امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب کو معاہدہ ابراہیمی کا حصہ بننا ہوگا، بصورت دیگر اس کے ساتھ جوہری معاہدہ آگے نہیں بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے سول جوہری معاہدے کی بنیادی شرط یہی ہے کہ سعودی عرب اس باعزت اور کامیاب معاہدے میں شامل ہو۔ ٹرمپ کے مطابق اس پرامن اور غیر فوجی جوہری پروگرام میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔
اس کے علاوہ ایران سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے بتایا کہ انہوں نے تہران پر بڑے پیمانے پر حملے کا حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا کیونکہ جاری مذاکرات میں ایرانی حکام ہر گزرتے دن کے ساتھ زیادہ سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل صدر ٹرمپ اس سول جوہری معاہدے کی منظوری دے چکے ہیں تاہم اسے حتمی شکل دینے کے لیے کانگریس کی منظوری اور معاہدہ ابراہیمی کی شرط کو پورا کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔




