تحریر: محمد انور بھٹی
شام کے سائے جب رینگتے ہوئے دھرتی کے وجود کو اپنے تیرہ و تار حصار میں لینے لگےتو وقت کی بساط پر پھیلی اداسی ایک اجڑے ہوئے ریلوے اسٹیشن کے سنسان پلیٹ فارم پر مجسم ہو کر بیٹھ گئی۔ ہواؤں میں اک غریب الوطنی کا احساس تھا اور فضائے بسیط میں سکوت کا راج تھا۔ دور اک کہنہ مشق، لرزتے اور جِیران کھمبے کے سرے پر نصب زرد بلب اپنی نیم جاں لو کے ساتھ ٹمٹما رہا تھا ایک ایسا چراغِ شب مشت خاک کی مانند، جس کی بساط اتنی نہ تھی کہ وہ کائنات کے اس وسیع و عریض دامن کو یکسر منور کر سکےمگر اس کی جراتِ رندانہ کا عالم یہ تھا کہ وہ اپنی تمام تر بے مائیگی کے باوجود ظلمتِ شب کے سامنے سپر انداز ہونے پر کسی طور آمادہ نہ تھا۔ اسی الم ناک مگر سحر انگیز منظر نامے کے پسِ منظر میں شکستہ پٹریوں کے قریب بندن میاں اپنے اندر اک جہانِ معنی سموئے تشریف فرما تھےجن کی پیشانی کی لکیریں بیتے ہوئے زمانوں کی مسافتوں اور تجربوں کی فصاحت بیان کر رہی تھیں۔ میں نے خاموشی کے اس طلسم کو توڑنے اور ان کے باطن کے سمندر سے کچھ موتی چرانے کی غرض سے ان کے پہلو میں جگہ سنبھالی اور نہایت شگفتگی و احترام سے دھیمے لہجے میں سوال کیا کہ میاں اس زوال پذیر شام کے دھندلکے میں آپ کا ذہنِ رسا کن وادیوں کی سیاحت میں مصروف ہے اور آپ ان ویرانیوں میں کیا سوچ رہے ہیں؟ انہوں نے اپنی صوفیانہ اور گہری نظریں اس ناتواں بلب پر جمائیں ان کے لبوں پر اک باوقار اور معنی خیز مسکراہٹ ابھری اور وہ دھیمی مگر سحر انگیز آواز میں گویا ہوئے کہ فرزند میں اس بے جان شیشے کے قمقمے کی ریاضت کو دیکھ رہا ہوں اور سوچ رہا ہوں کہ کائنات میں سچائی کا وجود بھی تو بالکل اسی بلب کی مانند ہوتا ہے جو بظاہر اکیلا، نحیف، ناتواں اور تنہا دکھائی دیتا ہے جسے مصلحتوں کے طوفان بجھانے کی پیہم کوشش کرتے ہیں مگر اس کے خمیر میں خوف کا کوئی عنصر نہیں ہوتا وہ اندھیرے کی ہیبت سے مرعوب ہوئے بغیر اپنی جنگ جاری رکھتا ہے اور یہی اس کا کل اثاثہ ہے۔ یہ جملہ ادا کرنے کے بعد وہ دوبارہ اسی گہرے سکوت کے سمندر میں اتر گئےمگر ان کی اس خاموشی کی تہوں میں صدیوں کا درد، انسانی تاریخ کے المیے اور معرفت کے لازوال فلسفے پوشیدہ تھے جو کسی لفظی بیان کے محتاج نہ تھے۔
