اپریل 18, 2026

جنگ کے سائے اتحاد کی دراڑیں اور بندن میاں کی آنکھ سے حقیقت

تحریر: محمد انور بھٹی

دنیا کی بساط پر جب طاقت کے مہرے حرکت میں آتے ہیں تو عام آدمی کو صرف شور سنائی دیتا ہے مگر اصل کھیل خاموشی کے پردوں کے پیچھے کھیلا جاتا ہے بندن میاں آج اپنی بوسیدہ چارپائی پر نیم دراز ہیں ہاتھ میں چائے کا کپ ہے اور سامنے دنیا کا نقشہ رکھا ہے وہ نقشہ جس میں رنگ تو بہت ہیں مگر سکون کہیں نہیں بندن میاں آہستہ سے مسکراتے ہیں اور کہتے ہیں یہ جو جنگیں ہوتی ہیں نا میاں یہ صرف بارود سے نہیں لڑی جاتیں یہ اتحادوں کے ٹوٹنے اور مفادات کے بکھرنے کی کہانیاں بھی ہوتی ہیں آج کی صورتحال کچھ ایسی ہی ہے ایک طرف امریکہ ہے جو خود کو عالمی طاقت کا مرکز سمجھتا آیا ہے دوسری طرف ایران ہے جو اپنے وجود اور خودمختاری کی جنگ لڑ رہا ہے اور درمیان میں اسرائیل ہے جس کی سلامتی کو امریکہ نے اپنی پالیسی کا حصہ بنا رکھا ہے لیکن اصل سوال وہی ہے جو ہر گلی کوچے میں گونج رہا ہے کیا امریکہ واقعی تنہا ہو رہا ہے کیا اس کے اپنے اتحادی اس کے ساتھ کھڑے ہیں یا اب وقت بدل چکا ہے بندن میاں نے چائے کا ایک گھونٹ لیا اور بولے میاں پہلے زمانہ اور تھا جب امریکہ اشارہ کرتا تھا اور نیٹو کے ممالک صف بندی کر لیتے تھے لیکن اب حالات ویسے نہیں رہے نیٹو جو کبھی امریکہ کی طاقت کا مظہر سمجھا جاتا تھا آج اسی اتحاد کے اندر دراڑیں صاف دکھائی دے رہی ہیں یورپ کے بڑے ممالک نے اس جنگ میں براہ راست شامل ہونے سے گریز کیا ہے اور کچھ نے تو کھل کر انکار بھی کر دیا ہے بندن میاں کہتے ہیں یہ انکار صرف ایک فیصلہ نہیں بلکہ ایک پیغام ہے کہ اب دنیا یک قطبی نہیں رہی یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوا کیوں وہ ممالک جو کل تک امریکہ کے ساتھ ہر محاذ پر کھڑے ہوتے تھے آج فاصلے اختیار کر رہے ہیں بندن میاں اپنی مخصوص انداز میں جواب دیتے ہیں میاں بات سیدھی ہے اب ہر ملک اپنے مفاد کو دیکھتا ہے نہ کہ کسی اور کی جنگ کو اپنی جنگ سمجھتا ہے یورپ پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار ہے توانائی کا بحران ہے مہنگائی بڑھ رہی ہے اور عوام جنگوں سے تنگ آ چکے ہیں ایسے میں کوئی بھی ملک ایک نئی بڑی جنگ کا حصہ بننے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتا بندن میاں اپنی بات کو مزید واضح کرتے ہوئے کہتے ہیں یہ جو انکار ہے نا یہ دراصل ایک خاموش بغاوت ہے نیٹو کے ممالک نے صاف لفظوں میں یہ پیغام دیا ہے کہ وہ کسی ایسی جنگ میں کودنا نہیں چاہتے جس کے نتائج غیر یقینی ہوں اور جس کا بوجھ ان کی اپنی معیشت اور عوام کو اٹھانا پڑے اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ امریکہ کے دشمن ہو گئے ہیں بلکہ یہ کہ اب اندھی اطاعت کا دور ختم ہو چکا ہے بندن میاں اب ذرا سیدھے ہو کر بیٹھتے ہیں اور اپنی گفتگو کو ایک اور زاویہ دیتے ہیں وہ کہتے ہیں میاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ عالمی سیاست میں مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتے صرف مفادات ہوتے ہیں یہی مفادات ہیں جو آج یورپ کو محتاط