امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف سخت اور دھمکی آمیز بیانات دے کر خطے کی صورتحال کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔ امریکی نیوز نیٹ ورک اے بی سی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کا تنازع ہفتوں نہیں بلکہ دنوں میں ختم ہونا چاہیے، بصورت دیگر ایران کو شدید نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہو سکا تو امریکا انتہائی سخت اقدامات پر غور کر سکتا ہے، جن میں ایران کے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا بھی شامل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی زمینی افواج کی شمولیت ضروری نہیں، تاہم اس امکان کو مکمل طور پر رد بھی نہیں کیا جا سکتا۔
اپنے ایک اور بیان میں امریکی صدر نے آبنائے ہرمز سے متعلق ایران کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس اہم آبی گزرگاہ کو نہ کھولا گیا تو سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں سخت زبان استعمال کرتے ہوئے ایران کے خلاف مزید اقدامات کا عندیہ بھی دیا۔
ادھر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے کچھ عہدیدار مذاکرات میں شامل ہیں اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کسی معاہدے کی راہ نکل سکتی ہے، تاہم صورتحال بدستور غیر یقینی کا شکار ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کے بیانات خطے میں عدم استحکام کو بڑھا سکتے ہیں اور عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کر سکتے ہیں۔