بندن میاں نے تھوڑی دیر بعد اپنی بات کا سلسلہ وہیں سے جوڑتے ہوئے ریشم جیسے ملائم مگر فولاد جیسے پختہ لہجے میں ارشاد فرمایا کہ میاں زادے اس کارگاہِ حیات میں انسان نے مادی اشیاء کو بہت گراں قدر سمجھ رکھا ہے لیکن یاد رکھو کہ دنیا کی سب سے مہنگی، نایاب اور بیش قیمت شے سونا، چاندی، ہیرے یا زرو جواہرات نہیں ہیں بلکہ کائنات کا سب سے گراں مایہ جوہر صرف اور صرف ‘سچ’ ہے کیونکہ قدرت نے اسے وہ رفعت دی ہے کہ اسے دنیا کے تمام خزانوں کے عوض بھی خریدا نہیں جا سکتا اور اگر کوئی نادان دنیاوی جاہ و حشم کے بدلے اپنے اندر کے سچ کو بیچ ڈالے تو یہ انسانیت کی توہین اور بقائے باہمی کا سب سے بڑا خسارہ ہے جس کا مداوا ممکن نہیں۔ ان کی یہ حکیمانہ گفتگو سنتے ہی میرے ذہن کے دریچوں میں ان کے ایامِ طفولیت کا وہ سدا بہار واقعہ روشن ہو گیا جو وہ اکثر فخر اور دردمندی کے ملے جلے جذبات کے ساتھ سنایا کرتے تھے کہ جب وہ اسکول کے ابتدائی درجوں میں زیرِ تعلیم تھےتو ایک روز کھیل ہی کھیل میں صنفِ نازک کی مانند حساس اور نازک کلاس کا شیشہ ٹوٹ کر بکھر گیا جس پر مدرسِ اعلیٰ نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پوری جماعت کو سزا کے طور پر کھڑا کر دیا اگرچہ جماعت کا ہر طالب علم اس حقیقت سے بخوبی واقف تھا کہ اس تخریب کاری کا مرتکب کون ہے مگر مصلحت پسندی، خوف اور یاری باشی کے بوجھ تلے دبے ہوئے وہ معصوم ذہن ہونٹ سیے بیٹھے رہے تب بندن میاں کے اندر کی معصومیت اور حق گوئی نے انگڑائی لی اور انہوں نے بلا خوفِ لومۃ لائم سچائی کا پرچم بلند کرتے ہوئے اصل صورتحال واضح کر دی جس کا فوری نتیجہ یہ نکلا کہ حقیقی قصوروار تو اپنی چرب زبانی یا مصلحت کی بنا پر سزا سے بچ گیا مگر ان کے ہم جماعت ساتھیوں نے اس حق گوئی کو مخبری پر محمول کرتے ہوئے مہینوں ان سے قطع تعلق کر لیا اور وہ اپنی ہی بستی میں تنہا رہ گئے۔ میں نے ایک دفعہ ماضی کی اس ورق گردانی پر ان سے الہامی سوال کیا تھا کہ میاں اس قدر مخالفت اور تنہائی کے باوجود آپ نے وہ تلخ سچ کیوں بولا تھا جبکہ خاموشی آپ کو اس معاشرتی عتاب سے بچا سکتی تھی؟ تو انہوں نے اپنی خوبصورت سفید داڑھی کو چھوتے ہوئے ایک ایسی دلنشین مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا تھا جس کی چمک آج بھی میرے دل میں محفوظ ہے کہ برخوردار مجھے دن کے اجالے میں انسانوں کی جھوٹی ستائش، منافقانہ تالیوں اور مصلحت آمیز تعریفوں کے ہجوم کے ساتھ نہیں جینا تھا بلکہ مجھے اندھیری رات کی خلوتوں میں اپنے ملامت گر ضمیر کے ساتھ پرسکون نیند سونا تھا اور ضمیر کی عدالت میں سرخروئی صرف سچ کے ہی راستے سے حاصل ہوتی ہے۔
