جون 3, 2026

نصف آبادی کی آواز، شناختی کارڈ سے ووٹ تک خواتین کی جمہوری شمولیت کا سفر

تحریر : محمد مظہررشید چودھری (03336963372 )

اوکاڑہ میں خواتین کو ووٹر بنانے اور قومی شناختی کارڈ کے حصول کے لیے آگاہی کے عنوان سے ایک اہم سیمینار ای لائبریری میں منعقد ہوا، جس کا اہتمام ڈسٹرکٹ پروبیشنر آفیسر خاور وحید نے کیا۔ سیمینار میں مختلف سرکاری اداروں، سماجی تنظیموں اور میڈیا سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی، جبکہ خواتین کی بڑی تعداد نے بھی دلچسپی کے ساتھ پروگرام میں حصہ لیا۔سیمینار کے مہمان مقررین میں محمد شفیق چودھری ضلعی الیکشن کمشنر اوکاڑہ، رانا محمدعباس ڈپٹی ڈائریکٹر این سی ایچ ڈی، ملک نیاز اسسٹنٹ ڈائریکٹر این سی ایچ ڈی، سید نجم الحسن گیلانی اور راقم الحروف( محمد مظہر رشید چودھری )صحافی و کالم نگار اورصدر سماجی تنظیم ’ماڈا‘ شامل تھے۔پروگرام کے آغاز میں مقررین نے خواتین کے حقوق پر سیر حاصل گفتگو کی۔ اس موقع پر اس بات پر خصوصی زور دیا گیا کہ اسلام نے عورت کو واضح حقوق دیے ہیں، جن کی تاکید حضور اکرم ﷺ نے خطبہ حجة الوداع میں بار بار فرمائی۔ عورت کے احترام، اس کے حقوق اور اس کے سماجی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا گیا کہ ووٹ کا حق بھی انہی بنیادی حقوق میں شامل ہے۔ضلعی الیکشن کمشنر محمد شفیق چودھری نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ضلع اوکاڑہ کی آبادی میں خواتین کا تناسب مردوں سے زیادہ ہے، مگر اس کے باوجود خواتین ووٹرز کی تعداد میں ایک لاکھ اکسٹھ ہزار کا نمایاں فرق موجود ہے۔ اس جینڈر گیپ کی بڑی وجہ خواتین کے شناختی کارڈ اور ووٹر رجسٹریشن کا نہ ہونا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ الیکشن کمیشن ’نادرا‘ کے تعاون سے موبائل رجسٹریشن وینز کے ذریعے گھر گھر جا کر خواتین کے شناختی کارڈ اور ووٹ کے اندراج کا عمل تیز کر رہا ہے۔راقم الحروف (محمدمظہررشید چودھری )نے اپنے خطاب میں اس نکتے پر توجہ دلائی کہ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں بلکہ اپنی رائے کے اظہار کا حق ہے۔ جب معاشرے کی نصف آبادی اس عمل سے باہر رہ جائے تو جمہوری فیصلے ادھورے رہ جاتے ہیں۔ دیہی علاقوں میں خواتین کے شناختی کارڈ نہ بننے کی وجوہات میں جاگیردارانہ سوچ، وراثت کے خوف اور سماجی رکاوٹوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ قرآن مجید نے عورت کو وراثت میں حق دیا ہے، جس سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں۔رانا محمدعباس نے این سی ایچ ڈی کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ادارہ نچلی سطح پر آگاہی مہم چلا رہا ہے تاکہ خواتین کو شناختی کارڈ، ووٹ کے اندراج اور حق رائے دہی کے استعمال کے بارے میں مکمل رہنمائی دی جا سکے۔

سید نجم الحسن گیلانی نے تنظیم کے تحت جاری سرگرمیوں کا ذکر کیا اور علماءکرام، مقامی عمائدین اور یونین کونسل کی سطح پر نمائندوں کے کردار کو انتہائی اہم قرار دیا۔سیمینار میں اس امر پر بھی بات ہوئی کہ فوت شدہ افراد کے شناختی کارڈ بروقت کینسل نہ کرانے سے مسائل پیدا ہوتے ہیں، اس لیے ’نادرا‘ میں اس حوالے سے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ضروری ہے۔ مزید یہ کہ دور دراز علاقوں میں بعض مذہبی اور سماجی غلط فہمیاں بھی خواتین کے شناختی کارڈ اور ووٹ کے راستے میں رکاوٹ بنتی ہیں، جنہیں مکالمے اور آگاہی کے ذریعے دور کیا جا سکتا ہے۔آخر میں مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایک ایک ووٹ ملک کی تقدیر بدلنے کی طاقت رکھتا ہے۔ خواتین کو نہ صرف ووٹ ڈالنے کی اجازت دی جائے بلکہ انہیں اس عمل میں بااختیار بھی بنایا جائے۔ شرکاءنے سوال و جواب کے سیشن میں بھرپور دلچسپی لی اور سیمینار کو مفید اور معلوماتی قرار دیا۔یہ سیمینار اوکاڑہ میں خواتین کی سیاسی شمولیت کے حوالے سے ایک مثبت قدم ثابت ہوا، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں ووٹر رجسٹریشن اور انتخابی عمل میں نظر آنے کی امید ہے۔سیمینار کے اختتام پر علامتی آگاہی واک کی گئی