واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ 10 دن میں ایران کے بارے میں فیصلہ سامنے آجائے گا اور ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران معاہدہ نہیں کرے گا تو نتائج برے ہوں گے۔
غزہ امن بورڈ کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ ایران امن کے راستے پر چلے اور مشرق وسطی میں امن کے لیے ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہیے، کیونکہ یہ خطے میں امن کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ بامعنی معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، اور تقریبا 10 دنوں میں صورتحال واضح ہو جائے گی۔
صدر ٹرمپ نے غزہ کے بارے میں بھی اہم اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کے لوگوں کے لیے روشن مستقبل چاہتے ہیں اور غزہ کی تعمیر نو اور استحکام کے لیے مختلف ممالک اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ امریکا 10 ارب ڈالرز فراہم کرے گا جبکہ اب تک 7 ارب ڈالرز دیے جا چکے ہیں۔ حماس معاہدے کے تحت اپنے ہتھیار امریکا کے حوالے کرے گا، اور غزہ اب انتہاپسندی اور دہشت گردی کا گڑھ نہیں رہے گا۔
واضح رہے کہ غزہ امن بورڈ کے پہلے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی وزیر اعظم شہباز شریف کر رہے ہیں۔ اجلاس سے پہلے صدر ٹرمپ نے شرکا سے گفتگو بھی کی اور وزیر اعظم شہباز شریف سے جملوں کا تبادلہ کیا۔