آج جب میں بندن میاں کے ان افکار کی روشنی میں اپنے ارد گرد پھیلے ہوئے معاصر معاشرے کی اخلاقی گراوٹ اور فکری انحطاط پر نظر دوڑاتا ہوں تو روح کانپ اٹھتی ہے اور دل مفسدہ پردازیوں پر خون کے آنسو روتا ہے کیونکہ جھوٹ نے اب اپنی بدصورتی کو چھپانے کے لیے نہایت دلکش، زرق برق اور دیدہ زیب لباس زیب تن کر لیے ہیں کہیں اسے معاشرتی ‘مصلحت’ کا ریشمی غلاف پہنایا جاتا ہے، کہیں اسے ‘سیاسی بصیرت’ کے لبادے میں تقدس دیا جاتا ہےکہیں تجارتی منڈیوں میں اسے ‘کاروباری حکمتِ عملی’ کے نام پر حلال کر لیا جاتا ہے اور کہیں خونی و سماجی رشتوں کے تحفظ کے لیے اسے ‘تعلقات نبھانے کے آرٹ’ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ بندن میاں اکثر و بیشتر بڑے ہی ملال کے ساتھ اس تماشہ گاہِ عالم کا نوحہ پڑھتے ہوئے کہتے ہیں کہ آج کا ماڈرن اور ترقی یافتہ کہلانے والا انسان دراصل نفسِ سچائی سے خوفزدہ نہیں ہےبلکہ وہ سچائی کے اظہار کے نتیجے میں مرتب ہونے والے مادی نقصانات، معاشرتی عتاب اور عارضی تلخیوں کے عواقب سے لرزہ براندام رہتا ہے۔ہم سب تضادات کے ایک ایسے بھیانک دلدل میں دھنس چکے ہیں جہاں ہماری خواہش تو یہ ہوتی ہے کہ ہمیں سوسائٹی میں عزت، تکریم اور بلند مقام حاصل ہو مگر ہمیں اس کی قیمت کے طور پر سچ بولنے کی زحمت نہ اٹھانی پڑےہم یہ تمنا تو بڑے زور و شور سے کرتے ہیں کہ عدالتوں اور ایوانوں میں انصاف کا بول بالا ہومظلوم کو اس کا حق ملے مگر شرط یہ ہو کہ اس عدل پروری کی زد میں ہمارے اپنے ناجائز مفادات، اقربا پروری اور ذاتی جاگیریں نہ آئیں ہم رات دن منبر و محراب اور سوشل میڈیا پر چلاک زبانوں کے ساتھ یہ راگ تو الاپتے ہیں کہ معاشرے کی کلی اصلاح ہونی چاہیےانقلاب آنا چاہیےمگر جب اس تطہیر اور اصلاح کے آغاز کا وقت آتا ہے تو ہم چاہتے ہیں کہ اس کٹھن راستے کا مسافر پڑوسی بنےہم خود کبھی اپنی ذات کے آئینے سے اس کا آغاز کرنے کی جرات نہیں پاتے۔ یہی وہ دوغلا پن، فکری منافقت اور باطنی تضاد ہے جس نے بڑی بڑی تہذیبوں کو اندر سے کھوکھلا کر کے تاریخ کے کوڑے دان کا حصہ بنا دیا اور زندہ قوموں کو ذلت و رسوائی کی اتھاہ گہرائیوں میں لا پھینکا۔
ایک روز کا تذکرہ ہے کہ جب زرد دھوپ دیواروں سے اتر رہی تھی بندن میاں ریلوے کی ان پرانی، زنگ آلود اور وقت کی ستم ظریفی کا شکار بوسیدہ پٹریوں کے کنارے لاٹھی ٹیکے کھڑے گہرے تفکر میں غرق تھے انہوں نے پٹریوں کے آہنی وجود کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایک آہِ سرد بھری اور کہنے لگے کہ "فرزند اگر قدرت ان خاموش اور بے زبان پٹریوں کو گویائی کی نعمت عطا کر دےتو یہ فولاد کے ڈھانچے چیخ چیخ کر کائنات کو بتائیں کہ ان کی دیکھ بھال، مرمت اور حفاظت کے نام پر کتنی ہی دفتری رپورٹیں سراسر کذب، دجل اور جھوٹ کی بنیاد پر مرتب کی گئیں کتنی فائلوں کے سفید پنوں پر کالی سیاہی سے ‘سب اچھا ہے’ کا مژدہ سنا کر سب کچھ مثالی اور درست قرار دیا گیا جبکہ تلخ زمینی حقیقت اس کاغذی جنت کے بالکل برعکس سسک رہی تھی۔