تحریر: محمدانوربھٹی
بندن میاں آج ریلوے اسٹیشن کی اسی خستہ حال بینچ پر بیٹھے تھے جہاں وقت کی تھکن اور نظام کی بے حسی ایک دوسرے سے گلے ملتی محسوس ہوتی ہے شام کی زرد روشنی پٹریوں پر ایسے بکھری ہوئی تھی جیسے کسی نے امید کے چراغ کو آہستہ آہستہ مدھم کر دیا ہو مگر آج بندن میاں کے چہرے پر ایک عجیب سی سنجیدگی تھی جیسے وہ کسی ایسی خبر کے بوجھ تلے دبے ہوں جو عام نہیں بلکہ زمانے کا رخ موڑنے کی صلاحیت رکھتی ہو انہوں نے چائے کا کپ اٹھایا ایک گھونٹ لیا اور دھیرے سے بولے کہ بیٹا آج کی بات صرف خبر نہیں بلکہ وہ راز ہے جو خود زبان پر آ گیا ہے اور جب راز خود بولنے لگیں تو سمجھ لو کہ کھیل بدلنے والا ہے بندن میاں نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ آج ہی تھریڈ اور ویڈیو کے ذریعے منظر عام پر آیا ہے کہ دس آئل ٹینکر پاکستانی جھنڈے لگا کر آبنائے ہرمز سے گزرے اور اس عمل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی گفٹ قرار دیا ہے یہ وہ واقعہ ہے جو محض تجارتی خبر نہیں بلکہ عالمی سیاست کی ایک علامتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور اس بیان میں ٹرمپ نے واضح کیا کہ جب یہ عمل مکمل ہوا تو انہیں یقین ہو گیا کہ وہ ٹھیک لوگوں یعنی ایرانیوں اور درست ذریعے یعنی پاکستان کے ذریعے بات کر رہے ہیں بندن میاں نے کہا کہ یہ الفاظ عام نہیں ہیں یہ وہ جملے ہیں جو عام طور پر خفیہ مذاکرات میں بندکمرے میں کہے جاتے ہیں مگر جب یہ سب کچھ پبلک ہو جائے تو یہ صرف خبر نہیں بلکہ ایک جاندار اشارہ بن جاتا ہے اور یہ سوال بھی پیدا کر دیتا ہے کہ کیا یہ بیان ایرانی اور پاکستانی مذاکراتی ٹیم کے کام کو مشکل کر دے گا یا پھر ایک سگنل ہے کہ رابطے جاری رکھو، کوئی ٹینشن نہیں بندن میاں نے کہا کہ سب سے پہلے ہمیں اصل خبر کی تفصیل سمجھنی ہوگی آبنائے ہرمز وہ حساس ترین مقام ہے جہاں سے دنیا کی توانائی کی نبض گزرتی ہے اور یہاں سے ہر جہاز نہ صرف تیل بلکہ عالمی سیاست کی سمت بھی لے کر گزرتا ہے اگر دس آئل ٹینکر کسی خاص شناخت کے ساتھ گزرتے ہیں تو یہ محض تجارتی عمل نہیں بلکہ ایک پیغام بھیجنے کے مترادف ہے بندن میاں نے کہا کہ اب ذرا سوچو کہ اگر واقعی ایران اور پاکستان کے درمیان کوئی بیک ڈور چینل کے ذریعے رابطہ تھا اور وہ کامیابی سے جاری تھا تو اس کا سرعام ذکر ہونا ایک طرح سے مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہو سکتا ہے کیونکہ بیک ڈور ڈپلومیسی کی سب سے بڑی طاقت خاموشی ہوتی ہے وہاں نہ میڈیا کی چیخ ہوتی ہے نہ عوامی دباؤ بلکہ صرف اعتماد اور مکمل معلومات پر مبنی فیصلہ ہوتا ہے مگر جیسے ہی یہ خاموشی ٹوٹتی ہے تو وہی اعتماد مشکوک ہو جاتا ہے اور مذاکرات کی سمت متاثر ہو سکتی ہے بندن میاں نے کہا کہ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص اندھیرے