جون 1, 2026

محمد اکرم بھٹہ ، ایک عہد ساز شخصیت

از قلم: فیصل جنجوعہ

زندگی میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو محض انسان نہیں بلکہ ایک مکمل ادارہ، ایک فکر اور ایک تربیتی مکتب بن جاتی ہیں۔ سر محمد اکرم بھٹہ بھی انہی عظیم شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی علم، نظم و ضبط، اخلاق، کردار سازی اور انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کیے رکھی۔ آج ان کی وفات کی خبر نے نہ صرف ان کے اہلِ خانہ اور قریبی احباب بلکہ ان تمام لوگوں کو غمزدہ کر دیا ہے جنہوں نے کبھی ان کی صحبت، شفقت، تربیت یا رہنمائی حاصل کی۔

سر محمد اکرم بھٹہ کی شخصیت میں ایک عجیب وقار، سنجیدگی اور تاثیر تھی۔ وہ گفتگو کم مگر معنی خیز کرتے تھے۔ ان کے چہرے پر استادانہ رعب کے ساتھ ایک باپ جیسی شفقت بھی جھلکتی تھی۔ وہ ان اساتذہ میں سے تھے جو صرف نصاب نہیں پڑھاتے بلکہ انسان بناتے ہیں۔ ان کا یقین تھا کہ ایک اچھا طالب علم صرف کتابوں سے نہیں بلکہ مضبوط کردار، اعلیٰ اخلاق، وقت کی پابندی اور ذمہ داری کے احساس سے پہچانا جاتا ہے۔ اسی لیے انہوں نے ہمیشہ تعلیم کے ساتھ تربیت کو ترجیح دی۔

آج اگر ان کے شاگرد زندگی کے مختلف شعبوں میں کامیاب، باوقار اور ذمہ دار انسان کے طور پر پہچانے جاتے ہیں تو اس میں سر محمد اکرم بھٹہ کی محنت، دعائیں اور تربیت شامل ہے۔ انہوں نے کئی نسلوں کی ایسی رہنمائی کی جس کے اثرات آج بھی معاشرے میں نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے شاگرد نہ صرف خود ان کے اصولوں پر چلتے ہیں بلکہ اپنی اولاد کی تربیت میں بھی انہی اقدار کو منتقل کرتے نظر آتے ہیں۔ یہی کسی استاد کی اصل کامیابی اور صدقۂ جاریہ ہوتا ہے۔

سر محمد اکرم بھٹہ نظم و ضبط کے معاملے میں انتہائی اصول پسند تھے۔ وہ وقت کی پابندی، ذمہ داری اور ادارہ جاتی نظم کو کامیابی کی بنیاد سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک ڈسپلن صرف چند قوانین کا نام نہیں تھا بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ نوجوان نسل اپنی زندگی کو ترتیب، مقصد اور اصولوں کے مطابق گزارے۔ ان کی شخصیت کی یہی مضبوطی انہیں دوسروں سے ممتاز کرتی تھی۔

ان کی زندگی آسانیوں سے بھرپور نہیں تھی۔ وقت نے انہیں مختلف آزمائشوں، پریشانیوں اور جسمانی و ذہنی صحت کے چیلنجز سے گزارا، مگر انہوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔ وہ ایک مضبوط اعصاب اور بلند حوصلے کے مالک انسان تھے۔ بیماری، مشکلات اور حالات کی سختیوں کے باوجود ان کے عزم میں کبھی کمزوری نہیں آئی۔ انہوں نے ہمیشہ صبر، وقار اور استقامت کے ساتھ ہر مشکل کا مقابلہ کیا۔ ان کی یہی جرات اور ثابت قدمی دوسروں کے لیے بھی حوصلے اور امید کا سبب بنتی رہی۔

سر محمد اکرم بھٹہ کا تعلق صرف ایک تعلیمی ادارے یا محدود حلقے سے نہیں تھا بلکہ وہ ایک پوری سوچ اور نظریے کے نمائندہ تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ معاشرے میں ایسے نوجوان پروان چڑھیں جو صرف ڈگریاں رکھنے والے نہ ہوں بلکہ کردار، اخلاق، سچائی اور خدمت کے جذبے سے آراستہ ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تربیت پانے والے افراد آج بھی ان کا نام عزت، محبت اور عقیدت سے لیتے ہیں۔

ان کی محفل میں بیٹھنے والے جانتے ہیں کہ وہ کتنے درد مند، مخلص اور حقیقت پسند انسان تھے۔ وہ نوجوانوں کی اصلاح کے لیے سختی بھی کرتے تھے مگر اس سختی کے پیچھے ایک گہری محبت اور خیر خواہی چھپی ہوتی تھی۔ وہ اپنے شاگردوں کی کامیابی پر خوش ہوتے اور ان کی غلطیوں پر فکر مند رہتے تھے۔ یہی احساسِ ذمہ داری انہیں ایک حقیقی معلم بناتا تھا۔

آج ان کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد ایک عجیب خاموشی محسوس ہو رہی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے معاشرے سے ایک مضبوط ستون اٹھ گیا ہو۔ ان کی آواز، ان کی نصیحتیں، ان کا اندازِ گفتگو، ان کا نظم و ضبط اور ان کی تربیت ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ وہ بظاہر ہم سے جدا ہو گئے ہیں مگر ان کے اصول، ان کی تعلیمات اور ان کا کردار ہمیشہ زندہ رہے گا۔

یہ حقیقت ہے کہ کچھ لوگ دنیا سے جانے کے بعد بھی اپنے اعمال، اپنی تربیت اور اپنی سوچ کی صورت میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ سر محمد اکرم بھٹہ بھی انہی خوش نصیب لوگوں میں شامل ہیں۔ ان کی زندگی آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔

بوجھل آنکھوں، غمزدہ دل اور بے شمار یادوں کے ساتھ ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ سر محمد اکرم بھٹہ کی مغفرت کاملہ فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، ان کی تمام لغزشوں کو معاف فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے آمین۔