پھر وہ اچانک اپنی ہی اس صوفیانہ بات پر اک طنزایہ ہنسی ہنس پڑے اور ان کے لہجے میں چھپی کاٹ میرے دل میں اتر گئی جب وہ بولے کہ ہمارے اس سماجی ڈھانچے میں بعض سرکاری اور نجی فائلیں اس قدر خوبصورت، باقاعدہ اور نقائص سے پاک ہوتی ہیں کہ ان میں ہر چیز کو اوجِ کمال پر دکھایا جاتا ہے بس اک معمولی سا نقص یہ رہ جاتا ہے کہ ان کا زمینی حقیقت اور سچائی سے دور دور تک کوئی رشتہ نہیں ہوتا گویا حقیقت ہی قصوروار ٹھہرتی ہے جو ان فائلوں کے مطابق خود کو ڈھالنے میں ناکام رہتی ہے۔ ان کی یہ عمیق اور طنزیہ گفتگو سن کر بظاہر تو میرے لبوں پر اک فانی مسکراہٹ نمودار ہوئی مگر باطن میں دل اس قومی زوال اور اجتماعی بے حسی پر اداس ہو گیا کیونکہ اب یہ روش ہمارا شیوہ بن چکی ہے۔
اس کارگاہِ حیات کا یہ اٹل اور ازلی قاعدہ ہے کہ جھوٹ خواہ کتنا ہی جاندار، منظم اور طاقتور کیوں نہ ہو وہ انسان کو صرف وقتی فائدہ، عارضی آسودگی اور چند روزہ جاہ و حشم ہی فراہم کر سکتا ہے مگر اس کا انجام ہمیشہ مستقل اخلاقی نقصان، باطنی بے سکونی اور ابدی ذلت کی صورت میں برآمد ہوتا ہے اس کے برعکس، سچائی کا راستہ ابتدا میں انتہائی کٹھن، خارزار، وقتی نقصانات سے اٹا ہوا اور آزمائشوں کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے مگر وہ انسان کو وہ دائمی عزت، باطنی طمأنیت اور لازوال رفعت عطا کرتا ہے جو وقت کے تھپیڑوں سے بھی دھندلی نہیں ہوتی۔ قدرت کا پورا تکوینی نظام بھی تو اسی ابدی قانون کی گواہی دیتا نظر آتا ہےجب کالی رات کائنات کو اپنی زلفوں کے اسیر بنا لیتی ہے تو صبحِ نو کا سورج کبھی اندھیرے کو پامال کرنے اور اس سے جنگ لڑنے کے لیے میان سے لوہے کی تلواریں نہیں کھینچتا نہ ہی وہ لشکر کشی کرتا ہے وہ تو بس اپنی ازلی شان کے ساتھ افقِ عالم پر چپکے سے طلوع ہوتا ہے اور اس کی پرسکون نورانی لہریں دیکھتے ہی دیکھتے اندھیرے کے غرور کو خاک میں ملا دیتی ہیں اور ظلمت کا وجود خود بخود عدم کے اندھیروں میں گم ہو جاتا ہے۔ چمنستان میں کھلنے والے پھول کبھی اپنی دلفریب خوشبو اور عطر بیزی کو کائنات کے سامنے ثابت کرنے کے لیے اشتہارات کا سہارا نہیں لیتے نہ ہی وہ زبانِ قال سے اپنی مدح سرائی کرتے ہیں بلکہ ان کے وجود سے پھوٹنے والی مہک خود ان کا تعارف، ان کی دلیل اور ان کا منشور بن کر فضائے چمن کو معطر کر دیتی ہے۔ بالکل اسی طرح، سچائی کو اپنی حقانیت ثابت کرنے کے لیے کسی مصنوعی بیساکھی، بلند بانگ دلیلوں، سیاسی نعروں اور پرشور مظاہروں کی احتیاج نہیں ہوتی کیونکہ سچ کی اپنی ایک باطنی، ملکوتی اور فطری روشنی ہوتی ہے جو دلوں کو مسخر کر لیتی ہے۔
