تحریر: ایم سرور صدیقی
برسوں کی اسیری کے باوجودتحریک ِ انصاف کے بانی نہ صرف پاکستان کے سیاسی افق پرچھائے ہوئے ہیں بلکہ وہ عالمی میڈیاپربھی ڈسکس ہورہے ہیں اب حال ہی میں دنیا کے نامورکرکٹرنے بانیPTIکی رہائی اور ان کوبہترین طبی سہولتوں کی فراہمی کا مطالبہ کیاہے اس دوران یہ سوشے اور پھلجھڑیاں بھی چھوڑی جاتی رہیں کہ بانیPTIکیلئے کوئی ڈیل یا ڈھیل دی جارہی ہے پھر کچھ دنوں بعد یہ بازگشت سنائی دیتی ہے کہ بانیPTIکسی قسم کی ڈیل کے روادارنہیں شاید اسی تناظر میں وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ یہ کہنے پر مجبورہوگئے ہیں کہ جمہوریت مذاکرات سے آگے بڑھتی ہے، ڈیڈلاک سے نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جو آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں آپ ان سے مذاکرات نہیں کرتے، جو مذاکرات نہیں کرنا چاہتے آپ نے ان کو درخواستیں دی ہوئی ہیں۔ ہم معاملات کو جمہوری انداز سے بڑھانے کے لیے تیار ہیں۔ سینٹ اجلاس میں وزیراعظم کے مشیر سیاسی امور نے کہا کہ آپ میثاق جمہوریت کی مضبوطی کے لیے ہمارا ساتھ دیں، آپ سیاسی عمل کا حصہ بننے سے مسلسل انکاری ہیں۔ آپ بھی اس کمیٹی کا حصہ تھے جس میں سب سینئرز موجود تھے۔ رانا ثناء اللہ نے ڈیل کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے ڈاکٹرز نے بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ کیا، بیرسٹر گوہر خان کو شرکت کی درخواست کی گئی مگر انہوں نے انکار کردیا۔ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے حکومت کو پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ آپ بانی پی ٹی آئی سے معاملات ٹھیک کریں، وعدہ کرتا ہوں آپ کی حکومت گرانے نہیں دیں گے ویسے بھی رمضان المبارک کا مہینہ توبہ کرنے کا ہے۔ علامہ راجہ ناصر عباس کا کہنا ہے کہ مثبت احتجاج کرنے کی روایت ڈالنے دیں، پارلیمنٹ کو تالے لگا کر پارلیمنٹرینز کو بند کر دیا گیا، کیا یہ پارلیمنٹ کی توہین نہیں ہے؟ بانی پی ٹی آئی کے علاج کا مطالبہ کر رہے ہیں، اِن پر جعلی پرچے ہیں نہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے بہنوں کی ملاقات نہیں کروائی جا رہی، بانی پی ٹی آئی کو ایک اور انجیکشن لگنا ہے اسی تناظرمیں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ سیاسی اختلاف کو نفرت میں مت بدلیں، آپ بہتری لائیں، پاکستان کا دفاع مضبوط ہونا چاہیے، اب بس کرنا چاہیے، اتنے مقبول لیڈر کو قید کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت وہ ہے جو انصاف دے لیکن 3 کروڑ ووٹ لینے والوں کو بھی انصاف نہ دیا گیا کیا فرق پڑ جاتا ہے کہ ایک ڈاکٹر کے بجائے دوسرا ہو، اہلِخانہ کو تسلی کروانی ہے اور اس میں کیا خرابی ہے، اہلِخانہ کو ساتھ اگر رکھا جاتا تو کیا طوفان آ جاتا؟ سیاست میں بہتری کے لیے سب کو مل بیٹھنا ہو گا، سپریم کورٹ میں اب بھی ہمارے کیسز ہیں، ہمیں ملاقات کا موقع دینا چاہیے، چیف جسٹس سے درخواست کرتا ہوں آج تیرہواں موقعہ ہے آپ کے سامنے آئے ہیں، یہ کافی نہیں کہ فرینڈ آف دی کورٹ کو بھیجا جائے، اہلِخانہ کی ملاقات اہم ہے۔ ادھر کوٹ لکھپت جیل میں قید پی ٹی آئی رہنماؤں شاہ محمود قریشی،ڈاکٹر یاسمین راشد،اعجاز چوہدری،عمر سرفراز چیمہ اور میاں محمود الرشید نے اپنے وکیل رانا مدثر عمر ایڈوکیٹ کے ذریعے اپنا مشترکہ خط میڈیاکو جاری کر دیا جس میں صدر آصف علی زرداری کی بانیPTI پر حالیہ بیان بازی کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی انہوں نے پارٹی سے کہاہے کہ رمضان المبارک میں ہر قسم کی احتجاجی تحریک موخر کردی جائے بانیPTI باوقار طریقے سے مشکل حالات میں جیل کاٹ رہے ہیں،حکومت بانیPTIکی صحت پر سیاست بند کرے اور ان کی بہنوں اور ذاتی ڈاکٹرز کو اعتماد میں لیکر علاج کروایا جائے۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ ایک عرصہ سے بانیPTI کی اسیری اورصحت پر فریقین کے درمیان سیاست، سیاست ہورہی ہے جس کا عمران خان کو کوئی فائدہ نہیں ہورہا لیکن حکومت کی نیک نامی بھی شدید متاثرہورہی ہے چونکہ آنکھوں کی شدید بیماری کے باوجود بانیPTI کو جیل میں بہتر طبی سہولتیں فراہم نہیں کی جارہیں اور نہ ہی ان کے اہل ِ خانہ اورپارٹی رہنماؤں کو ملاقاتوں کی اجازت ہے جس کی وجہ سے عوام میں بانیPTI کی مقبولیت مزید بڑھ رہی ہے بے تحاشہ ٹریفک چالانوں،مہنگائی،بیروزگاری،پیرافورسزکی تاجروں سے بدسلوکی جیسے معاملات کی وجہ سے عوام میں شدید اضطراب پایا جاتاہے اس ماحول میں ضروری ہے کہ حکمران عوام کو ریلیف دینے کیلئے ضروری اقدامات کرے تاکہ سیاسی و معاشی بے چینی دور ہوسکے آئے روز نئے نئے شگوفے، شوشے یا پھلجھڑیاں نہ چھوڑیں جائیں حکمرانوں کواٹھکیلیاں سوجھ رہی ہیں جبکہ عوام اپنے حالات کے باعث بیزاربیٹھے ہیں کہیں ضبط کے پریشر ککرہی نہ پھٹ جائیں۔




