امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے حوالے سے اپنے حالیہ بیان میں سخت شرائط عائد کر دی ہیں۔ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ٹروتھ سوشل’ پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ ایران کو اس بات کی ضمانت دینی ہوگی کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار یا بم حاصل نہیں کرے گا۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کو بغیر کسی ٹول ٹیکس کے فوری طور پر ہر قسم کی جہاز رانی کے لیے کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ سمندر میں موجود بارودی سرنگوں کو ختم کرنے کا عمل شروع ہو چکا ہے اور باقی ماندہ سرنگوں کو ایران فوری طور پر ہٹانے کا پابند ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز میں جاری امریکی بحری ناکہ بندی ختم کی جا رہی ہے تاکہ پھنسے ہوئے جہاز اپنی منزل کی جانب روانہ ہو سکیں۔ جوہری معاملے پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس حملے میں زمین دوز ہونے والے افزودہ مواد کو امریکا اور چین اپنی تکنیکی مہارت سے نکال کر بین الاقوامی ایجنسی کی نگرانی میں تباہ کریں گے۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ تاحکم ثانی ایران کو کوئی مالی ادائیگی نہیں کی جائے گی اور حتمی فیصلے کے لیے سچویشن روم میں اعلیٰ سطح کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔





