ہی نہیں دلواتے تھے۔ میں نے بہت سے سیاسی دوستوں کو ناراض کر کے اس سرکاری جگہ پر ڈنگہ کا پہلا گرلز ڈگری کالج تعمیر کروایا جو آج گورنمنٹ گریجوایٹ گرلز کالج ہے۔ خود میں اور ہمارے تمام نوجوان میٹرک کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لئے گجرات‘ منڈی بہاؤالدین اور جہلم جاتے تھے۔ میں نے مسلسل کوشش کر کے گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج بنوایا۔ جس کے باعث کم آمدن والے خاندانوں کے بچے گریجوایشن حاصل کرنے کے قابل ہو سکے۔ ڈنگہ میں ایک سول ڈسپنسری ہوتی تھی جس میں کوئی آپریشن نہیں ہوتا تھا میں نے مسلسل کاوش سے اس کو اپ گریڈ کر کے گورنمنٹ تحصیل لیول سول ہسپتال بنوایا۔ اس کے علاوہ گورنمنٹ میٹرنٹی ہسپتال بنوایا تا کہ ہمارے شہر کی خواتین کے بڑے مسئلے حل ہو سکیں۔ پھر میں نے RHC ڈنگہ میں نئے بلاک بنوائے‘ وارڈز کی تعمیر نو کروائی۔ جب 2018ء میں دھاندلی سے میری سیٹ چوری کی گئی اس وقت ڈنگہ گجرات کارپٹ روڈ کا کام جاری تھا اور 6 ایکڑ پر مشتمل سپورٹس اسٹیڈیم کی منظوری کے بعد زمین کی خریداری کے لئے 11 کروڑ کی رقم اسسٹنٹ کمشنر کھاریاں کے اکاؤنٹ میں آ چکی تھی۔ اس میں 4 ایکڑ پر نوجوانوں کے لئے سپورٹس اسٹیڈیم جبکہ دو ایکڑ رقبہ پر خواتین کے لئے الگ واکنگ ٹریک اور ان ڈور جم شامل تھا۔ میرے بعد نہ صرف 11 کروڑ کی رقم واپس چلی گئی بلکہ وہ اسٹیڈیم بھی مکمل نہ ہونے دیا گیا۔ میں نے 10 کروڑ کی گرانٹ منظور کروائی تھی ڈنگہ کا رنگ روڈ بنوانے کے لئے مگر بعد والوں نے پیچھا نہیں کیا تو وہ منصوبہ بھی مکمل نہ ہو سکا۔ میں نے اقتدار میں نہ ہوتے ہوئے اتووالہ تا امرہ کلاں تک ڈنگہ کھاریاں کارپٹ روڈ کا کام چھوڑ کر ٹھیکیدار رقم لے کر غائب ہو چکا تھا لوگ شدید مشکلات کا شکار تھے تو میں نے چیف سیکرٹری پنجاب اور وزیر اعلیٰ سے ملاقات کر کے سڑک کی تکمیل کے لئے 58 کروڑ کی اسپیشل گرانٹ اور بعد ازاں 24 کروڑ کی اضافی گرانٹ منظور کروائی جس کے باعث سڑک مکمل ہو سکی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ڈنگہ کے تینوں ہسپتالوں میں سٹاف کی بے حد کمی ہے میں نے CEO ہیلتھ سے تینوں ہسپتالوں کی خالی سیٹیں حاصل کر لی۔ میں جلد وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقات کر کے ان شاء اللہ ان میں سٹاف کی کمی ضرور پوری کرواؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈنگہ کے لوگوں نے ہمیشہ مجھے ووٹ دیئے ان کا مجھ پر حق ہے کہ وہ اپنے مسائل لے کر میرے پاس آئیں میں ضرور حل کروانے کے لئے کوشش کروں گا۔