بنا رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ کسی بڑی جنگ کا میدان اگر پھیلتا ہے تو اس کے اثرات سب سے پہلے انہی کے دروازے پر دستک دیتے ہیں ان کی صنعتیں متاثر ہوتی ہیں ان کی توانائی کی فراہمی خطرے میں پڑتی ہے اور ان کی عوامی زندگی میں بے چینی پیدا ہوتی ہے اس لیے انہوں نے ایک ایسا راستہ اختیار کیا ہے جس میں وہ نہ مکمل طور پر امریکہ سے الگ ہوں اور نہ ہی خود کو ایک خطرناک جنگ میں جھونکیں یہ ایک توازن ہے ایک نازک حکمت عملی ہے جو بظاہر خاموشی ہے مگر درحقیقت ایک واضح پیغام ہے کہ اب دنیا میں ہر ملک اپنی بقا اور استحکام کو ترجیح دے رہا ہے بندن میاں اب گفتگو کا رخ ایران کی طرف موڑتے ہیں اور ان کی آواز میں سنجیدگی مزید بڑھ جاتی ہے وہ کہتے ہیں میاں ایران کی کہانی بھی عجیب ہے اس ملک کو برسوں تک دبانے کی کوشش کی گئی اس پر پابندیاں لگیں اس کی معیشت کو محدود کیا گیا اس کے سیاسی اثر و رسوخ کو کم کرنے کی ہر ممکن تدبیر کی گئی مگر اس کے باوجود ایران نہ صرف قائم رہا بلکہ اس نے اپنے قدم مزید مضبوط کیے بندن میاں کہتے ہیں یہ کوئی معمولی بات نہیں ہوتی کہ ایک ملک اتنے دباؤ کے باوجود اپنے موقف پر ڈٹا رہے اس کے لیے صرف وسائل نہیں بلکہ عزم اور حکمت عملی کی ضرورت ہوتی ہے ایران نے یہی کیا اس نے اپنے دفاعی نظام کو مضبوط کیا اپنے علاقائی تعلقات کو ازسر نو ترتیب دیا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس نے اپنے عوام کو ایک بیانیے پر متحد رکھا بندن میاں یہاں ایک اہم نکتہ بیان کرتے ہیں وہ کہتے ہیں میاں جنگ صرف ہتھیاروں سے نہیں جیتی جاتی جنگ حوصلے سے جیتی جاتی ہے اور ایران نے یہی دکھایا ہے اس نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ اگر کوئی قوم اپنے اصولوں پر قائم رہے تو اسے جھکانا آسان نہیں ہوتا بندن میاں مزید کہتے ہیں کہ ایران کی حکمت عملی میں ایک خاص پہلو یہ بھی ہے کہ اس نے براہ راست تصادم کے ساتھ ساتھ غیر روایتی طریقوں کو بھی استعمال کیا اس نے اپنے اتحادیوں کو مضبوط کیا اپنے اثر و رسوخ کو مختلف خطوں میں پھیلایا اور ایک ایسا دفاعی دائرہ قائم کیا جسے توڑنا آسان نہیں اس سب کے باوجود یہ کہنا بھی درست ہوگا کہ ایران کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اس کی معیشت دباؤ میں ہے اس کے عوام مشکلات جھیل رہے ہیں لیکن اس کے باوجود اس کی ریاستی پالیسی میں جو تسلسل ہے وہ اسے ایک منفرد حیثیت دیتا ہے بندن میاں اب امریکہ کی طرف واپس آتے ہیں اور کہتے ہیں میاں امریکہ ابھی بھی دنیا کی بڑی طاقت ہے اس میں کوئی شک نہیں اس کے پاس وسائل ہیں ٹیکنالوجی ہے فوجی قوت ہے اور عالمی اثر و رسوخ بھی ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اب دنیا پہلے جیسی نہیں رہی اب ہر قدم پر اسے چیلنجز کا سامنا ہے اس کی پالیسیوں پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں اس کے فیصلوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کے اپنے اتحادی بھی اب ہر معاملے میں اس کے ساتھ کھڑے نظر نہیں آتے بندن میاں کہتے ہیں یہ صورتحال کسی بھی بڑی طاقت کے