بندن میاں کی گفتگو کا ایک اور شگفتہ اور دلچسپ پہلوجو انسانی نفسیات کی گہری عکاسی کرتا ہے یہ ہے کہ وہ اکثر مسکراتے ہوئے اپنے مخصوص دھیمے انداز میں کہتے ہیں کہ "میاں اس دنیا میں جھوٹ بولنے والے شخص کو حافظے کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے اسے اپنے دماغ پر مسلسل بوجھ ڈالنا پڑتا ہے کیونکہ اسے اپنے ایک جھوٹ کو چھپانے کے لیے بنے گئے سو جھوٹ کے تانے بانے اور فرضی کہانیاں ہمیشہ یاد رکھنی پڑتی ہیں مبادا کہیں پول نہ کھل جائے جبکہ اس کے برعکس سچا انسان ہر قسم کے ذہنی بوجھ اور خوف سے آزاد بے فکر اور مطمئن رہتا ہے کیونکہ اسے کسی مصنوعی کہانی کی ضرورت نہیں ہوتی اسے صرف اور صرف اس ایک سادہ حقیقت کو یاد رکھنا ہوتا ہے جو ازخود عیاں ہوتی ہے۔ ان کا یہ جملہ سن کر اگرچہ سطحی نظر رکھنے والے لوگ روایتی طور پر مسکرا کر گزر جاتے ہیں مگر اس کے اندر انسانی رویوں کی وہ گہری حکمت اور نفسیاتی سچائی پوشیدہ ہے جو بڑے بڑے فلسفیوں کی ضخیم کتابوں کا نچوڑ ہے۔ اگر ہم تعصب کا چشمہ اتار کر انسانی تاریخ کے اوراق کی الٹ پلٹ کریں اور ماضی کے دھندلکوں میں جھانکیں تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ باطل، کذب اور شر کے لشکر ہمیشہ مادی وسائل، کثرتِ تعداد اور ظاہری چمک دمک کے اعتبار سے بہت عظیم الشان، رعب دار اور بے پناہ رہے ہیں جبکہ حق، دیانت اور سچائی کے قافلے اکثر و بیشتر ظاہری اسباب کے لحاظ سے انتہائی قلیل، کمزور اور انگلیوں پر گنے جانے والے مخلصین پر مشتمل رہے ہیں۔ مگر تاریخ کے ہر موڑ پر وقت کے منصف نے جب بھی حتمی فیصلہ صادر کیا تو کامیابی اور بقا کا تاج کبھی مادی کثرت یا ہجوم کے سر پر نہیں سجایا گیا بلکہ اس کا تعین ہمیشہ سچائی کے ناقابلِ شکست جوہر نے کیا وقت کی فرعونیت کے پاس تسخیرِ عالم کے لیے عظیم سلطنت، بے پناہ فوج، قارونی خزانے اور جابرانہ طاقت موجود تھی مگر دوسری طرف اللہ کے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس بظاہر صرف ایک لکڑی کا عصا اور سچائی کا پیغام تھا مگر وقت نے دیکھا کہ وہ مادی سلطنت دریائے نیل کی موجوں کی نذر ہو گئی اور سچ آج بھی زندہ ہے۔ مکہ کی وادی میں ابوجہل اور اس کے حواریوں کے پاس قبیلے کی طاقت، چودھراہٹ، تکبر اور مادی وسائل کی فراوانی تھی مگر رحمتِ دو عالم رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے پاس صرف حق کی صدا تھی اور پھر زمانے نے گواہی دی کہ وہ مادی طاقت بادل کے گرج چمک کی طرح وقتی تھی جو آئی اور چلی گئی جبکہ سچائی کا وہ آفتابِ عالم تاب آج بھی کائنات کے گوشے گوشے کو اپنے نور سے منور کر رہا ہے۔
