تحریر : محمد انور بھٹی
بندن میاں آج پھر حسب معمول فیس بک کی بے جان دنیا سے نکل کر حقیقت کی گرد آلود گلی میں آن بیٹھے تھے حقے کی نالی کو ہونٹوں سے لگایا ایک گہرا کش لیا اور دھواں آسمان کی وسعتوں میں چھوڑ دیا دیر تک خاموش رہے جیسے ماضی کی صدائیں سن رہے ہوں پھر دھیمی مگر کڑکتی ہوئی آواز میں گویا ہوئے میاں یہ زمانہ عجیب موڑ پر آ کھڑا ہوا ہے یہاں آوازیں بہت ہیں مگر بصیرت کم یہاں خطبے بہت ہیں مگر کردار کم یہاں دعوے بہت ہیں مگر دیانت نایاب ہے اور ایسے میں مجھے وہ شعر یاد آتا ہے جو محض شعر نہیں بلکہ پورے عہد کا نوحہ ہے
میراث میں آئی ہے انہیں مسند ارشاد
زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن
چند لمحے سکوت طاری رہا پھر بندن میاں نے بات کو آگے بڑھایا میاں یہ کوئی لفظوں کا کھیل نہیں یہ ایک تہذیبی المیہ ہے یہ اس زوال کی نشاندہی ہے جو آہستہ آہستہ قوموں کی رگوں میں اترتا ہے اور انہیں اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے یہ شعر کہنے والا کوئی عام شاعر نہ تھا بلکہ وہ مرد درویش تھا جسے دنیا علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ کے نام سے جانتی ہے وہ مفکر جس نے ہمیں خودی کا درس دیا پرواز کا حوصلہ دیا غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کا پیغام دیا مگر ہم نے ان کے افکار کو نصاب کے صفحات تک محدود کردیا اور اپنی عملی زندگی سے دور کر دیا
بندن میاں نے سنجیدگی سے کہا مسند ارشاد کوئی معمولی نشست نہیں ہوتی یہ وہ مقام ہے جہاں سے سمتوں کا تعین ہوتا ہے جہاں سے فکر کی راہیں نکلتی ہیں جہاں سے معاشرے کے مزاج کی تشکیل ہوتی ہے اگر اس مقام پر بیٹھنے والا صاحب علم ہو صاحب کردار ہو صاحب بصیرت ہو تو اس کے الفاظ نسلوں کی رہنمائی کرتے ہیں مگر اگر وہاں نااہلی بیٹھ جائے تو الفاظ کھوکھلے ہو جاتے ہیں خطبے شور میں بدل جاتے ہیں اور رہنمائی گمراہی کا روپ دھار لیتی ہے انہوں نے سوالیہ نگاہوں سے حاضرین کو دیکھا اور بولے زاغ اور عقاب کے استعارے کو سمجھو زاغ ہجوم میں اڑتا ہے اس کی پہچان اس کا شور ہے اس کی خوراک مردار ہے وہ کبھی تنہا بلند پرواز نہیں کرتا وہ ہمیشہ جتھہ بنا کر منڈلاتا ہے اور جہاں فائدہ دکھائی دے وہیں جا اترتا ہے اس کے مقابلے میں عقاب تنہا اڑتا ہے اس کی نگاہ دور تک دیکھتی ہے وہ اپنی خوراک خود تلاش کرتا ہے وہ مردار پر نہیں جیتا وہ بلندیوں کا مسافر ہے اسے ہجوم کی ضرورت نہیں ہوتی اس کی طاقت اس کا کردار ہے اس کی شناخت اس کی پرواز ہے مگر ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے نشیمن ان لوگوں کے حوالے کر دیے جو نہ بلندی کا ظرف رکھتے ہیں نہ تنہائی کا حوصلہ نہ اصول کی پاسداری نہ سچ کی جرات ہم نے میراث کو معیار بنا لیا اور اہلیت کو ثانوی حیثیت دے دی نتیجہ یہ کہ جو جگہ عقابوں کے لیے تھی وہاں زاغوں کا شور گونجنے لگا۔
بندن میاں نے سیاست کی طرف اشارہ کیا میاں سیاست خدمت کا نام تھا اب وراثت کا کھیل بن چکا ہے قیادت اب کردار سے نہیں خاندانی نسبت سے پیدا ہوتی ہے گویا قوم ایک جاگیر ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتی رہتی ہے ایسے میں میرٹ ایک مذاق بن جاتا ہے اور نظریہ ایک نعرہ رہ جاتا ہے پھر اداروں کا ذکر چھیڑا دیکھیے دفتروں میں قابلیت اکثر فائلوں کے نیچے دب جاتی ہے اور خوشامد ترقی کی سیڑھی بن جاتی ہے جو سچ بولے وہ ناپسندیدہ قرار پاتا ہے جو سر ہلائے وہ معتبر سمجھا جاتا ہے اس ماحول میں دیانت دار انسان خود کو تنہا محسوس کرتا ہے اور بالآخر خاموشی اختیار کر لیتا ہے یہی خاموشی زوال کا دروازہ کھولتی ہے کیونکہ جب اہل خاموش ہوں تو نااہل خود بخود نمایاں ہو جاتے ہیں