لیے آسان نہیں ہوتی کیونکہ اسے ایک ساتھ کئی محاذوں پر سوچنا پڑتا ہے اسے اپنی ساکھ کو بھی برقرار رکھنا ہوتا ہے اور اپنے مفادات کو بھی تحفظ دینا ہوتا ہے بندن میاں ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہتے ہیں میاں طاقت کا اصل امتحان یہی ہوتا ہے کہ آپ اسے کس طرح استعمال کرتے ہیں اگر آپ ہر مسئلے کا حل طاقت میں تلاش کریں گے تو ایک وقت آئے گا جب آپ کو اپنی ہی طاقت بوجھ محسوس ہونے لگے گی یہی کچھ امریکہ کے ساتھ ہو رہا ہے اسے اب ہر قدم پر یہ سوچنا پڑ رہا ہے کہ کہاں سختی دکھانی ہے اور کہاں نرمی اختیار کرنی ہے بندن میاں اب اسرائیل کے معاملے پر بات کرتے ہیں اور کہتے ہیں میاں اسرائیل کی حمایت امریکہ کی پالیسی کا ایک مستقل حصہ رہی ہے یہ کوئی نئی بات نہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اب اس حمایت کے اثرات مختلف انداز میں سامنے آ رہے ہیں دنیا کے کئی ممالک خاص طور پر مسلم دنیا میں اس پر شدید ردعمل پایا جاتا ہے عوامی سطح پر بھی اس کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں اور یہی وہ عنصر ہے جو امریکہ کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے بندن میاں کہتے ہیں جب کسی پالیسی کے خلاف عوامی رائے مضبوط ہو جائے تو اسے نظر انداز کرنا آسان نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ امریکہ کو اب ایک مشکل توازن برقرار رکھنا پڑ رہا ہے وہ ایک طرف اپنے اتحادی کو چھوڑ نہیں سکتا اور دوسری طرف عالمی دباؤ کو بھی مکمل طور پر نظر انداز نہیں کر سکتا یہ ایک ایسی صورتحال ہے جس میں ہر فیصلہ اپنے ساتھ ایک نیا مسئلہ لے کر آتا ہے بندن میاں اپنی گفتگو کو مزید گہرائی دیتے ہوئے کہتے ہیں میاں اصل مسئلہ یہ نہیں کہ کون جیت رہا ہے اور کون ہار رہا ہے اصل مسئلہ یہ ہے کہ دنیا کس سمت جا رہی ہے آج کا عالمی نظام تیزی سے بدل رہا ہے نئے اتحاد بن رہے ہیں پرانے ٹوٹ رہے ہیں اور ہر ملک اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے نیٹو کا اس جنگ سے دور رہنا ایک بہت بڑا اشارہ ہے کہ اب دنیا میں فیصلے صرف ایک طاقت کے کہنے پر نہیں ہوں گے ایران کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ مزاحمت اب بھی ایک موثر حکمت عملی ہو سکتی ہے اور امریکہ کی محتاط پالیسی یہ ظاہر کرتی ہے کہ طاقت کے باوجود محدودیت کا احساس بڑھ رہا ہے بندن میاں اب اپنی بات کو ایک اور زاویے سے بیان کرتے ہیں وہ کہتے ہیں میاں یہ جنگ صرف میدانوں میں نہیں لڑی جا رہی بلکہ یہ معیشت کی جنگ بھی ہے سفارتکاری کی جنگ بھی ہے اور بیانیے کی جنگ بھی ہے ہر ملک کوشش کر رہا ہے کہ وہ اپنے موقف کو مضبوط کرے اپنے اتحادیوں کو قائل کرے اور اپنے مخالفین کو کمزور کرے یہ ایک پیچیدہ کھیل ہے جس میں ہر چال کا اثر دور تک جاتا ہے بندن میاں کہتے ہیں میاں اگر آپ غور کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ آج کی دنیا میں طاقت کا مطلب صرف فوجی قوت نہیں رہا اب طاقت کا مطلب ہے معاشی استحکام سیاسی بصیرت اور سفارتی مہارت جو ملک ان تینوں کو یکجا کر لیتا ہے وہی اصل میں مضبوط ہوتا ہے