بندن میاں اپنی گفتگو کے اس طویل سفر میں انسانی نفسیات کا ایک اور ہولناک سچ عیاں کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ظلمتوں اور اندھیروں کی سب سے خطرناک، عیارانہ اور کاری چال یہ نہیں ہوتی کہ وہ اپنے وجود کو پھیلاتی ہیں اور روشنی کا راستہ روکتی ہیں بلکہ ان کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہوتی ہے کہ وہ روشنی کو اس بات پر مجبور کر دیں کہ وہ اپنے ہی وجود، اپنی ہی افادیت اور اپنی ہی سچائی پر شک و شبہے کا شکار ہو جائے۔ جب کسی معاشرے کا انحطاط اس نہج پر پہنچ جائے جہاں ایک سچا انسان اپنے منہ سے کلمہِ حق نکالنے سے پہلے سو مرتبہ اپنے انجام کا سوچے، نفع و نقصان کے ترازو میں سچ کو تولے اور دوسری طرف اسی معاشرے کا فرد جھوٹ بولتے وقت کسی پر بہتان لگاتے وقت یا مصلحت کا دامن تھامتے وقت ایک لمحے کے لیے بھی نہ جھجکے اور اس کا ضمیر اسے ملامت نہ کرےتو میاں سمجھ لو کہ اندھیرا صرف باہر کی فضا میں نہیں پھیلا بلکہ وہ انسانوں کے باطن اور دلوں کی اتھاہ گہرائیوں میں اپنے پاؤں جما چکا ہے۔ آج ہمارے خاندانی اور معاشرتی نظام کا المیہ دیکھیے کہ گھروں کی چاردیواری کے اندر والدین بظاہر تو اپنے معصوم بچوں کو اخلاقیات کا درس دیتے ہیں انہیں سچ بولنے کی تلقین کرتے ہیں مگر جب دروازے پر کوئی سائل یا قرض خواہ آتا ہے یا فون کی گھنٹی بجتی ہے تو اسی بچے کو اشارے سے سکھاتے ہیں کہ بیٹا باہر جا کر کہہ دو کہ ابو گھر پر موجود نہیں ہیں۔ دفتری نظام کا حال یہ ہے کہ کانفرنس رومز اور سیمینارز میں دیانت داری، میرٹ، فرض شناسی اور شفافیت پر گھنٹوں طویل اور سحر انگیز لیکچرز دیے جاتے ہیں خوبصورت پریزنٹیشنز دکھائی جاتی ہیں مگر عملی طور پر پسِ چلمن سفارش، رشوت، اقربا پروری اور ذاتی تعلقات کے خفیہ دروازے چوپٹ کھلے رہتے ہیں۔ پورے معاشرے میں عدل و انصاف، مساوات اور قانون کی بالادستی کے بلند بانگ غلغلے بلند کیے جاتے ہیں ریلیاں نکالی جاتی ہیں مگر جیسے ہی کسی فرد کا اپنا ذاتی خاندانی یا مالی مفاد انصاف کی زد میں آنے لگتا ہے تو آناً فاناً اصول، نظریات اور اخلاقیات کے سارے پیمانے یکسر تبدیل کر دیے جاتے ہیں۔ پھر اس منافقانہ طرزِ عمل کو اختیار کرنے کے بعد ہم بڑے معصوم بن کر سر جوڑ کر بیٹھ جاتے ہیں اور اس بات پر حیرت کا اظہار کرتے ہیں کہ ہماری نئی نسل ہمارے بچے سچائی کے راستے سے کیوں دور ہو رہے ہیں اور ان کے کردار میں یہ کجی کہاں سے آ گئی ہے جبکہ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ بچے لفظوں سے نہیں بلکہ رویوں سے سیکھتے ہیں۔
