جون 14, 2026

حافظ نعیم الرحمن کا خطاب: نوجوان اور ملکی تقدیر کا بدلتا دھارا

تحریر: محمد عارف خان

حافظ نعیم الرحمن، امیر جماعت اسلامی پاکستان کا 12 جون 2026 کو ملک بھر کے نوجوانوں سے کیا گیا خطاب ایک جامع انقلابی اور اصلاحی ایجنڈے پر مبنی تھا جس میں انہوں نے موجودہ ریاستی نظام کی ناکامیوں، نوجوانوں کے کردار اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی گفتگو کی۔
خطاب کے دوران حافظ نعیم الرحمن نے سورہ العنکبوت کی آیت کا حوالہ دیا: "والذین جاہدو فینا لنہدینہم سبلنا وان اللہ لمع المحسنین” اس تلاوت اور قرآنی پیغام کا خلاصہ یہ ہے کہ
جو لوگ اللہ کی راہ میں جدوجہد اور کوشش کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ لازماً ان کے لیے اپنی ہدایت کے راستے کھول دیتا ہے اور یقیناً اللہ کی نصرت احسان (بہترین عمل) کرنے والوں کے ساتھ ہوتی ہے
خطاب کاکلاصہ

نوجوانوں کا کردار اور تاریخی تناظر
حافظ نعیم الرحمن نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا میں کوئی بھی انقلاب نوجوانوں کے بغیر ممکن نہیں۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی مثال دی کہ آپ ﷺ کی ٹیم میں بڑی تعداد نوجوان صحابہ (جیسے حضرت علیؓ، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ اور حضرت مصعب بن عمیرؓ) کی تھی جنہوں نے علم، دعوت اور جہاد کے میدانوں میں کارنامے سرانجام دیے۔ انہوں نے تحریکِ پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کلمہ طیبہ کے نام پر بنا تھا مگر آج تک اپنی اصل منزل حاصل نہیں کر سکا۔

موجودہ نظام اور بیوروکریسی
انہوں نے موجودہ بیوروکریسی، جاگیردارانہ اور جرنیلی نظام کو انگریز کا بنایا ہوا نظام قرار دیا جس کا مقصد عوام کی خدمت کی بجائے انہیں "ہینڈل” اور "کنٹرول” کرنا ہے۔
ان کے بقول، یہ نظام عوام کو خادم اور خود کو حاکم سمجھتا ہے۔ جاگیردار طبقہ جو ملک کی بڑی زمینوں کا مالک ہے صرف 10 سے 12 ارب روپے ٹیکس دیتا ہے جبکہ تنخواہ دار طبقہ 700 ارب روپے کا بوجھ اٹھاتا ہے۔

اقتصادی ناانصافی اور بجٹ
امیرِ جماعت نے پیٹرولیم لیوی اور بجلی کے بلوں میں ہونے والے ظلم کو بے نقاب کیا
پیٹرولیم لیوی: 2001 سے اب تک عوام سے 8000 ارب روپے وصول کیے گئے مگر ریفائنریوں کی بہتری پر 500 ارب بھی خرچ نہیں ہوئے۔
آئی پی پیز (IPPs) مافیا: ایک سال میں 1800 ارب روپے اس بجلی کے عوض دیے گئے جو پیدا ہی نہیں کی گئی۔ انہوں نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف ملک گیر ہڑتال اور سڑکوں پر نکلنے کی کال دینے کا عندیہ دیا

سیاسی صورتحال اور کراچی کا مقدمہ
انہوں نے کراچی کے بلدیاتی انتخابات اور عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی (فارم 47) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی، نون لیگ اور ایم کیو ایم کو اسٹیبلشمنٹ کی "اے پلس ٹیمیں” ہونے کے ناطے اقتدار تحفے میں دیا گیا۔

تعلیمی زوال اور سماجی مسائل
حافظ نعیم نے تعلیمی اداروں کی زبوں حالی (بشمول کراچی یونیورسٹی اور وفاقی اردو یونیورسٹی) کا ذکر کیا جہاں بنیادی سہولیات اور اساتذہ کی تنخواہوں کا فقدان ہے۔ انہوں نے ہندوستان کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی مثال دی کہ وہاں غریب کے لیے سستی تعلیم میسر ہے جبکہ پاکستان میں مڈل کلاس کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے تعلیمی اداروں میں پھیلتی منشیات کو ایک بڑا کرائم قرار دیتے ہوئے نوجوانوں کو اس کے خلاف تحریک چلانے پر زور دیا۔

مستقبل کا تنظیمی اور سیاسی لائحہ عمل
نوجوانوں کے لیے انہوں نے درج ذیل اقدامات کا اعلان کیا
یوتھ الیکشن: ستمبر میں محلے اور گاؤں کی سطح پر یوتھ الیکشن کرائے جائیں گے۔
متناسب نمائندگی: انہوں نے ملک میں "متناسب نمائندگی” کے نظام کا مطالبہ کیا تاکہ ہر ووٹ کی اہمیت ہو اور کوئی ووٹ ضائع نہ ہو جبکہ یوتھ الیکشن متناسب نمائندگی کے طریق کار کے مطابق ہوں گے
بنو قابل پروگرام: نوجوانوں کو ہنر سکھانے، اسٹارٹ اپس شروع کرنے اور اخلاقی تربیت کے لیے "بنو قابل” جیسے پروگراموں کی توسیع کی جائے گی۔

کشمیر اور قومی اتحاد
انہوں نے کشمیر کے عوام کے مطالبات کی حمایت کی اور کہا کہ طاقت کے زور پر یا غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹ کر مسائل حل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کشمیری، بلوچ، پختون اور سندھی نوجوانوں کو متحد ہو کر اس حکمران طبقے سے نجات حاصل کرنے کی دعوت دی جو امریکہ کے ایجنٹ بنے ہوئے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن کا خطاب نوجوانوں کو ایک منظم سیاسی اور سماجی قوت میں بدلنے کی کوشش تھی جس کا مقصد پاکستان کو اس کی اصل منزل یعنی اسلامی انقلاب تک پہنچانا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ ظلم کے خلاف اللہ کی رضا کے لیے کھڑے ہوں۔