اپریل 18, 2026

پنجاب ۔۔۔۔۔۔ خطہ حریت

تحریر:راجہ شہزاد۔ احمد۔ (کھاریاں )

پنجاب ، منہاج القرآن ماڈل ٹاؤن لاہور میں 17 انسانی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔سب سے پہلے سسٹم کے خلاف آواز بلند کرنے والا خطہ پنجاب ہے آئیے ذرا جائزہ لیتے ہیں

2014 میں منہاج القرآن انٹرنیشنل کے مرکزی سیکرٹریٹ پر پنجاب پولیس نے براہ راست فائرنگ کی اور سترہ درود پڑھتے کارکنان کو گولیوں کا نشانہ بنایا جن میں دو خواتین۔ بھی تھیں
پھر صرف ملک پر مسلط جعلی انتخابی و عدالتی نظام کو بدلنے نیز مظلومین اور شہداء کو انصاف کی فراہمی کے لیے 70 دن مسلسل تحریک منہاج القرآن کے پلیٹ فارم سے اسلام آباد میں دھرنا دیا گیا جس میں ڈاکٹر قادری نے اس ظالمانہ نظام کو مسائل کی ماں قرار دیا اور اس کو جڑ سے اکھاڑنے کو ملک و قوم کی نجات قرار دیا
اسی پنجاب میں تحریک لبیک کے زیر انتظام دھرنا فیض آباد ہوا اور مسلسل کارکنان نے حکومتی جبر و تشدد کا سامنا کیا
خیبر پختونخوا ،میں اس طرح کی کسی تحریک کی مثال موجود نہیں ہے۔ بلوچستان میں بھی سی پیک کے خلاف اور مسنگ پرسنز کے ایشوز کے تحت دھرنے ہوئے چمن میں افغانستان کے ساتھ بارڈر کھولنے کے لیے بھی دھرنا دیا گیا یعنی بلوچستان کے برادرز کے دھرنوں کے مقاصد محدود تھے
آزاد کشمیر میں جو تحریک چلی اس کا مقصد بھارت سے آزادی حاصل کرنا نہیں تھانہ ہی اس کا مقصد اسلامی نظام کا نفاذ تھا بلکہ بجلی اور گندم کے ریٹ کم کروانا مقصد تھا۔ جو بہت ہی چھوٹا اور محدود مقصد ہو سکتا ہے

صرف پنجاب وطن عزیز کا وہ خطہ ہے جس نے مسلسل مار بھی کھائ ہے اور شہادتیں بھی ہوئ ہیں اور ان کے مقاصد بھی کہیں اعلی ‘ و ارفع تھے۔ یعنی ظالمانہ نظام کی تبدیلی ، طاقتوروں کے خلاف ایف آئی آر کٹوانا ، تحفظ ختم نبوت ۔۔۔۔۔مولانا مودودی رح اور مولانا عبد الستار خان نیازی رح کو عدالت سے پھانسی کی سزا سنائی گئی کیونکہ وہ ختم نبوت کے عظیم مقصد کی خاطر مسلسل جدوجہد کر رہے تھے ۔۔(۔1953 )
علم الدین شہید رح سے لے کر عامر چیمہ شہید رح تک ، کتنے نام ہیں جو ناموس رسالت مآب کی خاطر پھانسی کے تختے پر جھول گئے ۔۔۔سب پنجاب کے تھے۔ الحمد للہ رب العالمین
پنجاب نے 1947 کی ہجرت ، کے ساتھ ساتھ 1965 اور 1971 کی جنگوں میں براہ راست انڈیا کا سامنا کیا وطن عزیز کے دفاع کے سلسلے میں آج تک پاک فوج کے گیارہ مجاہدین کو نشان حیدر دیا گیا ہے جن میں سے 8 نشان حیدر پنجاب کے ہیں دو۔۔۔ کے پی کے ، اور ایک آزاد کشمیر کا ہے سوویت یونین کے خلاف گوریلا جنگ کے دوران بھی پنجاب میں افغان مہاجرین کی ایک بہت بڑی تعداد آئ جس کو خندہ پیشانی سے جگہ دی گئ

تحریک نظام مصطفیٰ 1977 ،تحریک ختم نبوت 1953 اور 1974 میں پنجاب نے اتنی قربانیاں دی ہیں کہ حکمرانوں کو گھٹنے ٹیکنے پڑے ۔۔۔
ایم آر ڈی کی 1983 کی تحریک بحالی جمہوریت میں بھی پیپلز پارٹی کے کارکنان نے پنجاب میں جیلیں بھریں ، کوڑے کھائے شاہی قلعے کی دیواریں اور تہ خانے آج بھی حکومتی ظلم و جبر کے گواہ ہیں

نہ جانے کیوں پنجاب کو طعنہ دیا جاتا ہے۔ ؟؟؟؟

جبکہ دیگر علاقوں۔ میں جو تحریکیں چلیں وہ بارڈر اوپن کروانے ، بجلی کے ریٹ کم کروانے یعنی محدود مقاصد کے لیے تھیں پیٹ کے لیے تھیں

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پورے پاکستان کے عوام پہچان لیں کہ اس انتخابی سسٹم و عدالتی نظام سے کوئ تبدیلی نہیں آئے گی اور انقلاب کے لیے متحد ہو کر اس طرح اٹھنا ہو گا جس طرح ایران میں۔ خمینی صاحب کے ساتھ عوام اٹھے یا سری لنکا میں بادشاہت کے خلاف عوام اٹھے۔

اگر الگ الگ رہے تو مار کھاتے رہیں گے۔ اگر متحد ہو گئے تو انقلاب مقدر بن جائیگا