تحریر : محمد مظہررشید چودھری (03336963372)
پاکستان میں کرکٹ صرف ایک کھیل نہیں، ایک جذبہ ہے۔ یہ وہ جذبہ ہے جو گلی کوچوں سے لے کر بڑے اسٹیڈیموں تک لوگوں کے دلوں میں دھڑکتا ہے۔ مگر افسوس کہ حالیہ برسوں میں یہی جذبہ مایوسی، اضطراب اور بے یقینی میں بدلتا جا رہا ہے۔ ایک وقت تھا جب سبز جرسی میدان میں اترتی تو مخالف ٹیموں کے چہروں پر سنجیدگی اور احتیاط نمایاں ہو جاتی تھی۔ آج صورتحال اس کے برعکس ہے۔ شکستیں معمول بنتی جا رہی ہیں اور فتوحات ایک یادگار واقعہ۔گزشتہ چند برسوں میں عالمی ٹورنامنٹس میں پاکستان کی کارکردگی اس زوال کی واضح تصویر پیش کرتی ہے۔ 2023 کے ون ڈے ورلڈ کپ سے لے کر 2024 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور 2025 کی چیمپئنز ٹرافی تک، پاکستان وہ مقام حاصل نہ کر سکا جس کی اس سے توقع کی جاتی تھی۔ حالیہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں بھی ٹیم سیمی فائنل تک رسائی حاصل نہ کر سکی۔ یہ محض ایک یا دو ٹورنامنٹس کی ناکامی نہیں بلکہ ایک تسلسل ہے جو بتاتا ہے کہ کہیں نہ کہیں بنیادی غلطیاں ہو رہی ہیں۔اس زوال کے اسباب پر نظر ڈالیں تو سب سے نمایاں مسئلہ سلیکشن پالیسی کا نظر آتا ہے۔ قومی ٹیم کے انتخاب کا عمل ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ کسی لیبارٹری میں ہونے والا تجربہ ہو۔ ایک میچ میں کسی کھلاڑی کو آزمایا جاتا ہے اور اگلے ہی میچ میں اسے باہر بٹھا دیا جاتا ہے۔ مستقل مزاجی کا فقدان اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ کھلاڑیوں کو خود بھی یہ یقین نہیں رہتا کہ انہیں کتنے عرصے تک موقع ملے گا۔ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوران بھی یہی صورتحال دیکھنے میں آئی۔ ٹیم میں ایسے کھلاڑی شامل کیے گئے جنہیں اچانک موقع دیا گیا، جبکہ بعض فارم میں موجود کھلاڑیوں کو نظر انداز کر دیا گیا۔ قیادت کے حوالے سے بھی غیر یقینی کی کیفیت برقرار رہی۔ کبھی ایک کپتان کو ذمہ داری دی جاتی ہے اور کچھ عرصے بعد وہی ذمہ داری کسی اور کو سونپ دی جاتی ہے۔ اس طرح کی تبدیلیاں نہ صرف ٹیم کے ڈھانچے کو متاثر کرتی ہیں بلکہ کھلاڑیوں کے اعتماد کو بھی کمزور کرتی ہیں۔بنگلہ دیش کے خلاف حالیہ ون ڈے سیریز میں شکست اس بے ترتیبی کی ایک اور مثال بن کر سامنے آئی۔ ایک ایسی ٹیم کے خلاف جسے ماضی میں پاکستان نسبتاً آسان حریف سمجھتا تھا، سیریز میں ناکامی نے کئی سوالات کو جنم دیا۔ بیٹنگ لائن میں استحکام کا فقدان، میچ کے اہم لمحات میں دباؤ کا شکار ہونا اور حکمت عملی کی کمی واضح طور پر محسوس کی گئی۔ یہ سب وہ مسائل ہیں جو صرف ایک میچ یا ایک سیریز سے پیدا نہیں ہوتے بلکہ ایک طویل عرصے کی غیر مربوط پالیسیوں کا نتیجہ ہوتے ہیں۔اصل مسئلہ صرف کھلاڑیوں کی کارکردگی نہیں بلکہ پورے نظام کی ساخت میں موجود کمزوریاں ہیں۔ پاکستان میں ڈومیسٹک کرکٹ طویل عرصے سے عدم توجہ کا شکار رہی ہے۔ ایک مضبوط ڈومیسٹک نظام وہ بنیاد ہوتا ہے جہاں سے قومی ٹیم کے لیے مستقل اور باصلاحیت کھلاڑی سامنے آتے ہیں۔ جب یہی بنیاد کمزور ہو تو اوپر کی عمارت بھی غیر مستحکم ہو جاتی ہے۔اسی طرح کوچنگ اور انتظامی پالیسیوں میں بھی تسلسل کا فقدان نظر آتا ہے۔ ایک کوچ آتا ہے تو اپنی حکمت عملی متعارف کراتا ہے، مگر کچھ ہی عرصے بعد اسے تبدیل کر دیا جاتا ہے اور نئی سوچ نافذ ہو جاتی ہے۔ اس طرح ٹیم کبھی بھی ایک واضح سمت میں آگے نہیں بڑھ پاتی۔ جدید کرکٹ تیزی سے بدل رہی ہے، خاص طور پر ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں جہاں رفتار، حکمت عملی اور ڈیٹا کا استعمال فیصلہ کن حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ پاکستان اگر اس رفتار کے ساتھ خود کو ہم آہنگ نہ کرے تو پیچھے رہ جانے کا خطرہ بڑھتا جائے گا۔ایک اور اہم پہلو کھلاڑیوں کے اعتماد کا ہے۔ جب کسی ٹیم میں مستقل مزاجی نہ ہو تو کھلاڑی خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگتے ہیں۔ انہیں یہ فکر لاحق رہتی ہے کہ ایک خراب کارکردگی کے بعد شاید انہیں ٹیم سے باہر کر دیا جائے گا۔ اس ذہنی دباؤ کے ساتھ میدان میں بہترین کارکردگی دکھانا آسان نہیں ہوتا۔پاکستانی کرکٹ شائقین کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر تکلیف دہ ہے۔ وہ لوگ جو ہر میچ کے ساتھ امیدیں باندھتے ہیں، جو ہر شکست کے بعد بھی اگلے مقابلے میں فتح کا خواب دیکھتے ہیں، آج مسلسل ناکامیوں سے دل گرفتہ ہیں۔ ان کی خواہش صرف اتنی ہے کہ قومی ٹیم ایک واضح سمت کے ساتھ میدان میں اترے اور انہیں یہ یقین ہو کہ ٹیم کی تشکیل کسی طویل المدتی منصوبہ بندی کے تحت ہو رہی ہے۔اب وقت آ گیا ہے کہ قومی کرکٹ کے ذمہ داران سنجیدگی کے ساتھ اپنی پالیسیوں کا جائزہ لیں۔ سلیکشن میں تسلسل، ڈومیسٹک کرکٹ کی مضبوطی اور قیادت کے حوالے سے واضح حکمت عملی وہ عوامل ہیں جو ٹیم کو دوبارہ مضبوط بنا سکتے ہیں۔ کرکٹ میں تجربات کی گنجائش ضرور ہوتی ہے، مگر جب یہی تجربات مستقل مزاجی کی جگہ لے لیں تو نتائج اکثر نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔پاکستان کرکٹ کی تاریخ گواہ ہے کہ یہ ٹیم مشکل حالات سے نکل کر دوبارہ عروج حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ فیصلے جذبات یا وقتی ردعمل کے بجائے دانشمندی اور منصوبہ بندی کے تحت کیے جائیں۔ اگر ایسا نہ ہوا تو خدشہ ہے کہ شکستوں کی یہ داستان مزید طویل ہوتی جائے گی، اور وہ ٹیم جو کبھی دنیا بھر کے شائقین کے لیے جوش اور ولولے کی علامت تھی، صرف ماضی کی یادوں میں زندہ رہ جائے گی٭




