تحریر: محمد انور بھٹی
بندن میاں کہتا ہے کہ کراچی کے گل پلازہ کی آگ کسی ایک لمحے کا حادثہ نہیں تھی یہ برسوں کی غفلت برسوں کی بے حسی اور برسوں کی مجرمانہ خاموشی کا وہ شعلہ تھا جو آخرکار آسمان تک جا پہنچا یہ آگ آسمان سے نازل نہیں ہوئی بلکہ ہم سب نے مل کر اسے سلگایا کبھی فائلوں میں دبا کر کبھی وعدوں میں لپیٹ کر اور کبھی اس سوچ کے ساتھ کہ یہ کسی اور کے حصے کی آگ ہے مگر جب شعلے بلند ہوئے تو انہوں نے کسی ایک دکان کسی ایک منزل یا کسی ایک خاندان کو نہیں جلا ڈالا بلکہ پورے شہر کے ضمیر کو آگ میں جھونک دیا بندن میاں نے جب وہ مناظر دیکھے تو اسے یوں محسوس ہوا جیسے انسان مر رہا ہو اور تماشا زندہ ہے جیسے چیخیں دم توڑ رہی ہوں اور موبائل کی اسکرینیں روشن ہو رہی ہوں جیسے آگ انسان کو کھا رہی ہو اور لائکس اس آگ سے خوراک حاصل کر رہے ہوںایک طرف وہ پلازہ تھا جہاں لوہے کے شٹر موم بن کر بہہ رہے تھے کپڑا بارود میں بدل چکا تھا دکانیں قبرستان کا منظر پیش کر رہی تھیں اور اندر پھنسےتاجر،خریداراور محنت کش زندگی کی آخری بھیک مانگ رہے تھے ان کی چیخیں دیواروں سے ٹکرا کر واپس لوٹ رہی تھیں مگر باہر ایک اور دنیا آباد تھی جہاں موبائل کیمرے آن تھے زاویے درست کیے جا رہے تھے لائیو ویڈیوز چل رہی تھیں اور مسکراہٹوں کی ریہرسل ہو رہی تھی کہ کہیں فالورز کم نہ ہو جائیں کہیں ویوز ضائع نہ ہو جائیں بندن میاں کہتا ہے کہ اس لمحے اسے لگا کراچی صرف جغرافیہ نہیں رہا یہ ایک نفسیاتی تجربہ بن چکا ہے جہاں انسانیت اور بے حسی آمنے سامنے کھڑی ہیں اور افسوس کہ بے حسی جیت رہی ہےکراچی آج دو حصوں میں بٹا ہوا ہے ایک وہ جو جل رہا ہے تڑپ رہا ہے چیخ رہا ہے اور دوسرا وہ جو اس جلتے ہوئے منظر کو ڈیجیٹل سرمائے میں بدل رہا ہے یہ وہی کراچی ہے جو اس ملک کی معیشت کو سہارا دیتا ہے جو سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے جو صنعت کی ریڑھ کی ہڈی ہے مگر خود دہائیوں سے اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے روشنیوں کا شہر اب تقریروں اور فائلوں میں زندہ ہے حقیقت میں یہ شہر تاریکیوں میں جل رہا ہے کبھی آگ سے کبھی پانی سے کبھی بھوک سے کبھی گولی سے اور کبھی ریاستی بے حسی سے
بندن میاں کہتا ہے کہ اس شہر میں رکشہ چلانے والا ہو یا ریڑھی لگانے والا دکاندار ہو یا فیکٹری مزدور سرکاری کلرک ہو یا چھوٹا تاجر سب ایک ہی زنجیر سے بندھے ہوئے ہیں اور اس زنجیر کے دوسرے سرے پر وہ طاقت ور طبقہ بیٹھا ہے جو ہر آفت میں محفوظ رہتا ہے سیاست دان بیوروکریٹ لینڈ مافیا بھتہ مافیا منشیات فروش ٹینکر مافیا یہ سب اس شہر کے خون سے اپنی پیاس بجھاتے ہیں اور پھر بھی مطمئن نہیں ہوتے یہی وجہ ہے کہ کراچی میں سانحے حادثہ نہیں بنتے معمول بن جاتے ہیں اور معمول بن جانے والا سانحہ سب سے خطرناک ہوتا ہےیہاں اصل سوال یہ نہیں کہ آگ کیوں لگی اصل سوال یہ ہے کہ آگ لگنے کے بعد نظام کیوں مفلوج ہو گیا دو ہزار چوبیس کی فائر سیفٹی رپورٹس کہاں ہیں ان پر عمل کیوں نہیں ہوا کتنے پلازے ایسے ہیں جن کے پاس ایمرجنسی اخراج کا راستہ نہیں کتنی عمارتیں ایسی ہیں جہاں فائر الارم صرف کاغذوں میں موجود ہیں کتنی فیکٹریاں اور مارکیٹیں ایسی ہیں جو رشوت دے کر این او سی حاصل کر لیتی ہیں اور کتنے افسر ایسے ہیں جو انسانی جانوں کو فائلوں کے نیچے دفن کر دیتے ہیں بندن میاں کہتا ہے کہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹیاں جوڈیشل انکوائریاں فرانزک تحقیقات معاوضوں کی فہرستیں یہ سب اس ملک کے لفظی قبرستان میں دفن ہو چکی ہیں جہاں ہر فائل ایک قبر ہے اور ہر وعدہ ایک کتبہ فائر بریگیڈ کی تاخیر پانی کی کمی ناکارہ اسنارکل زنگ آلود آلات یہ سب تکنیکی مسائل نہیں یہ ریاستی ترجیحات کا آئینہ ہیں جب ایک شہر اپنی حکومت کی کل ٹیکس آمدن کا اسی فیصد سے زیادہ ٹیکس ادا کرتاہے اور اس کے پاس آگ بجھانے کے بنیادی وسائل بھی نہ ہوں تو یہ نااہلی نہیں بلکہ جرم بن جاتا ہے بندن میاں کہتا ہے کہ جب ہر اجلاس میں وہی جملے دہرائے جائیں اور نتیجہ صفر ہو تو پھر یہ حادثہ نہیں اجتماعی غفلت بن جاتا ہے اور اجتماعی غفلت سب سے بڑا جرم ہے کیونکہ اس میں قاتل بھی ہم ہوتے ہیں اور گواہ بھی ۔ بندن میاں سوال کرتا ہے کہ جب شہر میں آگ لگتی ہے تو ضلعی انتظامیہ کہاں ہوتی ہے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے ادارے کیوں غائب ہو جاتے ہیں فائر بریگیڈ کی گاڑیاں وقت پر کیوں نہیں پہنچ پاتیں اسنارکل کیوں سانس نہیں لے پاتیں کیا یہ سب بھی کسی فائل میں اجازت نامے کے انتظار میں کھڑے ہوتے ہیں کیا انسانی جان کی قیمت ایک دستخط سے کم ہو چکی ہےبندن میاں کہتا ہے کہ المیہ صرف یہ نہیں کہ حکومت وقت ناکام ہے المیہ یہ بھی ہے کہ حکومت مخالف سیاست دان بھی اپنی ذمہ داری نبھانے میں بری طرح ناکام رہے ہیں اسمبلیوں کے اندر اور باہر شور بہت ہے مگر حل کہیں نہیں احتجاج کی سیاست زندہ ہے مگر اصلاح کی سیاست دفن ہو چکی ہے میڈیا پر آ کر اپنی اپنی برتری ثابت کرنے کا مقابلہ جاری ہے کوئی حکومت کو کوس رہا ہے کوئی اپوزیشن کو مگر شہر کے جلتے ہوئے مسائل پر سنجیدہ اور مسلسل عمل کسی کے ایجنڈے میں شامل نہیں یہی وجہ ہے کہ مافیا مضبوط ہیں اور عوام یرغمال۔یہاں بیوروکریسی کا کردار بھی بندن میاں کو کچوکے لگاتا ہے وہ کہتا ہے کہ فائل کلچر نے اس شہر کو قبرستان میں بدل دیا ہے ہر فائل میں ایک مسئلہ دفن ہے ہر میز پر ایک ذمہ داری سو رہی ہے ہر دستخط میں ایک تاخیر شامل ہے افسر بدل جاتے ہیں فائلیں وہیں رہتی ہیں سانحات پر تبادلے ہو جاتے ہیں مگر نظام وہی رہتا ہے اور یہی تسلسل اس آگ کو ایندھن فراہم کرتا ہےمیڈیا کا کردار بھی بندن میاں کو بے چین کرتا ہے وہ کہتا ہے کہ اس شہر کے سانحات کو ریٹنگ کے پیمانے پر تولا جاتا ہے جب آگ لگتی ہے اور سانحہ اور حادثہ رونما ہوجاتاہے تو کیمرے پہنچ جاتے ہیں جب لاشیں اٹھا لی جاتی ہیں تو کیمرے واپس چلے جاتے ہیں تحقیق سوال اور فالو اپ کہیں نہیں ہوتے اینکرز کی آواز بلند ہوتی ہے مگر نظام کے دروازے بند رہتے ہیں یوں میڈیا بھی انجانے میں تماشائی بن جاتا ہے اور تماشائی بننے والا معاشرہ کبھی زندہ نہیں رہتا۔کراچی کے سانحات صرف عمارتوں کو نہیں جلاتے یہ خاندانوں کو راکھ کر دیتے ہیں وہ والدین جو اپنے جوان بیٹوں کو محنت کے لیے بھیجتے ہیں شام کو لاشیں وصول کرتے ہیں وہ بہنیں جو بھائیوں کے سہارے جیتی ہیں اچانک خالی ہاتھ رہ جاتی ہیں وہ عورتیں جو جوانی میں بیوہ ہو جاتی ہیں وہ بچے جو یتیم ہو کر زندگی کے معنی سیکھنے سے پہلے بوجھ اٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں بندن میاں کہتا ہے کہ ان سب کا کوئی مستقل ڈیٹا کوئی بحالی منصوبہ کوئی نفسیاتی سہارا موجود نہیں ہوتا بس چند رسمی اعلانات اور پھر خاموشی۔یہ شہر قربانی دینا جانتا ہے رمضان میں دسترخوان بچھاتا ہے آفات میں دل کھول کر مدد کرتا ہے مگر اس شہر کے ساتھ سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ اس کی قربانی کو کمزوری سمجھ لیا گیا ہے یہاں عوام ہر بار ایڈجسٹ کر لیتی ہے پانی نہ ہو تو ٹینکر خرید لیتی ہے بجلی نہ ہو تو جنریٹر چلا لیتی ہے آگ لگے تو خود ہی جان بچانے کی کوشش کرتی ہے اور یہی ایڈجسٹمنٹ حکمرانوں کے لیے ڈھال بن جاتی ہے۔شہری منصوبہ بندی کی تباہی بھی اس آگ کی خاموش وجہ ہے غیر قانونی تعمیرات تنگ گلیاں تجاوزات اور ناقص انفراسٹرکچر ہر حادثے کو بڑے سانحے میں بدل دیتا ہے بندن میاں کہتا ہے کہ شہر کو نقشوں پر نہیں نفع کے ترازو میں تولا گیا ہے جہاں قانون سرمایہ دار کے قدموں میں رکھا جاتا ہے اور عام آدمی کو ملبے تلے دبا دیا جاتا ہے۔بندن میاں کراچی کی تاریخ کو یاد کرتا ہے تو اسے ایک ایسا شہر دکھائی دیتا ہے جو مہاجرین کی آغوش تھا صنعت کا مرکز تھا خوابوں کی سرزمین تھا مگر آج یہی شہر لینڈ مافیا کے قبضے میں ہے غیر قانونی تعمیرات کا جنگل بن چکا ہے اور قانون صرف کمزور کے لیے رہ گیا ہے طاقت ور کے لیے راستے کھلے ہیں اور یہی عدم توازن آگ کو جنم دیتا ہے۔یہ خاموشی یہ بے حسی یہ تماشائیت سب سے خطرناک ہے کیونکہ یہی آگ کو طاقت دیتی ہے یہی مافیا کو جرات دیتی ہے اور یہی نظام کو سست رو بنا دیتی ہے بندن میاں کہتا ہے کہ اگر اب بھی آنکھیں نہ کھلیں اگر اب بھی ذمہ داروں کا تعین نہ ہوا اگر اب بھی فائر سیفٹی کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا اگر اب بھی سیاست دان اپنی انا سے باہر نہ نکلے اگر اب بھی میڈیا صرف تماشا دکھاتا رہا تو یہ آگیں لگتی رہیں گی اور ہم سب کبھی جلنے والوں میں ہوں گے کبھی ویڈیو بنانے والوں میں۔آخر میں بندن میاں کہتا ہے کہ یہ تحریر کسی ایک پلازہ کسی ایک حکومت یا کسی ایک سانحے کے خلاف نہیں یہ پورے اجتماعی رویے کے خلاف فرد جرم ہے یہ سوال ہر اس شخص سے ہے جو اس شہر میں رہتا ہے کہ ہم انسان ہیں یا تماشائی اگر ہم نے انسان بننے کا فیصلہ نہ کیا تو یہ شہر یونہی جلتا رہے گا اور ہم راکھ پر کھڑے ہو کر صرف ویڈیو بناتے رہ جائیں گے اور بندن میاں ہر بار راکھ میں بیٹھ کر یہی سوال دہراتا رہے گا کہ کیا یہ شہر صرف مرنے کے لیے بنا تھا یا کبھی جینے کے لیے بھی




