اپریل 18, 2026

گیارہ مئی اور عوامی ایکشن کمیٹی

تحریر: صداقت مغل کشمیری
چئیرمین: جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نظریاتی

گزشتہ سال اٹھائیس رمضان میں آٹا مہنگا ہونے کے خلاف انتیس رمضان کو میری کال پر آٹھمقام میں لوگ باہر نکلے اور تقریباً چار ہزار لوگوں نے احتجاج میں حصہ لیا اس کے کچھ دن بعد راولاکوٹ میں مہنگائی کے خلاف عوامی دھرنا شروع ہوا پھر آستہ آستہ بجلی کے بلوں میں ظالمانہ ٹیکسوں اور بے انتہا مہنگائی کے خلاف عوامی دھرنے اور احتجاج نیلم سے بھمبر تک پھیلتا چلا گیا اس عوامی احتجاج کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کے حکومتی مظالمِ، بوگس مقدمات، کے باوجود باشعور عوام نے احتجاج کو پرامن رکھا ہوا ہے
اسی دوران تاجر لیڈر میدان میں آئے اور مظفرآباد میں تمام اضلاع کے لوگوں کی ایک طویل نشست ہوی اور عوامی ایکشن کمیٹی وجود میں آئی جس سے عوام کے ہر مکتبہ فکر، ہر نظریات کے لوگوں احتجاج میں شامل ہوے کیونکہ عوامی ایکشن کمیٹی عوامی حقوق کی بازیابی، حکومتی ناانصافیوں کے خلاف عوام ریاست کا مشترکہ اور غیر سیاسی پلیٹ فارم ہے جو تمام نظریات، کے لوگوں کا گلدستہ ہے اس دوران حکومت نے عوامی احتجاج کو روکنے کے لیے ایک مزاکراتی کمیٹی بھی تشکیل دے دی ایک سیاسی کارکن ہونے کی حثیت سے مجھے پہلے دن ہی انداز ہو گیا کے حکومتی مزاکراتی کمیٹی کا مقصد احتجاج کی تحریک کو بے اثر کرنے کے لیے وقت حاصل کرنے اور ایکٹو لوگوں کی خرید فروخت کے علاوہ کوئی مقصد نہیں جس کی میں عوامی ایکشن کمیٹی کے واٹس ایپ گروپس اور اپنی تحریروں میں نشاندہی بھی کرتا رہا مگر میری نشاندہی پر غور کرنا عوامی ایکشن کمیٹی کے تیس ممبران میں سے کسی نے بھی مناسب نہیں سمجھا بلکہ جنوری میں تو وزیر اعظم نے مجھے بھی کشمیر ہاوس اسلام آباد بلا کر عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک سے نا صرف الگ ہونے بلکہ حکومتی بیانیہ عوام میں پھیلانے کے لیے لالچ تک دینے کی کوشش کی مجھے نہیں معلوم کے دیگر جن لوگوں سے حکومت نے رابط کیا انہوں نے حکومتی آفر پر اپنے ایمان کا سودا کیا یا وہ ایمان کی حالت میں ہیں مگر مجھے یہ تحریر کرتے ہوے فخر محسوس ہو رہا ہے کے گو کے میں ایک سفید پوش آزادی پسند سیاسی کارکن ہوں لیکن میرا ضمیر خریدنے کے لیے بھارت یا پاکستان کے خزانہ نہیں تو سہولت کار حکومت میرا ایمان کیسے خرید سکتی تھی میں نے وزیراعظم اور اس کے ساتھ موجود پانچ وزراء کو کہا کے آپ غلام ہیں میں تو آپ کی اور آپ کی نسلوں کی آزادی کی جدوجہد کر رہا ہوں اتنے میں پیر مظہر شاہ صاحب نے ویڈیو بند کروا دی مگر میری ان سے ہونے والی گفتگو ان کی امیدوں کے خلاف تھی یہ واقع تحریر کرنے کا مقصد یہ ہے کے اگر مجھ سے رابطہ کیا گیا تو یقیناً دیگر بااثر لوگوں کو بھی حکومت نے اپنا ہمنوا بنانے کے لیے خزانہ کے منہ کھول دئے ہونگے
دوسری طرف سچی بات ہے کے عوامی ایکشن کمیٹی کی موثر حکمت عملی کم از کم مجھے نظر نہیں آ رہی کیونکہ جب حقوق کی تحریک ہو یا قومی آزادی کی اس کو لیڈ کرنے والے مدمقابل کی سازشیوں کے متبادل اپنی حکمت عملی ترتیب دیتے ہیں اور ہمیشہ اپنی حکمت عملی کی کامیابی کے لیے غور فکر بھی کرتے رہتے ہیں اب عوامی ایکشن کمیٹی کے ذمیدران کو معلوم ہو گا کے حکومتی سازشوں کے خلاف تحریک کی کامیابی کے لیے ان کی کیا حکمت عملی ہے؟؟؟؟
اب عوامی حقوق کی تحریک میرے خیال سے کامیابی یا ناکامی کے مرحلہ میں داخل ہو چکی ہے کیونکہ تحریک کی کامیابی یا ناکامی کا دارومدار گیارہ مئی کی کال پر ہے اس کال کو ناکام بنانے کے لیے حکومتی مشینری دن بدن ایکٹو ہو گی اس کے توڑ کے لیے بھی عوامی ایکشن کمیٹی کو حکمت عملی ترتیب دینی ہو گی یا دے دی گی ہو گی
ایک ریاست شہری، آزادی پسند کارکن، عوامی حقوق کا علمبردار ہونے کی حثیت سے میں عوامی ایکشن کمیٹی کے ذمہ داران سے گزارش کرنی چاہتا ہوں کے جلد سے جلد کسی بھی ضلعی ہیڈکوارٹر میں کم از کم ایک ہزار بندوں کی میٹنگ ہر ضلع سے سو سو لوگوں بلائے جائیں اگر نیلم کا انتخاب کرتے ہیں تو میزبانی کے لیے میں تیار ہوں بصورت دیگر جس بھی ضلع میں مناسب سمجھیں، اس اجلاس میں اس بات کو ضروری بنایا جائے کے کوئی بھی موبائل فون کسی کے پاس نا ہو گفتگو کی کوئی ریکارڈنگ، ویڈیو نا بنے اور اس میٹنگ کے بعد امتیاز اسلم صاحب، شوکت نواز میر صاحب، عمر نزیر صاحب، کم از کم پندرہ لوگوں کے ساتھ نیلم سے بھمبر تک ہنگامی دورہ کریں تاکہ ہر شہر، ٹون، قصبہ میں لوگوں کو گیارہ مئی کے لیے تیار کیا جا سکے جگہ جگہ گیارہ مئی کے حوالے سے عوامی کیمپ لگائے جائیں ممبران ضلع کونسل، ممبران یونین کونسل کو تحریک میں شامل کیا جائے عوامی میں اثر رکھنے والے دیگر لوگوں سے رابطہ کے لیے کمیٹیاں تشکیل دی جائیں، بلکہ اسمبلی میں بیٹھے پچاس بے ضمیروں کے علاوہ ہر ایک سے رابطہ کیا جائے اور گیا مئی، کی کال کو کامیاب بنانے کے لیے آٹھ مئی سے حکومت سے کسی بھی قسم کے مزاکرات، ملاقاتوں کو منقطع کیا جائے تاکہ عوام کا اہتماد بحال رہے اور حکومت کو غلط پروپیگنڈے کا موقع نا ملے بصورت دیگر خدانخواستہ گیارہ مئی کی کال ناکام ہو گی تو یہ عوام کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہو گا۔