تحریر: سعید احمد گجر
چیئرمین پنجاب ایلیمنٹری سکول ٹیچرز ایسوسی ایشن ضلع گجرات ، سابق DTE
تعلیمی افق پر کچھ ستارے ایسے ہوتے ہیں جو اپنی روشنی سے نہ صرف اپنے لیے راستہ بناتے ہیں بلکہ مسافروں کے مقدر بھی بدل دیتے ہیں۔ ایسی ہی ایک ہمہ جہت شخصیت، خوش لباس ، خوش گفتار ، محترم جناب رفاقت محمود صاحب کی شخصیت ہے، جو اپنی طویل اور شاندار ملازمت کے بعد آج ہی سبکدوش ہوئے ہیں۔ ان کی ریٹائرمنٹ محض ایک سرکاری عمل نہیں بلکہ ایک ایسے سنہری دور کا اختتام ہے جس نے سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں ذہنوں کو جلا بخشی ہے۔
ایک سچا معلم، ایک سچا مدرس ، رفاقت محمود ، جس کے بارے میں یہ جملہ زبان زدِ عام ہے کہ وہ "اتفاق سے نہیں بلکہ انتخاب سے” استاد بنے۔ جس دور میں لوگ تدریس کو محض ایک پیشہ سمجھتے تھے، انہوں نے اسے ایک مشن کے طور پر اپنایا۔ ان کا ہر لیکچر، ہر سبق ، ہر نصیحت اور ہرعمل اس بات کی گواہی دیتا تھا کہ وہ اس منصب کے لیے قدرت کی طرف سے منتخب کیے گئے ہیں۔
جناب رفاقت محمود صاحب کی شخصیت میں ایک خاص قسم کا وقار اور رعب اور دبدبہ ہے ، جو شاگردوں کے دلوں میں ڈر نہیں بلکہ احترام پیدا کرتا تھا۔ ان کی نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:
پُر اثر آواز: نعت گوئی آپ کا شوق تھا اپنی کلاس میں اپنے سکول میں یا کوئی بھی پروگرام ہو وہاں پہ آپ نعت پڑھتے تو کم از کم مجھے ایسا لگتا تھا کہ پرندے بھی خاموشں ہو کر سن رہے ہیں۔
دورانِ تدریس آپ کی آواز کی گونج جماعت کے آخری بنچ تک نہ صرف سنائی دیتی تھی بلکہ طالب علموں کے ذہنوں پر نقش ہو جاتی تھی۔
مضمون پر کامل عبور: انگلش جیسے پیچیدہ مضامین کو اس قدر سہل اور دلچسپ بنا کر پیش کرنا کہ وہ طلبہ کے لیے بوجھ کے بجائے شوق بن جائیں، یہ ان کا خاصہ رہا۔
وقت کی پابندی: پوری سروس کے دوران ان کی حاضری کا ریکارڈ مثالی رہا۔ سردی ہو یا گرمی ، دھوپ ہو یا چھاؤں ، بارش ہو یا طوفان، رفاقت محمود صاحب کا بر وقت ڈیوٹی پر پہنچنا ایک ایسی روایت تھی جس میں کبھی لغزش نہیں آئی۔
جدید تعلیم کے علمبردار۔
دسمبر 2006 میں ڈسٹرکٹ ٹیچر ایجوکیٹر DTE کی حیثیت سے کلسٹر گورنمنٹ ہائی سکول امرہ کلاں کو جوائن کیا
آپ نے اس کٹھن دور میں جدید تعلیم کے طریقہ ہائے تدریس کو عام کرنے، ٹیچرز کو لیسن پلاننگ ٹیچرز ڈائری ، سٹوڈنٹس بوم ورک، سٹوڈنٹ اسیسمینٹ ، اساتذہ کی مینٹورنگ جیسے چیک اینڈ بیلنس کا بیڑہ اٹھایا جبکہ اس طرح کے مینٹور اساتذہ کا ملنا محال تھا۔ آپ نے نہ صرف نصابی کتب پڑھائیں بلکہ اساتذہ میں سائنسی سوچ، مشاہدہ اور تحقیق کا مادہ، جدید دور کی ٹکنیکس نیو میتھڈیالوجی دنیا بھر میں مختلف طریقہ ہائے تدریس جیسی نمایاں خدمات سرانجام دے کر پرائمری سکول ٹیچرز کو کامیاب ٹیچر بنایا ، آج ان کے لگائے ہوئے پودے کے ثمر آور درخت بننے کی دلیل ہے۔
بطور ماسٹر ٹرینر آپ نے نہ صرف اپنے ضلع میں، اپنے شہر میں بہت سارے اساتذہ کی تربیت کی، بلکہ ضلع جھنگ ، ضلع گوجرانوالہ اور اور ضلع جہلم میں بھی اساتذہ کی تربیت کی اور ایک بہترین ماسٹر ٹرینر کی حیثیت سے لوہ منوایا۔
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ٹیوٹر ہونے کی حیثیت سے بہت سارے طلباء کی اپ بہترین طریقے سے رہنمائی فرماتے رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ عملی ورکشاپس میں طلبہ اور اساتذہ کی بہترین تعلیم و تربیت کرتے رہے ہیں۔
بحیثیت کولیگ میں یہ بات فخر سے کہہ سکتا ہوں، کہ رفاقت صاحب ایک بہترین نعت خواں، ایک بہترین استاد ، ایک بہترین منٹور ، ایک بہترین رہنما ، ایک بہترین دوست ثابت ہوئے ہیں۔ اپ ایک بہترین مزاح نگار بھی ہیں لیکن کبھی بھی ہاتھ سے اخلاق کا دامن گرنے نہیں دیا ۔ اپ اردو ادب سے بہترین لگاؤ رکھتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اپ کا بہت وسیع حلقہ احباب ہے جس کے اپ روح رواں ہیں۔ محفل منعقد کرنا اور محفلوں کو جوائن کرنا اپ کی گھٹی میں شامل ہے، گویا آپ یاروں کے یار اور زندہ دل انسان ہیں ۔
محترم رفاقت محمود صاحب دل کے عارضے میں مبتلا ہیں آپ کے دل کا اپریشن ہو چکا ہے لیکن اپ نے اپنے فرائض میں اس چیز کو کبھی بھی اڑے نہیں انے دیا، کبھی مایوس نہیں ہوئے کبھی ہمت نہیں ہاری، جب کبھی اس حوالے سے ان سے بات ہوئی تو انہوں نے ایسے بات کی گویا بات ہے ہی کوئی نہیں، بلکہ وہ ہمیں حوصلہ دیتے ہیں۔ اللہ تعالی ان کو صحت کاملہ و عاجلہ عطا فرمائے۔
الوداعی لمحات اور دعائیہ کلمات
اپ کی الوداثئی تقریب کا اہتمام ڈنگہ کے ایک مشہور والی شان ریسٹورنٹ میں کیا گیا پورے ریسٹورنٹ کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا اور بہت سارے دوست، احباب، رشتہ دار اور کولیگز نے اپ کو الوداع کہا پروگرام کے اختتام پر مہمانان گرامی کی انتہائی پرتکلف تواضع کی گئی۔
آپ کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر تعلیمی حلقوں میں جہاں اداسی کی لہر ہے، وہی ان کی خدمات پر فخر کا احساس بھی پایا جاتا ہے۔ ساتھی اساتذہ اور طلبہ کی جانب سے انہیں ان الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا گیا:
”رفاقت محمود صاحب جیسے اساتذہ کسی بھی ادارے کا اصل اثاثہ ہوتے ہیں۔ وہ ایک انمول ہیرے کی مانند ہیں جن کی چمک کبھی مانند نہیں پڑے گی۔”
ہم دل کی اتھاہ گہرائیوں سے جناب رفاقت محمود صاحب کو ان کی کامیاب سروس کی ریٹائرمنٹ پر مبارکباد اور خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد کی زندگی ان کے لیے صحت، تن درستی، ذہنی سکون اور بے شمار خوشیوں کا پیش خیمہ ثابت ہو۔ آپ کا نام اور کام تعلیمی اداروں کی تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔
اللہ تعالی محترم رفاقت محمود صاحب کو صحت و تن درستی اور ایمان والی عمر خضر عطا فرمائے اور اپ کا سایہ تا قیامت اپنے بچوں پر قائم فرمائے۔





