نومبر 6, 2026

موجودہ حکومت کو ڈس کریڈٹ کر کے متبادل انتظام کی کوششیں کی جا رہی ہیں: خواجہ آصف

اسلام آباد: وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ پنجاب میں کرپشن سے متعلق بیانیے کا اصل مقصد ‘الٹرنیٹ ارینجمنٹ’ (متبادل انتظام) بنانے کے لیے جگہ فراہم کرنا ہے تاکہ موجودہ حکومت کو ڈس کریڈٹ کیا جا سکے، اور جب حکومت ڈس کریڈٹ ہو جائے تو یہ لوگ ایک فریش ٹیم کو پیش کر سکیں۔

ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے انکشاف کیا کہ کچھ سرمایہ دار بھی ‘کارپیٹ بیگ’ لے کر پچھلے 8 سے 10 ماہ سے متحرک ہوئے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ یہ ایک نیا گروپ تشکیل دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2 سال بعد الیکشن ہونے ہیں اور ان متحرک عناصر کا خیال ہے کہ ہماری جنریشن پرانی ہو رہی ہے اور شاید ہم ریٹائر ہو جائیں یا الیکشن نہ لڑیں، لہذا جو لوگ آج 50 برس کے آس پاس ہیں اور جن میں سرمایہ دار بھی شامل ہیں، شاید ان کا نیا گروپ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کرپشن تو سارے پاکستان میں ہے اور ہر عام آدمی صبح شام کرپشن کا سامنا کرتا ہے۔

مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ جب مولانا صاحب نے ان کے بارے میں بات کی تو انہوں نے بھی جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ نظریاتی اختلافات اپنی جگہ لیکن اتنی تلخی نہیں ہونی چاہیے کہ سلام دعا کے بھی روادار نہ رہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نظریاتی اختلافات میں بھی دو نمبری نہیں ہونی چاہیے، جبکہ تحریک انصاف نے اپنے چار سالہ دور میں سیاسی ماحول میں بہت زہر گھولا ہے۔

سیاسی جوڑ توڑ اور ڈیلز پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے نہ کبھی فکسڈ گیم کھیلی ہے اور نہ ہی وہ کبھی ایسی گیموں کے کھلاڑی رہے ہیں۔ خواجہ آصف کے مطابق ان کا نہیں خیال کہ حکومت کھولے گئے کیسز واپس بند کرے گی، کیونکہ اگر ہم ایسی فکسڈ گیم کھیلیں گے تو پھر اس کی قیمت ہمیں ادا کرنا پڑے گی، مولانا صاحب کو نہیں۔

وفاقی وزیر نے اپوزیشن اتحاد پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ وقت بھی دیکھنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان جن کو صیہونی جماعت کہتے تھے، آج ان کے والی وارث بن گئے ہیں۔ اس جماعت نے اب مولانا کی پناہ گاہوں میں پناہ لے لی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے ماضی میں ایک دوسرے کے خلاف باتیں کی تھیں جو کہ کرپشن کی بنیاد پر تھیں، اور ن لیگ و پیپلز پارٹی میں یہ باتیں پہلے بھی چلتی تھیں اور آگے بھی چلتی رہیں گی، لیکن تحریک انصاف کو تو مولانا خود صیہونی جماعت ڈکلیئر کرتے تھے، اور اب وہ ان کی نظر میں اسرائیل کے ایجنٹ نہیں رہے بلکہ اب ان کے درمیان پیار و محبت کی پینگیں بڑھ رہی ہیں۔