انہی گہرے اور تلخ سچائیوں کا احاطہ کرتے ہوئے بندن میاں نے ایک بار مجھ سے مخاطب ہو کر ایک لازوال جملہ ارشاد فرمایا تھا جو میرے دل کی تختی پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نقشِ کالحجر ہو گیا انہوں نے کہا تھا کہ میرے بچے دنیا میں قوموں کی حقیقی تعمیر و ترقی، ان کا وقار اور ان کا استحکام کبھی سیمنٹ، گارے اور لوہے سے بنی بلند و بالا مادی عمارتوں، چمکتی سڑکوں اور شیشے کے محلوں سے نہیں ہوتا بلکہ قوموں کی اصل اساس ان کے افراد کے سچے، کھرے اور ناقابلِ تسخیر کرداروں سے ہوتی ہے۔ان کی اس بات کے اندر عقل و دانش کا اک وسیع سمندر موجزن تھا کیونکہ وقت کی تاریخ گواہ ہے کہ مادی عمارتیں، قلعے اور محلات تو زمین کی معمولی سی جنبش اور زلزلوں کے ایک ہی جھٹکے سے آنِ واحد میں ملبے کا ڈھیر بن جاتے ہیں اور ان کا نام و نشان تک مٹ جاتا ہےمگر جن قوموں کے اسلاف نے سچائی اور دیانت پر مبنی بلند کردار تخلیق کیے ہوں ان کے وہ کردار تاریخ کے اوراق میں نسل در نسل زندہ جاوید رہتے ہیں اور آنے والے مسافروں کے لیے مشعلِ راہ کا کام کرتے ہیں۔
اب شام کا وہ عارضی اور ہلکا دھندلکا گہری، سیاہ اور پراسرار رات میں تبدیل ہو چکا تھااور پلیٹ فارم پر پھیلی ہوئی تنہائی اور اندھیرے کی چادر مزید غلیظ اور خوفناک ہو رہی تھی مگر ان تمام مہیب حالات کے باوجود اس پرانے کھمبے پر لگا ہوا وہ چھوٹا سا ناتواں زرد بلب اپنی بساط کے مطابق ابھی تک اسی تندہی اور استقامت کے ساتھ روشن تھا اور اندھیرے کے سینے میں سوراخ کر رہا تھا۔ بندن میاں نے اپنی لاٹھی پر دونوں ہاتھ ٹکائے چند لمحے اس بظاہر معمولی مگر علامتی منظر کو گہری عقیدت سے دیکھا اور پھر دھیمی آواز میں کہنے لگے کہ دیکھو میاں زادے اس نحیف سے قمقمے نے اگرچہ اس پورے ریلوے اسٹیشن اور کائنات کے اس وسیع و عریض اندھیرے کو یکسر ختم نہیں کیا یہ اندھیری رات کو صبح میں تبدیل کرنے پر قادر نہیں تھا مگر اس کی عظمت دیکھو کہ جتنا حصہ، جتنی جگہ اس کے دائرہِ اختیار اور اس کی بساط میں تھی اس نے اسے اپنے نور سے روشن کر دیا اور اندھیرے کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے صاف انکار کر دیا۔