تحریر: محمد انور بھٹی
مشرق وسطیٰ کی سیاست کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ فوری خبروں کے شور اور پروپیگنڈے سے الگ ہو کر طویل تاریخی پس منظر اور موجودہ طاقت کے توازن کو دیکھا جائے کیونکہ ایران امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کوئی اچانک پیدا ہونے والا واقعہ نہیں بلکہ کئی دہائیوں پر محیط ایک پیچیدہ جغرافیائی سیاسی تصادم کا نتیجہ ہے جس کی جڑیں انقلاب ایران کے بعد کی عالمی سیاست میں پیوست ہیں جب ایران میں 1979 کا انقلاب آیا تو اس نے نہ صرف ایک بادشاہت کو ختم کیا بلکہ خطے میں امریکی اثر و رسوخ کے ایک اہم ستون کو بھی گرا دیا اسی لمحے سے ایران اور امریکہ کے درمیان عدم اعتماد اور دشمنی کی ایک طویل داستان شروع ہوئی جو وقت کے ساتھ ساتھ مختلف شکلیں اختیار کرتی رہی کبھی اقتصادی پابندیوں کی صورت میں کبھی سفارتی تناؤ کی صورت میں اور کبھی خطے میں بالواسطہ جنگوں کے ذریعے اور یہی وہ پس منظر ہے جس میں موجودہ حالات کو سمجھنا ضروری ہے کیونکہ اگر کوئی شخص صرف چند دن کی جھڑپوں یا چند میزائل حملوں کو دیکھ کر نتیجہ اخذ کرنے کی کوشش کرے گا تو وہ بڑی تصویر کو نظر انداز کر دے گا حالیہ دنوں میں جو تجزیے سامنے آ رہے ہیں ان میں ایک اہم سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا امریکہ اور اسرائیل نے ایران کی فوجی اور قومی طاقت کو غلط انداز میں پڑھا تھا اور کیا چند دنوں کی جھڑپوں نے اس مفروضے کو توڑ دیا ہے کہ ایران شدید دباؤ میں ٹوٹ جائے گا اس سوال کا جواب سادہ نہیں کیونکہ کسی بھی ریاست کی طاقت صرف اس کے ہتھیاروں یا فوجی ٹیکنالوجی سے نہیں ناپی جاتی بلکہ اس کے جغرافیے اس کی معیشت اس کی قومی نفسیات اور اس کے علاقائی تعلقات سے بھی جڑی ہوتی ہے ایران کی مثال میں یہ چاروں عوامل ایک منفرد انداز میں جمع ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ بہت سے مغربی مبصرین بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ایران کو صرف ایک روایتی فوجی طاقت کے پیمانے سے نہیں سمجھا جا سکتا ایران کی حکمت عملی گزشتہ دو دہائیوں میں اس بنیاد پر تعمیر ہوئی ہے کہ وہ براہ راست روایتی جنگ میں امریکہ یا اسرائیل کا مقابلہ کرنے کے بجائے ایک غیر متوازن جنگی ماڈل اختیار کرے جس میں میزائل ٹیکنالوجی ڈرون جنگ علاقائی اتحادی نیٹ ورکس اور جغرافیائی دباؤ جیسے عناصر شامل ہوں اس حکمت عملی کا مقصد یہ نہیں کہ ایران میدان جنگ میں فوری فتح حاصل کرے بلکہ مقصد یہ ہے کہ کسی بھی ممکنہ دشمن کے لیے جنگ کی قیمت اتنی زیادہ کر دی جائے کہ وہ طویل جنگ سے گریز کرے اسی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو حالیہ کشیدگی کے ابتدائی دنوں میں ایران کا ردعمل دراصل اسی حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے ایران نے براہ راست بڑے پیمانے کی روایتی جنگ چھیڑنے کے بجائے محدود مگر علامتی طاقت کے مظاہرے کے ذریعے یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ وہ مکمل طور پر بے بس نہیں اور اس کے پاس جواب دینے کی صلاحیت موجود ہے دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل کی حکمت عملی کو بھی صرف فوجی طاقت کے زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا کیونکہ ان دونوں ممالک کے فیصلوں کے پیچھے سیاسی اور اسٹریٹجک عوامل بھی کارفرما ہوتے ہیں امریکہ دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت ہے اس کے پاس ایسی فضائی