تحریر:محمدانوربھٹی
یہ دنیا بظاہر نقشوں میں بٹی ہوئی سرحدوں کا مجموعہ ضرور ہے مگر حقیقت میں یہ طاقت اور مفاد کے ان دیکھے دھاگوں سے جڑی ایک ایسی بساط ہے جہاں اصول اکثر کمزور اور مفادات ہمیشہ غالب رہتے ہیں اور اسی بساط پر جب United States اپنے دفاع کے نام پر بین البراعظمی میزائل تیار کرتا ہے تو اسے عالمی امن کی ضمانت کا لبادہ پہنا دیا جاتا ہے مگر جب یہی عمل Pakistan Iran Turkey China یا North Korea کی طرف سے سامنے آتا ہے تو اسے خطرہ اور عدم استحکام کا استعارہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور یہیں سے اس سوال کی جڑ پھوٹتی ہے کہ کیا اس دنیا میں جینے کا حق صرف طاقتور کو ہے اور کیا باقی اقوام محض ایک ایسے ہجوم کا حصہ ہیں جن کی حیثیت کسی بڑی طاقت کی خواہشات کے سامنے مٹ جانے والی لکیر سے زیادہ نہیں یہ سوال صرف سیاسی نہیں بلکہ اخلاقی اور تہذیبی بھی ہے کیونکہ جب انصاف کے پیمانے بدل جائیں تو انسانیت کی بنیادیں بھی ہلنے لگتی ہیں تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ طاقت کا نشہ ہمیشہ خود کو حق سمجھنے کی بیماری پیدا کرتا ہے اور یہی بیماری عالمی سیاست میں بھی سرایت کرچکی ہے جہاں ہر طاقتور ریاست اپنے اقدامات کو دفاع اور دوسروں کے اقدامات کو جارحیت قرار دیتی ہے حالانکہ حقیقت اس کے برعکس بھی ہوسکتی ہے مگر سچ کی آواز اکثر مفادات کے شور میں دب جاتی ہے یہ وہ مقام ہے جہاں عالمی ادارے بھی بے بس دکھائی دیتے ہیں کیونکہ طاقت کے سامنے اصول اکثر جھک جاتے ہیں اور جب اصول جھک جائیں تو انصاف کا چہرہ مسخ ہو جاتا ہے ایک طرف دنیا کو امن کا درس دیا جاتا ہے اور دوسری طرف اسلحے کے انبار لگائے جاتے ہیں ایک طرف جنگ کے خلاف بیانات دیے جاتے ہیں اور دوسری طرف کمزور ممالک پر حملوں کے جواز تراشے جاتے ہیں یہ دوہرا معیار صرف سیاسی تضاد نہیں بلکہ ایک ایسا فکری بحران ہے جو پوری انسانیت کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے کیونکہ جب ایک قوم کو اپنے دفاع کا حق دیا جائے اور دوسری قوم کو اسی حق سے محروم رکھا جائے تو یہ عدم مساوات نفرت اور بداعتمادی کو جنم دیتی ہے اور یہی بداعتمادی آگے چل کر تصادم کی شکل اختیار کرلیتی ہے اس تناظر میں یہ سوال مزید شدت اختیار کر جاتا ہے کہ کیا واقعی عالمی نظام انصاف پر قائم ہے یا یہ صرف طاقت کا کھیل ہے جہاں اصولوں کی تشریح بھی طاقتور کے مفاد کے مطابق ہوتی ہے اگر ہم تاریخ کے اوراق پلٹیں تو ہمیں بار بار یہی منظر دکھائی دیتا ہے کہ ہر بڑی طاقت نے اپنے عروج کے زمانے میں خود کو ناقابل تسخیر سمجھا مگر وقت نے اسے یہ باور کرایا کہ دوام صرف اصولوں کو حاصل ہے طاقت کو نہیں روم کی سلطنت ہو یا برطانیہ کی نوآبادیاتی قوت ہر ایک نے اپنے زمانے میں یہی سمجھا کہ دنیا اس کے گرد گھومتی ہے مگر وقت نے ان کے غرور کو خاک میں ملا دیا یہی قانون فطرت ہے کہ جو حد سے بڑھ جائے وہ اپنے بوجھ تلے دب جاتا ہے آج اگر کوئی طاقت یہ سمجھتی ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے دنیا پر اپنی مرضی مسلط رکھ سکتی ہے تو یہ اس کی سب سے بڑی غلط فہمی ہے کیونکہ تاریخ کا پہیہ ہمیشہ حرکت میں رہتا ہے اور اس کی گردش کسی کے لیے نہیں رکتی اس سارے منظرنامے میں اصل سوال یہ نہیں کہ کون میزائل بنا رہا ہے بلکہ یہ ہے کہ دنیا میں انصاف کا معیار کیا ہے اگر ایک ملک کو اپنی سلامتی کے لیے ہر ممکن اقدام کا حق حاصل ہے تو یہی حق دوسرے ممالک کو بھی ملنا چاہیے کیونکہ سلامتی کسی ایک قوم کی میراث نہیں بلکہ ہر انسان کا بنیادی حق ہے جب اس حق کو تسلیم نہیں کیا جاتا تو پھر ردعمل پیدا ہوتا ہے اور یہی ردعمل دنیا کو مزید غیر محفوظ بنا دیتا ہے اس لیے اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی سطح پر ایک ایسا نظام قائم کیا جائے جہاں سب کے لیے ایک ہی اصول ہوں جہاں طاقتور اور کمزور کے درمیان فرق نہ کیا جائے جہاں فیصلے مفادات نہیں بلکہ انصاف کی بنیاد پر کیے جائیں مگر یہ خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا جب تک دنیا کے طاقتور ممالک اپنی پالیسیوں میں توازن اور دیانتداری پیدا نہیں کرتے کیونکہ جب تک طاقت کو ہی حق سمجھا جاتا رہے گا تب تک کمزور اپنی بقا کے لیے ہر ممکن راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے اور یہی مجبوری دنیا کو ایک ایسے دائرے میں لے جاتی ہے جہاں امن محض ایک نعرہ بن کر رہ جاتا ہے اس صورتحال میں ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ طاقت کا استعمال وقتی فائدہ تو دے سکتا ہے مگر مستقل استحکام نہیں کیونکہ استحکام ہمیشہ انصاف اور برابری سے آتا ہے جب تک دنیا میں انصاف کا توازن قائم نہیں ہوگا تب تک امن کا خواب بھی ادھورا رہے گا اور یہی وہ حقیقت ہے جسے سمجھنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے کیونکہ اگر دنیا نے اس تضاد کو نہ سمجھا تو آنے والا وقت مزید پیچیدہ اور خطرناک ہوسکتا ہے جہاں ہر ملک اپنے دفاع کے نام پر اسلحے کی دوڑ میں شامل ہوگا اور اس دوڑ کا انجام صرف تباہی ہوگا اس لیے ضروری ہے کہ ہم اس سوچ کو بدلیں کہ صرف طاقت ہی بقا کی ضمانت ہے بلکہ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اصل بقا انصاف اور توازن میں ہے کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو دنیا کو ایک محفوظ اور پرامن مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے اور یہی وہ پیغام ہے جو تاریخ بار بار دیتی ہے کہ جو قومیں انصاف کو نظر انداز کرتی ہیں وہ خود اپنے زوال کی بنیاد رکھتی ہیں اور جو قومیں اصولوں پر قائم رہتی ہیں وہی دیرپا عزت اور استحکام حاصل کرتی ہیں مگر یہاں ایک اور پہلو بھی غور طلب ہے کہ طاقت کے اس کھیل میں صرف ریاستیں ہی نہیں بلکہ عوام بھی ایک خاموش کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ جب قومیں اپنی داخلی کمزوریوں کو نظر انداز کر دیتی ہیں اور اپنی اجتماعی قوت کو منتشر ہونے دیتی ہیں تو بیرونی دباؤ خود بخود بڑھ جاتا ہے اس لیے کسی بھی ملک کی حقیقی طاقت صرف اس کے ہتھیاروں میں نہیں بلکہ اس کے نظام عدل اس کی معیشت اس کی تعلیم اور اس کی اخلاقی بنیادوں میں ہوتی ہے اگر یہ ستون مضبوط ہوں تو کوئی بیرونی طاقت زیادہ دیر تک اس پر اثر انداز نہیں ہو سکتی مگر اگر یہ بنیادیں کمزور ہوں تو پھر معمولی دباؤ بھی بڑے بحران میں بدل جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں وہی قومیں سرخرو ہوئیں جنہوں نے اپنے اندرونی نظام کو درست کیا اور اپنی اجتماعی سوچ کو بیدار رکھا اس کے برعکس وہ قومیں جو صرف بیرونی خطرات کا رونا روتی رہیں مگر اپنے اندر جھانکنے کی ہمت نہ کر سکیں وہ وقت کے ساتھ مٹتی چلی گئیں اس لیے ضروری ہے کہ ہم اس بحث کو صرف عالمی طاقتوں تک محدود نہ رکھیں بلکہ اپنے اندر بھی جھانکیں اور یہ دیکھیں کہ ہم نے اپنی قومی سلامتی کو کس حد تک مضبوط کیا ہے کیا ہم نے انصاف کو اپنی بنیاد بنایا ہے کیا ہم نے اپنے اداروں کو مضبوط کیا ہے کیا ہم نے اپنی نئی نسل کو وہ شعور دیا ہے جو اسے صحیح اور غلط میں فرق کرنے کے قابل بنا سکے کیونکہ اگر یہ سب کچھ موجود نہ ہو تو پھر صرف ہتھیار کسی قوم کو محفوظ نہیں بنا سکتے بلکہ بعض اوقات یہی ہتھیار اس کے لیے ایک بوجھ بن جاتے ہیں اس تناظر میں جب ہم Israel اور دیگر طاقتور ریاستوں کے رویوں کو دیکھتے ہیں تو ہمیں یہ سمجھ آتی ہے کہ دنیا میں طاقت کا توازن صرف عسکری قوت سے نہیں بلکہ فکری اور اخلاقی برتری سے بھی قائم ہوتا ہے اگر ایک قوم اپنے اصولوں پر قائم رہے اور انصاف کو اپنا شعار بنا لے تو وہ دیرپا عزت حاصل کر سکتی ہے مگر اگر وہ صرف طاقت کے نشے میں مست ہو جائے تو اس کا انجام بھی تاریخ کے انہی صفحات میں لکھا جاتا ہے جہاں عروج کے بعد زوال ایک لازمی حقیقت کے طور پر موجود ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں قانون قدرت اپنی پوری شدت کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے کیونکہ قدرت کا نظام کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں کرتا بلکہ ہر عمل کا ایک ردعمل ضرور ہوتا ہے اگر دنیا میں کہیں ظلم ہوگا تو اس کا اثر کہیں نہ کہیں ضرور ظاہر ہوگا اور اگر طاقت کا استعمال حد سے بڑھ جائے گا تو اس کے خلاف ردعمل بھی پیدا ہوگا یہ ردعمل کبھی فوری نہیں ہوتا مگر جب ہوتا ہے تو تاریخ کا دھارا بدل دیتا ہے اس لیے عقل کا تقاضا یہی ہے کہ دنیا کے طاقتور ممالک اپنی پالیسیوں میں توازن پیدا کریں اور یہ تسلیم کریں کہ سلامتی کا حق سب کو برابر حاصل ہے کیونکہ اگر یہ توازن قائم نہ ہوا تو پھر وہی ہوگا جو تاریخ ہمیں بار بار بتاتی ہے کہ جب طاقت انصاف سے جدا ہو جائے تو وہ خود اپنے زوال کا پیش خیمہ بن جاتی ہے اور یہی وہ اٹل حقیقت ہے جسے نظر انداز کرنا کسی کے لیے بھی ممکن نہیں کیونکہ وقت کی عدالت میں نہ کوئی طاقتور ہوتا ہے نہ کمزور وہاں صرف انصاف ہوتا ہے اور یہی انصاف آخرکار فیصلہ سناتا ہے کہ کون حق پر تھا اور کون محض طاقت کے نشے میں حقیقت کو بھول بیٹھا تھا۔




