جون 2, 2026

واشنگٹن: پاکستان امریکی صدر ٹرمپ کا پسندیدہ ملک، بھارت کو مسلسل دباؤ کا سامنا ، بلومبرگ کا دعویٰ

واشنگٹن: امریکی جریدے بلومبرگ نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پسندیدہ ملک بن چکا ہے، جبکہ بھارت کو مسلسل دباؤ کا سامنا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے نہایت ہوشیاری سے ٹرمپ انتظامیہ کے سامنے اپنی اہمیت کو اجاگر کیا ہے اور اس کے نتیجے میں پاکستان امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدوں میں شامل چند ممالک میں شامل ہو گیا ہے۔بلومبرگ کے مطابق پاکستان اور امریکی حکومت کے درمیان تعلقات کی مضبوطی کا آغاز پاک بھارت جنگ کے دوران ہوا، جب پاکستان نے ٹرمپ کے جنگ بندی کے اعلان کو خوش دلی سے قبول کیا، جبکہ بھارت نے اس کی مخالفت کی۔ جریدے نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے پاس ایسے قیمتی اثاثے موجود ہیں جو امریکہ کے عالمی مفادات کے لیے خاص اہمیت رکھتے ہیں، جن میں دنیا کے سب سے بڑے سونے اور تانبے کے ذخائر بھی شامل ہیں، جن کی ابھی تک مکمل دریافت نہیں ہوئی ہے۔رپورٹ میں ایک دلچسپ پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امریکی صدر سے ملاقات سے اجتناب کیا کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ اس ملاقات میں پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کروا دی جائے۔ بلومبرگ کا کہنا ہے کہ مودی نے 17 جون کو امریکی صدر کی کھانے کی دعوت قبول کرنے سے انکار کیا، اور اسی روز دونوں کے درمیان 45 منٹ کی طویل فون پر گفتگو ہوئی، جسے بھارت اور امریکہ کے تعلقات میں تناؤ کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔امریکی جریدے نے مزید بتایا کہ اس ٹیلی فونک گفتگو کے بعد امریکا اور بھارت کے تعلقات میں تلخی پیدا ہونا شروع ہوئی، جس کا اثر دونوں ملکوں کی خارجہ پالیسیوں پر بھی نظر آیا ہے۔