ڈنگہ (سٹاف رپورٹر) تیل کی روزانہ قیمتوں میں اضافہ کا جواز۔ ڈنگہ کے لوگوں پر مہنگائی کا طوفان ٹوٹ پڑا۔ پرائس کنٹرول کمیٹی گجرات‘ ڈپٹی کمشنر‘ اسسٹنٹ کمشنر کھاریاں اور تمام پرائس کنٹرول مجسٹریٹس مکمل خاموش۔ گراں فروشوں اور ناجائز منافع خوروں کو کھلی چھٹی۔ روز مرہ استعمال کی اشیاء سبزی فروٹ‘ گھی‘ پتی‘ مرچ‘ صابن کی قیمتیں آسمان تک پہنچ گئیں۔ مرغ کے گوشت‘ چھوٹے اور بڑے گوشت کے الگ ہر علاقے کے قصاب نے الگ الگ ریٹ مقرر کر دیئے۔ دودھ‘ دہی کے من مانے ریٹس‘ آٹے اور دالوں کے بھاؤ بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو گئے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کہتے ہیں کہ ڈپٹی کمشنر گراں فروشوں کے خلاف سخت کاروائی کریں۔ پیرا فورس کو بھی خصوصی ٹارگٹ دیا گیا ہے۔ تا ہم ان میں سے کوئی بھی ڈنگہ آ کر ریٹس چیک نہیں کرتا۔ مارکیٹ کمیٹی ہر روز ریٹ لسٹ جاری کرتی ہے۔ ٹھیکیدار دکانوں‘ ریڑھیوں پر دے کر پیسے وصول کر کے خاموش بیٹھ جاتے ہیں۔ اگر ان کے کلرک سفید لباس میں بازار جا کر چیک کریں تو ان کو علم ہو کہ آٹے دال کا بھاؤ کیا ہے۔ ناجائز منافع خوری اور مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے والوں کے خلاف کسی نوع کی کوئی کاروائی نظر نہیں آتی۔ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس عرصہ دراز سے مارکیٹوں میں آنا چھوڑ گئے ہیں۔ عوام مہنگائی کے ہاتھوں بے حال ہیں۔ نہ حکومت اور نہ انتظامیہ ان کی پکار سننے کو تیار ہے۔ ارکان اسمبلی تو ویسے بھی عوام کے دکھوں میں شریک ہونا پسند نہیں کرتے۔





