ستمبر 10, 2026

غریب کا کٹوترا اور حکمرانوں کی بے نیازی

محمد عارف خان (کھاریاں )

آج ہمارا محبوب وطن پاکستان ایک ایسے عجیب دور سے گزر رہا ہے جہاں کچھ لوگ زمین پر رہتے ہوئے آسمان چھوتے ہیں اور کروڑوں لوگ آسمان کی طرف دیکھ کر آٹے کی ایک روٹی کے طالب رہتے ہیں۔ مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے روزگار کا سورج غروب ہو چکا ہے اور غریب آدمی کو ہر صبح اٹھتے ہوئے یہ سوچنا پڑتا ہے کہ آج بچوں کو پالنے کے لیے کیا ہوگا


اس پس منظر میں جماعتِ اسلامی نے عوام کی ان زندہ مسائل کو منشور کا محور بنایا ہے — نہ کہ صرف اعلانیات بلکہ عملی جدوجہد ۔ ۔ ۔
بجلی کے معاہدے (آئی پی پیز) ایسے بنائے گئے کہ آج ہم دن رات لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے دوچار ہیں اور اس کے باوجود ہر گھر کو مہنگی ترین بجلی کے بل ادا کرنا پڑتے ہیں۔ کیپسیٹی پیمنٹس یعنی "نہ استعمال کریں، پیسے پھر بھی دیں” کا نظام قوم پر ایک گھات ہے۔ نہ کھاتے ہوئے بھی کھاتا، نہ سوتے ہوئے بھی کھاتا — یہ معاہدے ایسے ہیں جیسے غریب سے بلاوجہ خون کا آخری قطرہ بھی نچوڑا جا رہا ہو
جو تیل دنیا میں سستا ہو رہا ہے اس پر پاکستان میں سب سے زیادہ قیمتیں آجتی ہیں۔ لیوی اور ٹیکسوں کا ایسا امبھار لگا دیا گیا ہے کہ روزانہ ادارے کروڑوں روپے عوام کی جیب سے نکال کر لیتے ہیں۔ گاڑی چلانے والا، رکشہ چلانے والا، موٹر سائیکل پر بیٹھنے والا غریب — سب کی کمر توڑ دی گئی ہے۔ گزری ہوئی قیمت کا تناسب آج پوری دنیا میں کہیں نہیں ملتا۔
گندم مافیا قانون اپنے ہاتھ میں لے کر بیٹھا ہے غریب کسان کو کم قیمت پر فصل بیچنے پر مجبور کیا جاتا ہے پھر وہی گندم سٹوریج والے مافیا صاحبان کئی گنا مہنگی دیتے ہیں۔ جس کسان نے رات دن محنت کر کے اناج تیار کیا وہ خود بھوکا سوتا ہے۔ قیمتوں میں اتنی آسمان سے باتیں کرتی ہوئی گرتی ہے کہ سرکاری اعلان اور بازار کی حقیقت دو مختلف دنیا بنے ہوئے ہیں۔
چینی ایک سادہ سی چیز تھی — مگر اسے بھی مافیاز کا لالچی بازیگر بنا دیا گیا۔ ایک بار چینی برآمد کر کے قوم کو دباؤ میں رکھا جاتا ہے اگلی بار مہنگی درآمد کر کے اربوں کا ڈاکا مارا جاتا ہے۔ نوجوانوں کی چائے میں بھی مافیا کا ہاتھ چلتا ہے۔ قوم کو پوچھا بھی نہیں جاتا کہ اس کا پیسہ کہاں جا رہا ہے۔
جو ادارے قوم کو انسان بناتے ہیں — تعلیم اور صحت — ان پر بھی لوٹ سیل قائم ہے۔ نجی سکولوں اور اسپتالوں میں اتنے شوخ قیمتیں ہیں کہ غریب کا بچہ نہ پڑھ سکتا ہے، نہ علاج کروا سکتا ہے۔ حکومت نے زمین پر تعلیم کے نام پر ناممکن فیصلے کیے اور صحت کا بجٹ اتنا کم ہے جیسے قوم کا علاج روٹیاں کھانے سے ہو جائے۔
بدامنی نے قوم کو دن رات خوف میں رکھا ہے اور بدعنوانی نے حکومتی نظام کو اندر سے کھا لیا ہے۔ فراڈ، قومی خزانے کی لوٹ مار اور بے اختیاری کا ماحول عام ہے۔ جہاں قانون صرف کمزور کے لیے ہو وہاں عدل کا قیام خواب رہ جاتا ہے۔
ایک طرف غریب دو وقت کی روٹی کو ترس رہا ہے دوسری طرف اشرافیہ لگژری گاڑیوں کے قافلے اور نجی جیٹ طیاروں میں چہل قدمی کر رہی ہے۔ سرکاری وسائل، VVIP پروٹوکول اور عیاشیوں پر اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں — اور غریب کی ذمہ داری صرف ٹیکس ادا کرنا ہے۔ یہ دوہرا معیار قوم کی غیرت کو مجروح کرتا ہے۔
تینوں سنگین مسائل ایک ساتھ چل رہے ہیں: غربت، بے روزگاری اور مہنگائی۔ نوجوان تعلیم مکمل کرنے کے باوجود روزگار کے لیے در بدر پھرتے ہیں۔ ایک طبقہ خون پسینے سے کمایا ہوا کھا رہا ہے دوسرا راتوں رات ارب پتی بن جاتا ہے۔ ان حالات میں مائیں اپنے بچے کا سکول چھڑوانے پر مجبور ہو رہی
سود پر مبنی معیشت نے قوم کو نسل در نسل غلام بنا رکھا ہے۔ بینک مافیا مالدار ہوتا جا رہا ہے اور غریب کا سب کچھ نیلام ہو رہا ہے۔ قرض لینے والا پوری عمر سود بھرتا رہتا ہے مگر اصل قرض نہیں اُترتا۔ اسلامی معیشت کا نعرہ سب لگاتے ہیں، مگر عمل کوئی نہیں کرتا۔
داخلہ اور خارجہ قرضوں کے پہاڑ اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ آنے والی نسلوں کی محنت پہلے سے بیچ دی گئی ہے۔ آئی ایم ایف کا شکنجہ اتنا سخت ہے کہ قوم سانس لینے سے پہلے سو بار سوچتی ہے۔ ہر شرط میں مزید ٹیکس، مزید مہنگائی، مزید غربت — اور عوام کی کمر ٹوٹ رہی ہے
یہ مسائل کوئی سیاسی نعرے نہیں یہ آپ کی زندگی کی حقیقتیں ہیں۔ مہنگائی، لوڈ شیڈنگ، بے روزگاری، قرضوں کا بوجھ — یہ سب آپ کے گھر میں گھس کر آپ کی نسلوں کا مستقبل داؤ پر لگا رہے ہیں۔
جماعتِ اسلامی کے ساتھ کھڑے ہوئیے — شانہ بشانہ، جدوجہد میں، احتجاج میں، اور مثبت متبادل کے لیے خدمت میں۔ کیونکہ اللہ کے بعد قوم کی تقدیر کا فیصلہ قوم کے اپنے ہاتھ میں ہوتا ہے۔
تبدیلی صرف نعرے سے نہیں، کردار سے آتی ہے — اور کردار جماعتِ اسلامی کے پاس موجود ہے
جماعتِ اسلامی کا موقف محض تنقید اور الزام تراشی تک محدود نہیں بلکہ ہر مسئلے کے ساتھ عملی، قابلِ عمل اور پائیدار متبادل پیش کرنا ہے۔ ذیل میں اس ایجنڈے کے اہم نکات کو تفصیل اور وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے:
جماعتِ اسلامی کا مطالبہ ہے کہ آئی پی پیز کے ساتھ ہونے والے تمام معاہدوں کی مکمل، آزاد اور غیر جانب دارانہ جانچ کی جائے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ قوم سے کون سا سودا ہوا، کس نے کیا اور کن شرائط پر۔ معاہدوں میں موجود کیپسیٹی پیمنٹس جیسے ظالمانہ نکات کا جائزہ لیا جائے جو عوام کو بغلی استعمال کیے ہوئے اربوں روپے ادا کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ملکی وسائل سے سستی بجلی پیدا کرنے کی طرف توجہ دی جائے — بشمول ہائیڈرو پاور، سولر اور دیگر قدرتی ذرائع — تاکہ عوام کو معقول قیمت پر مسلسل بجلی میسر آ سکے اور لوڈ شیڈنگ کا عذاب ہمیشہ کے لیے ختم ہو۔
جماعتِ اسلامی کا واضح موقف ہے کہ پٹرولیم مصنوعات پر عاید لیوی اور ٹیکسوں کا ایسا امبھار عوام پر ظلم ہے جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ حکومت سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فوری اور حقیقت پسندانہ کمی کی جائے اور ٹیکس ساخت کو اس طرح ڈھالا جائے کہ دنیا میں تیل کی قیمتیں کم ہونے کے نفع کی براہِ راست منتقلی عام صارف تک پہنچے۔ اس کے علاوہ گھریلو اور صنعتی سطح پر سستی متبادل توانائی کی فراہمی کو فروغ دیا جائے تاکہ عوام کی نقل و حمل اور روزمرہ ضروریات کا خرچ کم ہو سکے اور مہنگائی کا دباؤ قدرتی طور پر گھٹے۔
جماعتِ اسلامی کے نزدیک کسان قوم کا محافظ ہے اور اس کی فصل قوم کی زندگی ہے۔ لہٰذا حکومت پر لازم ہے کہ کسانوں کو ان کی محنت کا پورا اور منصفانہ معاوضہ دے اور اس مقصد کے لیے ایک مضبوط، شفاف اور قومی سطح کا نظام قائم کیا جائے جس کے تحت گندم کی حمایتی قیمت مقرر ہو اور اس پر سختی سے عملدرآمد ہو۔ گندم کی خریداری اور ذخیرہ اندوزی کے معاملات میں مداخلت کرنے والے مافیاز اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہو تاکہ کسان کو سستے داموں بیچنے اور عوام کو مہنگے داموں خریدنے پر مجبور کرنے والا سلسلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو۔
جماعتِ اسلامی کا مطالبہ ہے کہ چینی کی برآمد اور درآمد کے معاملات میں ہونے والی بے بے قاعدگیوں، دھوکہ دہی اور مافیاز کی سودا بازیوں کی کھلی اور شفاف عوامی تحقیقات کرائی جائیں تاکہ قوم کے اربوں روپے ڈوبنے کا ذمہ دار کون ہے اس کا پتہ چل سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ قومی سطح پر چینی کے سٹریٹجک ذخائر بنانے کی پالیسی اپنائی جائے تاکہ مقامی پیداوار کی بنیاد پر قیمتیں مستحکم رہیں کبھی فصل زیادہ ہو تو اسے ذخیرہ کیا جائے اور کبھی کمی ہو تو ذخائر سے عوام کو ریلیف ملے — نہ کہ ہر بار مافیاز کو موقع دیا جائے کہ وہ عوام کو لوٹیں۔
جماعتِ اسلامی کا عقیدہ ہے کہ تعلیم اور صحت ہر شہری کا بنیادی حق ہے صرف امیر طبقے کی سہولت نہیں۔ اس لیے ریاست پر لازم ہے کہ ملک بھر میں مفت، معیاری اور یکساں تعلیم کا نظام قائم کیا جائے تاکہ غریب کا بچہ بھی تعلیم حاصل کر کے قوم کا مفید فرد بن سکے۔ اسی طرح سرکاری اسپتالوں میں مفت اور باعزت علاج کی سہولیات فراہم کی جائیں، ڈاکٹروں اور تدریسی عملے کی کمی کو پورا کیا جائے، اور نجی اداروں کی مہنگی فیسوں کا بوجھ عام عوام پر ختم ہو۔ یہ جماعت کا عہد ہے کہ کسی بچے کو اس کے والدین کی مالی حیثیت کی وجہ سے تعلیم اور علاج سے محروم نہیں ہونے دیا جائے گا۔
جماعتِ اسلامی کے نزدیک احتساب کوئی سیاسی انتقام نہیں بلکہ قومی خزانے اور عوام کے حقوق کا تحفظ ہے۔ اس لیے داد رسی کے نظام کو مضبوط کیا جائے، کرپشن کے مقدمات کی تیز رفتار سماعت ہو اور یہ یقینی بنایا جائے کہ کوئی شخص — خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو — بدعنوانی سے بچ نہیں سکتا۔ خزانے کی لوٹ مار اور اربوں روپے کے کرپٹ افراد کے خلاف سخت، غیر جانب دار اور شفاف قانونی کارروائی ہو تاکہ قومی دولت عوام کے کام آ سکے اور بدعنوانی کا بازار ہمیشہ کے لیے بند ہو۔
جماعتِ اسلامی کا واضح مطالبہ ہے کہ عوام کے ٹیکس سے اٹھنے والی VVIP پروٹوکول، لگژری گاڑیوں کے قافلے، نجی جیٹ طیاروں اور اشرافیہ کی غیر ضروری عیاشیوں کا خاتمہ کیا جائے۔ حکمرانوں اور اعلیٰ عہدیداروں کے اخراجات میں ڈرامائی کمی لائی جائے اور بچائی گئی رقم تعلیم، صحت اور عوامی ریلیف پر خرچ کی جائے۔ یہ دوہرا معیار کہ حکمران عیاش کریں اور عوام مہنگائی میں تڑپیں، کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ جماعت کا عہد ہے کہ اقتدار کا مطلب خدمت ہے، نہ کہ سہولت اور بے نیازی
جماعتِ اسلامی کے نزدیک بے روزگاری کا خاتمہ قومی ترقی کی بنیادی شرط ہے۔ اس لیے نوجوانوں کے لیے ریاستی اور نجی سطح پر روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کو سستے قرضے، ٹیکس میں رعایت اور تکنیکی تربیت فراہم کی جائے تاکہ مقامی سطح پر روزگار کے دروازے کھل سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مزدوروں اور محنت کشوں کے حقوق کا مکمل تحفظ ہو — کم از کم اجرت، محفوظ کام کی جگہ، سماجی تحفظ اور مزدوروں کی سنوائی — تاکہ جس ہاتھ نے ملک تعمیر کیا اسے اس کا پورا حصہ ملے۔
جماعتِ اسلامی کا ایمان ہے کہ سود معیشت کو برباد کرنے والی چیز ہے جو امیر کو امیر تر اور غریب کو غریب تر کرتی ہے۔ لہٰذا قومی معیشت کو سود سے پاک کرنے کے لیے عملی اور تدریجی اقدامات کیے جائیں — اسلامی بینکاری اور قرض ال حسن جیسے متبادل نظام کو مضبوط کیا جائے، اور عوام کو سود سے پاک قرضوں تک رسائی فراہم کی جائے تاکہ کاروبار، گھر بنانا اور تعلیم و شادی جیسے ضروری معاملات میں غریب طبقہ بینک مافیا کے شکنجے سے نجات پا سکے۔ یہ جماعت کا عہد ہے کہ معیشت کی بنیاد انصاف اور حلال کمانے پر ہو، نہ کہ سود کے استحصال پر۔
جماعتِ اسلامی کا موقف ہے کہ آئی ایم ایف جیسے عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ کوئی بھی معاہدہ قومی سیاست، پارلیمانی بحث اور عوامی مفاد کی بنیاد پر ہونا چاہیے نہ کہ ایک طبقے کی مرضی سے۔ غیر قومی شرائط جو عوام پر مہنگائی، ٹیکس اور غربت کا بوجھ ڈالتی ہیں ان کے خلاف مضبوط مذاکراتی پالیسی اپنائی جائے اور قومی مفاد کو ہر صورت مقدم رکھا جائے۔ معیشت کو قرضوں کے چکر سے نکالنے کے لیے اصلاحات، برآمدات میں اضافہ، لوکل صنعتوں کی حوصلہ افزائی اور قومی وسائل کی قدر دان طریقے سے استعمال کی پالیسی اپنائی جائے تاکہ آنے والی نسلیں غیر ملکی قرضوں کے بوجھ تلے دب کر نہ رہ جائیں۔
جماعتِ اسلامی کا عوامی جدوجہد ایجنڈا محض شکوے نہیں بلکہ قابلِ عمل، تدریجی اور مثبت متبادل کا نقشہ ہے — جس کا مقصد صرف اور صرف عوام کی فلاح، انصاف کا قیام اور خوددار پاکستان کی تعمیر ہے۔