اسلام آباد: دریائے چناب میں پانی کی آمد میں اچانک اور بڑی کمی کے معاملے پر پاکستان نے بھارت سے باقاعدہ وضاحت طلب کر لی ہے۔ وزارتِ آبی وسائل کے ذرائع کے مطابق مرالہ کے مقام پر چناب میں پانی کی اس قدر کمی سندھ طاس معاہدے کی شقوں کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ پاکستانی انڈس واٹر کمشنر نے اپنے بھارتی ہم منصب سے رابطہ کر کے اس کمی کی وجوہات اور تفصیلات فوری طور پر فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
واپڈا کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ روز کے مقابلے میں دریائے چناب میں پانی کی آمد میں 11 ہزار 900 کیوسک کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد محض 9 ہزار کیوسک رہ گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے پانی کی اس بندش سے پاکستان میں زراعت اور پن بجلی کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جو کہ بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔





