جون 14, 2026

جامعہ گجرات کے مرکز برائے میڈیا و کمیونیکیشن سٹڈیز کے زیر اہتمام ”پاکستان میں میڈیا کی تدریجی ترقی کا منظر نامہ:مسائل،چیلنج اور مستقبل کے امکانات“ کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد

(پ۔ر)جامعہ گجرات کے مرکز برائے میڈیا و کمیونیکیشن سٹڈیز کے زیر اہتمام ایک سیمینار ”پاکستان میں میڈیا کی تدریجی ترقی کا منظر نامہ:مسائل،چیلنج اور مستقبل کے امکانات“ کا انعقاد حافظ حیات کیمپس میں ہوا۔بی ایس کے تیسرے سمسٹر کے طلبہ اور سمسٹر انسٹرکٹر ثوبیہ فاروق کی کاوشوں سے منعقدہ سیمینار کا مقصد صحافت و ابلاغیات کے طالب علموں میں ذمہ دارانہ ابلاغیاتی شعور کو پروان چڑھاتے ہوئے ان کی فکری و ذہنی تربیت تھا۔مہمانان اعزاز میں ڈین فیکلٹی برائے آرٹس پروفیسر ڈاکٹر زاہد یوسف، معروف صحافی و صدر کنجاہ پریس کلب یاور عباس،انچارج میڈیا ڈاکٹر محمد یوسف،علی رضا،شاہد عزیر، شہباز احمد، شاہد ڈار، احسان فیصل کنجاہی، سید حسین اکبر و دیگر شامل تھے۔یاور عباس نے کہا کہ صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے۔ بادشاہت میں تمام اختیارات کا مرکز و محور فرد واحد ہوتا تھا۔جوں جوں انسانی تہذیب کا ارتقا ہوا تو مختلف ادارے جیسا کہ مقننہ، عدلیہ اور بیوروکریسی وغیرہ ریاست کے ستون بن گئے۔ صحافی اپنے زور قلم کے بل پر مفاد عامہ کے لیے جدوجہد کا علمبردار ہوتا ہے۔ صحافی کا ویژن وسیع ہونا چاہیے۔مسائل کی نشاندہی میں صحافی ہراول دستہ کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک سچا کھرا صحافی سچ کو سامنے لانے کے لیے ہمیشہ جدوجہد کرتا ہے۔ چیلنجوں کا مقابلہ ہی ایک سچے صحافی کو مقام عطا کرتا ہے۔ خطہ گجرات نے پاکستان کو نامور صحافی عطا کیے ہیں۔ طلبہ کامیاب صحافیوں کے نقش قدم کو اپناتے ہوئے جرنلزم میں اپنا نام بنا سکتے ہیں۔ جاندار رپورٹنگ ایک صحافی کو نمایاں کرتی ہے۔ یاور عباس نے طلبہ کو ایک کامیاب صحافی بننے ے کے اصول و تکنیک بارے تفصیلی آگاہ کیا۔آزادی اظہاررائے بے مہار ہونے کا نام نہیں۔ خبر ہمیشہ حقائق پر مبنی ہونی چاہیے۔ ڈاکٹر محمد یوسف نے کہا تدریس کا مقصد طلبہ میں قائدانہ صلاحیتوں کو بیدار کرنا ہے۔ کمیونٹی جرنلزم کو اہمیت دیتے ہوئے صحافت زیادہ امکانات کی متحمل ہو سکتی ہے۔ صحافی کا اصل فریضہ مقامی مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے عوامی مفاد عامہ کا خیال رکھنا ہے۔ دور حاضر میں صحافت کا دائرہ کار وسیع ہو چکا ہے۔ مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارموں نے ہر فرد کو اظہار رائے کا بہترین موقع فراہم کیا ہے۔مطالعہ اور خصوصاً تقابلی مطالعہ طلبہ کو کامیاب صحافی بننے میں مدد دیتا ہے۔ دور حاضر میں روایتی صحافت کا انداز بدل چکا ہے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کی بنا پر دور حاضر میں فیک نیوز کا چلن بھی عام ہو چکا ہے۔ اس سلسلہ میں ڈیجیٹل لٹریسی کو عام کرتے ہوئے عوام الناس کی تربیت ایک بہترین خدمت ہے تاکہ وہ کھری اورکھوٹی خبروں میں تمیز کرنے کے قابل ہو سکیں۔ خبروں کے بین السطور میں جھانکتے ہوئے اصل حقائق کو جاننے کی کوشش کریں۔ صحافت میں مثبت اقدار کو اپناتے ہوئے عوام الناس کی فلاح کو مد نظر رکھیں۔ علی رضا نے کہا کہ صحافت معاشرہ کی آنکھ اور کان کی حیثیت رکھتی ہے۔ پرنٹ میڈیا کو آج بھی سوشل میڈیا پر مسابقت حاصل ہے۔ سوشل میڈیا نے عمومی صحافت کے مزاج پر گہرا اثر ڈالتے ہوئے خبر کے رنگ ڈھنگ کو بدل دیا ہے۔ دور حاضر میں ہر فرد واحد خود کو صحافی سمجھتا ہے۔ صحافت سنسنی خیزی پھیلانے کا نام نہیں بلکہ حقائق کی ترجمانی ہوتی ہے۔ صحافتی اخلاقیات کو ملحوظ خاطر رکھنا از حد لازم امر ہے۔ صحافی کو اصولوں پر کبھی بھی سمجھوتہ نہ کرنا چاہیے۔ شاہد عزیر نے کہا کہ دور حاضر میں صحافت کے تمام انداز بدل چکے ہیں۔ ایک صحافی کو سیکھنے کا عمل مسلسل جاری رکھنا چاہیے۔ آج مروجہ صحافت قصہ پارینہ بن چکی ہے۔میڈیا حقائق سے آگاہ کرتے ہوئے رائے عامہ کی تشکیل کرتا ہے۔ غیر مصدقہ خبر آج کے زمانہ میں تیزی سے پھیلتے ہوئے رائے عامہ پر معکوس اثرات مرتب کرتی ہے۔ دور حاضر میں صحافت کو کئی مسائل کا سامنا ہے۔ ثوبیہ فاروق نے کہا کہ صحافت کا علم و ادب سے گہرا تعلق ہے۔ مطالعہ صحافت کو چار چاند لگاتا ہے۔ ذمہ دارانہ صحافت سوسائٹی میں توازن و اعتدال کا بول بالا کرتی ہے۔ قومی میڈیا لوکل میڈیا سے ہی اپنی خبریں حاصل کرتا ہے۔ CMCSکی سینیئر فیکلٹی ڈاکٹرفائزہ باجوہ نے تمام حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دنیا بے انتہا بدلاؤ کے عمل سے گزر رہی ہے۔نسل نو لیاقت و صلاحیت کی دولت سے مالا مال ہے۔دور حاضر کی مہارتوں کو سیکھتے ہوئے صحافت کے میدان میں بہترکار کردگی کے امکانات موجود ہیں۔ایک طالبہ نیہا زیب ڈار نے اپنی پریزنٹیشن پیش کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کی بحالی کرپشن کے خلاف مہم اور پاکستان میں صحافیوں کی جدوجہد قابل ذکر امور ہیں۔ انہوں نے کئی بڑے پاکستانی صحافیوں کا نام لیتے ہوئے اپنی رائے ظاہر کی۔