بحری اور تکنیکی صلاحیتیں موجود ہیں جو دنیا کے کسی بھی ملک کے لیے براہ راست مقابلہ کرنا تقریباً ناممکن بنا دیتی ہیں اسی طرح اسرائیل خطے میں ایک ایسی ریاست ہے جس نے گزشتہ کئی دہائیوں میں انٹیلی جنس ٹیکنالوجی اور فضائی طاقت کے میدان میں غیر معمولی برتری حاصل کی ہے اس لیے یہ تصور کہ چند دنوں کی جھڑپوں نے طاقت کے توازن کو مکمل طور پر بدل دیا ہے حقیقت سے زیادہ جذباتی تجزیہ محسوس ہوتا ہے تاہم اس کے باوجود یہ بھی حقیقت ہے کہ ایران نے گزشتہ برسوں میں اپنی دفاعی حکمت عملی کو اس انداز میں ترتیب دیا ہے کہ وہ کسی بھی براہ راست حملے کی صورت میں جنگ کو ایک وسیع جغرافیائی دائرے میں پھیلا سکتا ہے یہی وہ عنصر ہے جس نے مغربی تجزیہ کاروں کو بھی متوجہ کیا ہے کیونکہ ایران صرف اپنی سرزمین تک محدود ایک فوجی قوت نہیں بلکہ اس کا اثر و رسوخ عراق شام لبنان اور یمن جیسے علاقوں تک پھیلا ہوا ہے اور یہی علاقائی نیٹ ورک اس کے لیے ایک اسٹریٹجک بفر کا کام کرتا ہے اس کے ساتھ ساتھ ایران کا جغرافیہ بھی اس کی طاقت کا ایک اہم عنصر ہے خلیج فارس اور آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی کی ترسیل کے سب سے اہم راستوں میں شمار ہوتے ہیں اور عالمی معیشت کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرنے والے تیل اور گیس پر انحصار کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ جب بھی ایران اور مغربی ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے تو عالمی منڈیوں میں فوری ردعمل دیکھنے کو ملتا ہے تیل کی قیمتیں بڑھنے لگتی ہیں اور عالمی معیشت میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے اس صورتحال میں ایران کے پاس براہ راست جنگی برتری تو شاید نہ ہو لیکن اس کے پاس وہ جغرافیائی اور معاشی لیور موجود ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی نظام کے حساس مقامات پر دباؤ ڈال سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ بہت سے تجزیہ کار اس تنازع کو صرف فوجی تصادم کے بجائے ایک جغرافیائی معاشی کشمکش بھی قرار دیتے ہیں جہاں ایک طرف امریکہ اور اس کے اتحادی اپنی فوجی اور تکنیکی برتری کے ذریعے ایران کو محدود رکھنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف ایران اپنی جغرافیائی پوزیشن اور غیر روایتی جنگی حکمت عملی کے ذریعے اس دباؤ کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرتا ہے اس پوری صورتحال میں ایک اور اہم پہلو ایرانی عوام کا ردعمل ہے کیونکہ کسی بھی جنگ یا بیرونی دباؤ کے وقت قومی نفسیات کا کردار بہت اہم ہوتا ہے ایران کے اندر معاشی مشکلات سیاسی اختلافات اور سماجی تناؤ موجود ہیں اور یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں لیکن تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ جب کسی ملک کو بیرونی خطرہ لاحق ہوتا ہے تو اکثر اندرونی اختلافات وقتی طور پر پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور قوم ایک حد تک متحد ہو جاتی ہے ایران کے معاملے میں بھی یہی رجحان دیکھا جا سکتا ہے جہاں بیرونی دباؤ کے بعد قومی خود مختاری اور مزاحمت کا بیانیہ زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے تاہم یہ اتحاد ہمیشہ مستقل نہیں رہتا کیونکہ اگر جنگ طویل ہو جائے یا معاشی دباؤ حد سے بڑھ جائے تو اندرونی مسائل دوبارہ سامنے آنے لگتے ہیں اسی لیے بعض مبصرین کا خیال ہے کہ ایران کے لیے سب سے بڑا چیلنج صرف