یہ آخری اور سحر انگیز جملہ کہنے کے بعد وہ آہستہ سے اپنی جگہ سے اٹھے اپنی پرانی لکڑی کی چھڑی کو مضبوطی سے سنبھالا اپنے لباس کو درست کیا اور پلیٹ فارم کی تاریکی کی طرف آہستہ آہستہ اپنے قدم بڑھانے لگے مگر ابھی وہ چند ہی قدم دور گئے تھے کہ اچانک ان کے قدم رک گئے وہ مڑے ان کا چہرہ اس زرد روشنی میں چمک رہا تھا انہوں نے میری طرف دیکھا اور اپنے ریشمی، گداز اور الہامی لہجے میں زندگی کا سب سے بڑا درس دیتے ہوئے بولے بیٹا اس دنیا کی مسافت میں یہ ہرگز ضروری نہیں ہے کہ تم پوری دنیا کو بدل ڈالو یہ بھی لازم نہیں کہ تم پورے معاشرے کو یکسر سدھارنے کا کوئی بہت بڑا دعویٰ کرو بلکہ سب سے اہم، ضروری اور لازمی امر یہ ہے کہ تم اپنے حصے کی اس چھوٹی سی روشنی کو، جو قدرت نے تمہارے ضمیر اور دل میں رکھی ہےمصلحتوں کی آندھیوں میں بجھنے نہ دو۔ یاد رکھنا کہ سچ ہمیشہ بڑے بڑے ہجوموں، جلسوں، ریلیوں اور کثرتِ تعداد کے شور شرابے میں موجود نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات سچائی مصلحتوں کے اس طوفان میں کسی تنہا، مفلس اور گمنام انسان کے دل کے گوشے میں جلنے والا ایک چھوٹا سا چراغ ہوتی ہےدنیا والے، مصلحت پسند لوگ اور وقت کے فرعون اس اکیلے چراغ کا مذاق اڑا سکتے ہیں اسے انتہائی کمزور اور بے مایہ سمجھ کر نظر انداز کر سکتے ہیں لیکن کائنات کا یہ ابدی سچ یاد رکھنا کہ اگر اندھیرے کی ساری کائنات بھی اکٹھی ہو جائے اور اپنی پوری سلطنت، پوری طاقت اور پورے وسائل کے ساتھ حملہ آور ہو تب بھی وہ سچائی کے اس ایک تنہا اور سچے چراغ کی لو کو شکست دینے کی طاقت نہیں رکھتی کیونکہ سچ کا وجود حقیقی ہے اور اندھیرا محض ایک وہم ہے۔
میں وہیں پلیٹ فارم کے بنچ پر ساکت بیٹھا رہا اور اندھیرے کے اس سمندر میں آہستہ آہستہ گم ہوتے ہوئے اس عظیم انسان کے وجود کو دیر تک دیکھتا رہا جن کی لاٹھی کی ٹک ٹک کی آواز رات کے سکوت میں ایک نغمہ بن کر گونج رہی تھی۔ اس یادگار اور تاریخی رات مجھے اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ یہ گہرا اور حقیقی احساس ہوا کہ سچ محض زبان سے ادا ہونے والے چند حروف یا ایک لفظ کا نام نہیں ہے بلکہ سچ تو دراصل ایک مکمل طرزِ زندگی، ایک باوقار رویہ اور کائنات کی سب سے بڑی طاقت کا نام ہے اور شاید اسی لیے دانشوروں نے تاریخ کے تجربات کا نچوڑ اس ایک جملے میں سمیٹ دیا ہے کہ سچ وہ روشنی ہے جو اندھیروں کی کثرت اور ان کی ہیبت سے کبھی خوفزدہ نہیں ہوتی کیونکہ سچائی کو اپنے باطن کے اس راز کا علم ہوتا ہے کہ اندھیرے کی اپنی کوئی مستقل، حقیقی اور ذاتی حیثیت یا وجود نہیں ہے وہ تو محض روشنی کی غیر موجودگی کا ایک عارضی اور فانی نام ہے اور جیسے ہی روشنی اپنے پورے جلال کے ساتھ نمودار ہوتی ہے اندھیرے کا جھوٹا سحر خود بخود ٹوٹ جاتا ہے۔