اور جو صرف ایک پہلو پر انحصار کرتا ہے وہ دیر تک نہیں چل سکتا بندن میاں اب ایک لمحے کے لیے خاموش ہو جاتے ہیں جیسے کسی گہری سوچ میں ڈوب گئے ہوں پھر آہستہ سے کہتے ہیں میاں یہ جو نیٹو کی خاموشی ہے نا یہ دراصل بہت اونچی آواز ہے یہ دنیا کو بتا رہی ہے کہ اب طاقت کا مرکز بدل رہا ہے اب فیصلے کسی ایک دارالحکومت میں نہیں ہوں گے بلکہ مختلف مراکز سے ہوں گے یہ ایک نئی دنیا کا آغاز ہے جہاں ہر ملک اپنی جگہ بنانے کی کوشش کرے گا اور یہی کوششیں نئے اتحادوں کو جنم دیں گی بندن میاں مزید کہتے ہیں کہ ایران کی مزاحمت نے ایک اور حقیقت کو بھی واضح کیا ہے کہ اگر کوئی قوم اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے سنجیدہ ہو تو وہ بڑی سے بڑی طاقت کے سامنے بھی کھڑی ہو سکتی ہے یہ مزاحمت صرف عسکری نہیں بلکہ سیاسی اور نظریاتی بھی ہے اس نے دنیا کے کئی ممالک کو یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ کیا واقعی طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے اور کیا اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کریں بندن میاں اب امریکہ کے مستقبل پر بات کرتے ہیں اور کہتے ہیں میاں امریکہ کے پاس اب بھی موقع ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں کو حقیقت کے مطابق ڈھالے وہ اپنی سفارتکاری کو مضبوط کرے اپنے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو نئے سرے سے ترتیب دے اور ایسے فیصلے کرے جو نہ صرف اس کے اپنے مفاد میں ہوں بلکہ عالمی استحکام کے لیے بھی بہتر ہوں لیکن اگر وہ پرانی روش پر قائم رہا تو اسے مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے بندن میاں کہتے ہیں میاں تاریخ ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ جو قومیں وقت کے ساتھ خود کو نہیں بدلتی وہ پیچھے رہ جاتی ہیں اور جو بدل جاتی ہیں وہی آگے بڑھتی ہیں یہی اصول آج بھی لاگو ہوتا ہے اور یہی وہ حقیقت ہے جسے سمجھنا ضروری ہے بندن میاں آخر میں اپنی چائے کا آخری گھونٹ لیتے ہیں اور کہتے ہیں میاں یہ دنیا اب بدل رہی ہے اور جو اس تبدیلی کو نہیں سمجھے گا وہ پیچھے رہ جائے گا یہ وقت ہے حقیقت کو سمجھنے کا جذبات سے نکل کر حقائق کا سامنا کرنے کا کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں صحیح سمت دکھا سکتا ہے اور بندن میاں کی بات یاد رکھیں میاں طاقت وہی ہوتی ہے جو وقت کے ساتھ خود کو بدل لے جو نہ بدلے وہ صرف تاریخ کا حصہ بن جاتی ہے اور اسی سوچ کے ساتھ وہ آسمان کی طرف دیکھتے ہیں جیسے آنے والے وقت کو پڑھنے کی کوشش کر رہے ہوں ان کی آنکھوں میں ایک عجیب سی سنجیدگی ہے اور ان کے الفاظ میں ایک ایسا وزن ہے جو سننے والے کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے اور شاید یہی بندن میاں کی سب سے بڑی خوبی ہے کہ وہ پیچیدہ ترین بات کو بھی سادہ انداز میں بیان کر دیتے ہیں اور انسان کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ دنیا کی سب سے بڑی جنگ دراصل سمجھ کی جنگ ہے جو جیت گیا وہی اصل فاتح ہوگا اور جو ہار گیا وہ صرف تماشائی بن کر رہ جائے گا.