فوجی تصادم نہیں بلکہ طویل معاشی دباؤ بھی ہو سکتا ہے کیونکہ اقتصادی پابندیاں اور عالمی مالیاتی نظام سے محدود رسائی کسی بھی معیشت کے لیے بڑا مسئلہ بن سکتی ہیں دوسری طرف امریکہ اور اس کے اتحادی بھی اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ مکمل جنگ صرف ایران کے لیے نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے تباہ کن ہو سکتی ہے خلیجی ریاستیں عالمی توانائی کی منڈیاں اور بین الاقوامی تجارت سب اس تصادم سے متاثر ہو سکتی ہیں یہی وجہ ہے کہ عالمی سفارت کاری کا ایک بڑا حصہ اس کوشش میں مصروف رہتا ہے کہ کشیدگی کو مکمل جنگ میں تبدیل ہونے سے روکا جائے کیونکہ اگر آبنائے ہرمز جیسے حساس راستے میں رکاوٹ پیدا ہو گئی تو اس کا اثر صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ایشیا یورپ اور امریکہ کی معیشتیں بھی اس سے متاثر ہوں گی اسی لیے یہ کہنا زیادہ حقیقت پسندانہ ہوگا کہ موجودہ صورتحال ایک ایسی پیچیدہ طاقت کی کشمکش ہے جس میں کوئی بھی فریق فوری اور مکمل فتح حاصل نہیں کر سکتا ایران اپنی جغرافیائی اور غیر روایتی حکمت عملی کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے جبکہ امریکہ اور اسرائیل اپنی فوجی اور تکنیکی برتری کے ذریعے اسے محدود رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اس تصادم کی اصل نوعیت دراصل طاقت کے توازن کی وہ جنگ ہے جو براہ راست میدان جنگ کے ساتھ ساتھ معیشت سفارت کاری اور عالمی سیاست میں بھی لڑی جا رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس کے نتائج فوری طور پر واضح نہیں ہوتے بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ سامنے آتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ اس وقت دنیا ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں روایتی جنگی تصورات تیزی سے بدل رہے ہیں اب صرف ٹینک اور طیارے ہی جنگ کا فیصلہ نہیں کرتے بلکہ توانائی کے راستے عالمی تجارت سائبر جنگ معلوماتی جنگ اور علاقائی اتحادی سب اس کھیل کا حصہ بن چکے ہیں ایران امریکہ اور اسرائیل کے درمیان موجودہ کشیدگی بھی اسی بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے کی ایک مثال ہے جہاں ہر فریق اپنی طاقت کے مختلف پہلوؤں کو استعمال کرتے ہوئے برتری حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اس لیے یہ کہنا کہ چند دنوں کی جھڑپوں نے سب کچھ بدل دیا ہے یا کسی ایک فریق کو مکمل برتری حاصل ہو گئی ہے حقیقت سے زیادہ سادہ تجزیہ ہوگا زیادہ درست بات یہ ہے کہ یہ ایک طویل جغرافیائی سیاسی کشمکش ہے جس میں کبھی ایک فریق کو وقتی برتری ملتی ہے اور کبھی دوسرے کو لیکن حتمی نتیجہ اکثر سفارتی میز پر ہی طے ہوتا ہے کیونکہ مکمل جنگ کی قیمت اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ کوئی بھی بڑی طاقت اسے آخر تک لے جانے کا خطرہ مول لینے سے گریز کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ موجودہ صورتحال میں بھی دنیا کی بڑی طاقتیں پس پردہ سفارتی رابطوں کے ذریعے کشیدگی کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرتی رہتی ہیں کیونکہ اگر یہ تصادم بے قابو ہو گیا تو اس کا اثر صرف ایک خطے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ عالمی معیشت عالمی سیاست اور عالمی سلامتی کے پورے نظام کو ہلا کر رکھ سکتا ہے اور یہی وہ بنیادی حقیقت ہے جو شور اور پروپیگنڈے کے درمیان اکثر نظر انداز ہو جاتی ہے۔