میں چراغ جلا کر راستہ تلاش کر رہا ہو اور اچانک کوئی اس چراغ کو سب کے سامنے لے آئے اب وہ نہ صرف خود نظر آئے گا بلکہ اس کا راستہ بھی سب کو دکھائی دے گا اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں خطرہ بڑھ جاتا ہے بندن میاں نے کہا کہ اس پورے معاملے کا دوسرا پہلو سگنل دینا ہے بعض اوقات لیڈرز جان بوجھ کر کچھ باتیں پبلک کرتے ہیں تاکہ مخالف یا اتحادی کو پیغام جائے کہ ہمیں سب معلوم ہے اور ہم اس چینل کو قبول بھی کر رہے ہیں یا اس پر نظر رکھے ہوئے ہیں بندن میاں نے کہا کہ اگر اس بیان کو اس زاویے سے دیکھا جائے تو یہ ایک گرین سگنل بھی ہو سکتا ہے کہ بات چیت جاری رکھو، ہمیں اعتراض نہیں اور راستہ بند نہیں ہے بلکہ ہم دیکھ رہے ہیں بندن میاں نے کہا کہ یہ ایسے ہی ہے جیسے استاد شاگرد کو کہتا ہے میں تمہاری ہر حرکت سے واقف ہوں مگر تم اپنا کام جاری رکھو اس سے شاگرد کو اعتماد ملتا ہے اور استاد کی نگرانی بھی قائم رہتی ہے بندن میاں نے تیسرے پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسے داخلی سیاست کے تناظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کیونکہ ٹرمپ مڈٹرم انتخابات کے قریب ہیں اور وہ اپنی انتخابی کارکردگی اور ایفی شینسی دکھا کر اپنی جیتنے کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ان انتخابات میں عوام اور ووٹرز پر اثر ڈالنا، انہیں یہ باور کرانا کہ صدر ہر خفیہ عمل سے باخبر ہے، داخلی سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے اور ممکن ہے یہ بیان اصل مذاکرات کو نشانہ بنانے کے لیے نہ بلکہ ووٹرز اور عوام کو متاثر کرنے کے لیے دیا گیا ہو بندن میاں نے تینوں پہلوؤں کو یکجا کرتے ہوئے کہا کہ اب سوال یہ نہیں کہ کون سا خدشہ درست ہے بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ کون سا زیادہ غالب ہے اور کس کا اثر زیادہ دیر تک باقی رہے گا اگر یہ سبوتاژ ہے تو آنے والے دنوں میں خاموشی کی جگہ کشیدگی نظر آئے گی، مذاکراتی ماحول سنجیدہ ہو جائے گا اور ایران یا پاکستان کو ہر قدم احتیاط سے اٹھانا پڑے گا اگر یہ سگنل ہے تو رابطے کسی نہ کسی شکل میں جاری رہیں گے اور اگر یہ داخلی سیاست ہے تو اثر زیادہ تر امریکی عوام اور انتخابات پر محدود رہے گا مگر حقیقت اکثر ان تینوں کا مجموعہ ہوتی ہے کیونکہ عالمی سیاست میں ہر قدم بیک وقت کئی سمتوں میں اثر انداز ہوتا ہے بندن میاں نے کہا کہ ہمیں اس خبر کو صرف واقعہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے بلکہ اسے ایک اشارہ سمجھنا چاہیے جو بتا رہا ہے کہ دنیا کے بڑے کھیل اب بھی خاموشی کے پردوں میں کھیلے جا رہے ہیں اور ہم صرف ان کی بازگشت سن رہے ہیں بندن میاں نے کہا کہ یہ جو ویڈیو اور بیان تھریڈ کی شکل میں سامنے آیا ہے اس میں الفاظ سے زیادہ خاموشیاں بول رہی ہیں، جملوں