روس نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر کسی بھی نئے امریکی حملے کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ خطے میں عرب ممالک اور خلیجی ریاستوں سمیت کوئی بھی کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتا، اور سب سمجھتے ہیں کہ یہ آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران میں عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے زیر کنٹرول جوہری تنصیبات پر پہلے ہی حملے ہو چکے ہیں، لہٰذا کسی بھی نئے امریکی اقدام کے نتائج خطرناک ہوں گے۔
دوسری جانب ایران اور روس نے مشترکہ بحری مشقوں کا آغاز کر دیا ہے، جس میں دونوں ممالک کے بحری جنگی جہازوں نے حصہ لیا۔ بحری مشقوں کے ترجمان رئیر ایڈمرل حسن نے کہا کہ مشقوں کا مقصد سکیورٹی کو فروغ دینا اور پائیدار بحری تعلقات کو مستحکم کرنا ہے۔
اسی دوران واشنگٹن میں غزہ پیس بورڈ کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ تقریبا دس دنوں میں ایران کے بارے میں صورتحال واضح ہو جائے گی اور ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران معاہدہ نہیں کرے گا تو نتائج برے ہوں گے۔
ٹرمپ نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ ایران امن کے راستے پر چلے، اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں، کیونکہ جوہری ہتھیار خطے میں امن کے لیے خطرہ ہیں۔



