اسلام آباد: دفترِ خارجہ نے ناروے کے سفیر کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت پر ڈیمارش جاری کیا ہے۔ ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق ناروے کے سفیر نے 11 نومبر کو سپریم کورٹ میں ایمان مزاری کیس کی سماعت میں شرکت کی، جو سفارتی حدود سے تجاوز اور پاکستان کے عدالتی معاملات میں براہِ راست مداخلت ہے۔ کسی بھی ملک کے سفیر کی زیرِ سماعت مقدمے میں موجودگی بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی سمجھی جاتی ہے۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، ناروے کی مختلف این جی اوز پاکستان میں ایسے عناصر کی حمایت کرتی ہیں جو پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور انہیں پلیٹ فارم فراہم کرتی ہیں۔ ویانا کنونشن کے تحت سفارت کار میزبان ملک کے قوانین کا احترام کرنے اور اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کے پابند ہیں۔
ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان نے ناروے کے سفیر کو انتہائی غیر ذمے دارانہ رویے کے بعد ڈیمارش جاری کیا ہے اور واضح کیا کہ پاکستان اپنے اندرونی معاملات میں کسی قسم کی مداخلت برداشت نہیں کرے گا۔ پاکستان ناروے کی خودمختاری اور داخلی امور کا احترام کرتا ہے اور توقع رکھتا ہے کہ ناروے بھی پاکستان کی خودمختاری کا مکمل احترام کرے گا۔
دفترِ خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ ناروے ویانا کنونشن میں اپنی ذمہ داریوں پر قائم رہے اور مستقبل میں سفارتی تقاضوں کی مکمل پاسداری کرے۔