مدارس اور تعلیمی مراکز بھی اس امتحان سے گزر رہے ہیں جب مسند درس تقویٰ اور تحقیق کے بجائے تعلق اور نسبت سے ملنے لگے تو علم کا وقار مجروح ہوتا ہے علم تجارت بن جائے اور منصب میراث تو فکری پستی جنم لیتی ہے
بندن میاں نے گہرا سانس لیا اور قدرے تلخی کے ساتھ کہا میاں ہم خود بھی تو اس صورت حال کے ذمہ دار ہیں ہمیں سچ کڑوا لگتا ہے اور چاپلوسی میٹھی ہم سوال سے گھبراتے ہیں کیونکہ سوال ذمہ داری کا تقاضا کرتا ہے ہم احتساب سے بچتے ہیں کیونکہ احتساب آئینہ دکھاتا ہے ہم تالیاں بجاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا حالانکہ تالی کبھی اصلاح نہیں کرتی وہ صرف شور میں اضافہ کرتی ہے
پھر نرم لہجے میں بولے قومیں نعروں سے نہیں اصولوں سے بنتی ہیں اصول ٹوٹ جائیں تو عمارت زیادہ دیر قائم نہیں رہتی علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے عقاب کا استعارہ دے کر خودی کا جو پیغام دیا وہ دراصل یہی تھا کہ اپنی پہچان کو زندہ رکھو اپنی ذمہ داری قبول کرو اپنی محنت پر یقین رکھو مگر ہم نے خودی کو انا میں بدل دیا اور انا کو سیاست بنا لیا۔جب میدان اہل سے خالی ہو جائے تو کوئی نہ کوئی آ کر اسے بھر دیتا ہے خالی نشیمن ہمیشہ خالی نہیں رہتے اگر عقاب اڑ جائیں تو زاغ آ بیٹھتے ہیں اس لیے شکایت سے پہلے ہمیں اپنی خاموشی کا جائزہ لینا ہوگا۔
بندن میاں نے بات کو گھروں تک پھیلایا ہم اپنی نئی نسل کو کیا سکھا رہے ہیں کیا ہم انہیں یہ بتاتے ہیں کہ عزت کردار سے ملتی ہے یا یہ کہ تعلقات سے راستے ہموار ہوتے ہیں کیا ہم انہیں محنت کا درس دیتے ہیں یا شارٹ کٹ کا گر سکھاتے ہیں اگر بنیاد ہی کمزور ہو تو عمارت مضبوط کیسے ہوگی تاریخ کے اوراق اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ جب بھی اہل بصیرت پس منظر میں چلے گئے اور نااہل پیش منظر میں آگئے تو قوموں نے زوال دیکھا طاقت وقتی طور پر شور کے پاس آ سکتی ہے مگر بقا ہمیشہ کردار کے حصے میں آتی ہے۔کچھ توقف کے بعد امید کا چراغ جلایا میاں مایوسی کفران نعمت ہے اصلاح کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے شرط یہ ہے کہ ہم سچ کو سچ ماننے کا حوصلہ پیدا کریں مسند کو امانت سمجھیں چاہے وہ مسجد کا منبر ہو عدالت کی نشست ہو اسمبلی کی کرسی ہو یا اسکول کا دفتر وہاں وہی بیٹھے جو علم بھی رکھتا ہو دیانت بھی اور جواب دہی کا شعور بھی۔پھر فرد کی ذمہ داری واضح کی اصل تبدیلی فرد سے شروع ہوتی ہے جب تک ہم خود عقاب بننے کا عزم نہیں کریں گے کوئی اور ہمیں آسمان نہیں دے گا عقاب بننے کے لیے تنہائی کا حوصلہ چاہیے سچ کی قیمت ادا کرنے کا عزم چاہیے محنت کی لگن چاہیے مگر یہی راستہ عزت کا ہے یہی راستہ بقا کا ہے۔اگر ہم نے اپنی نسل کو یہ سکھا دیا کہ میراث نہیں محنت اصل سرمایہ ہے نسبت نہیں صلاحیت اصل پہچان ہے تو منظر بدل سکتا ہے تب مسندیں بھی بدلیں گی تب نشیمن بھی محفوظ ہوں گے۔آخر میں بندن میاں نے حقے کا آخری کش لیا مسکرائے اور بولے قصہ مختصر یہ ہے کہ زمانہ بدلنے کا انتظار مت کرو خود بدل جاؤ تاریخ ناموں سے زیادہ کردار محفوظ رکھتی ہے۔وراثتیں مٹ جاتی ہیں شور تھم جاتا ہے مگر اصول پر قائم رہنے والے زندہ رہتے ہیں یہی اقبال رحمتہ اللہ علیہ کا پیغام ہے یہی عقاب کی پرواز کا راز ہے اگر ہم نے یہ راز سمجھ لیا تو نہ کوئی زاغ ہمارے نشیمن پر قابض ہوگا نہ مسند میراث بنے گی اور اگر ہم نے آنکھیں بند رکھیں تو شور بڑھتا جائے گا اور پرواز کم ہوتی جائے گی۔انتخاب ہمارے ہاتھ میں ہے یا ہم ہجوم کا حصہ بن جائیں یا تنہا پرواز کا حوصلہ پیدا کریں کیونکہ تاریخ ہمیشہ عقاب کا کردار زندہ رکھتی ہے زاغ کا نہیں۔




