جون 28, 2026

بھارت میں مسلم عبادت گاہوں کو مسمار کرنے کے واقعات میں تشویشناک اضافہ، 45 روز میں مساجد و مزارات سمیت 23 مقامات گرا دیے گئے

نئی دہلی: بھارت میں مسلمانوں کی مقدس عبادت گاہوں اور تاریخی مقامات کو گرانے کے واقعات میں یکدم تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ حالیہ میڈیا رپورٹس کے مطابق، گزشتہ محض 45 روز کے مختصر عرصے کے دوران بھارت کی مختلف ریاستوں میں ایک ہزار سال پرانی تاریخی مسجد سمیت 23 مساجد، مدارس، درگاہوں اور عیدگاہوں کو بلڈوزر کے ذریعے مسمار کر دیا گیا ہے۔

رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مسلم مقاماتِ مقدسہ کے خلاف یہ متنازع کارروائیاں دہلی، اتر پردیش، مہاراشٹر، گجرات، راجستھان اور ہریانہ سمیت ملک کی مختلف اہم ریاستوں میں کی گئیں۔ بھارتی انتظامیہ کی جانب سے ان مہمات کو ‘تجاوزات کے خاتمے’ اور ‘سڑکوں کی توسیع’ جیسے ترقیاتی کاموں کا نام دے کر انجام دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب، انسانی حقوق کی عالمی اور مقامی تنظیموں نے ان اقدامات پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انسانی حقوق کے گروپس کا کہنا ہے کہ بیشتر مقامات پر کارروائی کے دوران بنیادی قانونی تقاضوں کو یکسر نظرانداز کیا گیا اور عمارتیں گرانے سے قبل متاثرہ فریقین کو نہ تو دفاع کا موقع دیا گیا اور نہ ہی کوئی مناسب قانونی نوٹس جاری کیا گیا۔ تاہم، بھارتی حکام نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ تمام کارروائیاں خالصتاً قانونی اور انتظامی ضابطوں کے تحت کی جا رہی ہیں۔

بھارت میں اقلیتوں کی اس مخدوش صورتحال پر عالمی سطح پر بھی آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ امریکہ کی معروف انسانی حقوق کی تنظیم "جسٹس فار آل” نے ان حالیہ کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم نے اپنے بیان میں مطالبہ کیا ہے کہ بھارتی حکومت ملک میں مذہبی آزادی کا تحفظ کرے اور قانون کے مساوی اطلاق کو ہر صورت یقینی بنائے۔