امریکا کے مختلف شہروں میں ایران پر جنگ مسلط کرنے کے خلاف عوام سڑکوں پر نکل آئے۔ واشنگٹن، نیویارک اور کیلیفورنیا میں ہزاروں افراد نے بھرپور احتجاج کیا اور ایران کے خلاف بمباری روکنے کے مطالبے کے لیے پلے کارڈز اٹھائے۔ مظاہرین نے زور دے کر کہا کہ ایرانی عوام کو اپنا مستقبل خود طے کرنے کا حق دیا جائے اور جنگ بندی کی جائے۔
مظاہرین نے نعرے لگائے اور امریکی حکومت پر زور دیا کہ وہ ایران کے ساتھ تنازعات کے پرامن حل کی طرف توجہ دے۔ امریکی میڈیا کے مطابق احتجاج میں شریک افراد نے عالمی قیادت سے بھی اپیل کی کہ وہ ایران کے خلاف جارحیت کو روکیں۔
دوسری جانب روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ عالمی امن کے لیے اب وقت آگیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان کا سربراہی اجلاس بلایا جائے۔ روسی وزیر خارجہ کے مطابق روسی صدر نے اس اجلاس کی تجویز پیش کی تھی تاکہ موجودہ کشیدگی کے حل کے لیے فوری اقدامات کیے جا سکیں۔
یہ مظاہرے اور بین الاقوامی پیش رفت ایران کے خلاف ممکنہ جنگ کی صورت حال میں عالمی برادری کے ردعمل کی عکاسی کرتے ہیں۔