سے زیادہ اشارے ہیں، خبر سے زیادہ پیغام ہے اور یہی وہ چیز ہے جو اسے عام خبر سے الگ بناتی ہے بندن میاں نے کہا کہ جب کوئی طاقتور لیڈر کسی خفیہ عمل کو پبلک کرتا ہے تو وہ صرف ایک بات نہیں کرتا بلکہ بیک وقت کئی دروازے کھولتا اور بند کرتا ہے وہ اعتماد بھی پیدا کرتا اور خوف بھی، راستہ دکھاتا اور رکاوٹ بھی کھڑی کرتا یہی عالمی سیاست کی اصل پیچیدگی ہے کہ ہر قدم بیک وقت کئی معنی رکھتا ہے بندن میاں نے کہا کہ ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ دنیا بدل چکی ہے اب راز زیادہ دیر راز نہیں رہتے اب ہر بات کسی نہ کسی شکل میں سامنے آ جاتی ہے مگر کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں سامنے لانے کا وقت بہت اہم ہوتا ہے اور اگر وہ وقت غلط ہو تو اثرات بھی غلط ہو سکتے ہیں یہ وہ نکتہ ہے جہاں ہمیں رک کر سوچنا چاہیے کہ کیا یہ بیان صحیح وقت پر آیا یا اس نے وقت سے پہلے پردہ اٹھا دیا اور ہمیں اس کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اگلے اقدامات کرنے ہوں گے بندن میاں نے کہا کہ اصل اثر یہ ہوگا کہ ایرانی اور پاکستانی مذاکراتی ٹیم کو اب اپنے اگلے قدم کے بارے میں زیادہ احتیاط کرنی ہوگی کیونکہ تمام دنیا دیکھ رہی ہے کہ رابطے کہاں سے ہو رہے ہیں اور کس نے ان کی حمایت کی ہے اگر مخالف قوت نے اسے غلط زاویے سے لیا تو مذاکراتی ماحول میں غیر ضروری ٹینشن پیدا ہو سکتی ہے بندن میاں نے کہا کہ ہمیں ہر زاویے کو دیکھنا ہوگا تاریخی، سیاسی، اقتصادی اور اخلاقی پہلو ہر ایک اہم ہے کیونکہ عالمی سیاست میں ایک چھوٹا سا اقدام بھی طویل مدتی اثرات رکھتا ہے اور اسی طرح اس بیان کے ذریعے نہ صرف ایرانی اور پاکستانی مذاکرات پر اثر پڑے گا بلکہ علاقائی طاقتوں اور عالمی برادری کے ردعمل پر بھی اثر پڑ سکتا ہے بندن میاں نے کہا کہ عوام کی رائے کیسے بنتی ہے، میڈیا اسے کس زاویے سے پیش کرتا ہے، یہ بھی اہم ہے کیونکہ پبلک رائے بعض اوقات مذاکراتی عمل پر زیادہ اثر ڈالتی ہے جتنا کہ سرکاری بیان یا خفیہ ملاقاتیں ڈال سکتی ہیں بندن میاں نے کہا کہ آخر میں ہمیں سمجھنا ہوگا کہ نہ تو مکمل حیرت کی ضرورت ہے اور نہ ہی مکمل یقین کی بلکہ ضرورت ہے سمجھ کی بصیرت اور اس شعور کی جو ہمیں الفاظ کے پیچھے چھپے مفہوم کو سمجھنے کی طاقت دے کیونکہ یہی وہ چیز ہے جو ایک عام انسان کو بھی غیر معمولی بنا دیتی ہے اور یہی فرق ہے جو وقت کے ساتھ سچ کو جھوٹ سے اور حقیقت کو کہانی سے الگ کر دیتا ہے بندن میاں اٹھے اپنے کپ کو ایک طرف رکھا اور جاتے جاتے مسکراتے ہوئے کہا کہ بیٹا حساب سب لگاتے ہیں مگر صحیح حساب وہی لگاتا ہے جو شور میں بھی خاموشی کو سن لے اور خبر میں بھی اشارہ تلاش کر لے یہی ہنر انسان کو صرف سننے والا نہیں بلکہ سمجھنے والا بنا دیتا اور یہی مہارت آزاد اور باشعور معاشرہ پیدا کرتی ہے۔




