تحریر: قاضی محمد فضلِ عثمان
پاکستان کے معروضی حالات پہ نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ پاکستان اس وقت کس دور سے گزر رہا ہے ۔ جب سے ہندوستان کی ناک خاک آلود ہوئی ہے ، پروپوگنڈا مشینری اور اس کی مدد سے سرگرم اکایئاں بڑی تیزی سے عدم استحکام کے نت نئے طریقے تلاش کرکے پاکستان کے در پیئے آزار ہیں ،
کج شہر دے لوگ وی ظالم سن ۔۔۔۔۔ کج سانوں مرن دا شوق وی سی
کے مصداق ،کچھ لوگ اور تنظیمیں پاکستان کے استحکام سے ادھار کھائے بیٹھی ہیں کہ موقع ہاتھ آئے تو ضرب لگائیں ، کی بورڈ واریئرز ، سابقہ عسکری اسٹیبلشمنٹ کے پروردہ کالم نویس اور کچھ کن کترے بالکل فارغ ہیں اس کام کے لیے ، اسی دوران کشمیر میں کچھ حرکت ہوئی ، پتہ نہیں اس کا سبب کیا تھا لیکن یار لوگوں کو ایک مسئلہ ہاتھ آگیا اور ہوگئے شروع پاکستان پہ تبرہ بازی کرنے ، ایک خالصتا انتظامی مسئلہ کو بنیاد بناکر وہ گرد اٹھائی گئی کہ الامان والحفیظ ۔۔
حککومت پاکستان حسب معمول ستو پی کر سوئی رہی تاآنکہ مسئلہ نے گلے سے پکڑلیا ۔ پھر وہی ہارڈ سٹیٹ والا فارمولا ، جو آج کل سکہ رائج الوقت بنادیا گیا ہے ، چلایا گیا ۔ ابھی تک اس کی افادیت اور موجودہ حالات میں اس کی موزونیت پر سوالات ہیں ۔ لیکن قظع نظر اس کے کہ کامیاب ہو یا ناکام ، پاکستان کے پاس اب اس کے سوا چارہ بھی تو نہیں ہے ۔ ایک موقر کالم نگار جناب عامر خاکوانی کے آج کے کالم میں بھی اس کی طرف اشارہ بھی ہے ۔
کشمیر کے حالات اور ٹکراو کی صورت حال میں ایک بات واضح ہوئی ہے کہ ہمارے اندر عصبیت اور لسانیت انتہائی حد تک موجود ہے ۔ ہر ایک کا پنا اپنا سچ ہے ۔لوگ اپنی حمائت یافتہ جماعت کی حمائت میں ہر حد تک جانے کو تیار ہیں ۔ اچھے بھلے تعلیم یافتہ لوگ اس رو میں بہ گئے تو یہ احساس ہوا کہ ملک کے ساتھ وفاداری دکھانے والے کم اور قبیلے کے ساتھ وفادار زیادہ ہیں ، بیرون ملک پاکستان کے سفارت خانوں کے باہر احتجاج کے نام پر بد تمیزی کا طوفان بپا کیا گیا ۔ لوگوں کے اندر کا جو ہیجان تھا وہ چھلک پڑا ۔ آج کل کے حالات میں بدتمیزی کلچر زیادہ بکتا ہے تو اس بنیاد پر اس کو دشمن ہمسایہ سے اور بیرون ملک عادل راجوں ، معید پیرزادوں ، وغیرہ سے خوب پذیرائی ملی ۔
اس سارے معاملات میں ایک چیز کلیر ہوئی کہ جب لبیک والوں کے ساتھ ریاست نے ہارڈ سٹیٹ والا رویہ اپنایا تو سوائے چند لوگوں کے باقی سب نے لب سی لیے ۔یا مخالفت میں اپنا کندھا پیش کیا ۔ قوم یوتھ نے انہیں خوب ہلہ شیری دی کہ چڑھ جاؤ ماردو وغیرہ لیکن بھلا ہو اہلسنت کے محب وطن علما کا جنہوں نے لوگوں کی گالیاں کھائیں لیکن اس عمل کو ملک دشمنی کی طرف نہیں موڑا ۔
اب جب کہ پاکستان کے تعمیری کردار کو پوری دنیا تسلیم کر رہی ہے ، ایک بری جنگ پاکستان اپنے زور بازو سے تقریبا ٹالنے میں کامیاب ہوا ہے ، پیس میکر کا امیج پوری طرح آشکار ہوا ہے تو یار لوگوں کی تکلیف تو بنتی ہے ۔ اس لیے پاکستان کے محب وطن لو گ پاکستان کے سافٹ امیج کی بحالی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں ۔
یہ مشکل وقت بھی گزر جایئگا ، پاکستان ان شاءاللہ دنیا میں امن عالم کا ضامن بنے گا ۔جلنے والے جلتے رہیں گے ۔ معاشی مجبوریاں بھی ختم ہو جائیں گے ۔خیر ہی خیر ہو گی ان شاء اللہ العزیز
پاکستان زندہ باد




