پاکستان ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے کہا ہے کہ ٹیم ورلڈ کپ کے لیے روانہ ہو رہی ہے اور جو بھی فیصلہ بورڈ کرے گا، کھلاڑی اسی پر عمل کریں گے۔ آسٹریلیا کے خلاف تین میچوں کی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں کامیابی کے بعد قذافی اسٹیڈیم لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ حکومت کا ہے۔
سلمان علی آغا کا کہنا تھا کہ سیریز میں استعمال ہونے والی پچز دو سو رنز والی نہیں تھیں، اس کے باوجود ٹیم نے اچھا اسکور کیا جس کی بنیادی وجہ مضبوط بیٹنگ رہی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم کو علم ہے کہ سری لنکا میں مختلف نوعیت کی پچز ہو سکتی ہیں اور اسی حساب سے تیاری کی جا رہی ہے۔
قومی کپتان نے کہا کہ ورلڈ کپ میں پاکستان کے لیے اچھا موقع موجود ہے کیونکہ ٹیم نے بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ تینوں شعبوں میں مجموعی طور پر بہتر کارکردگی دکھائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیم کا اعتماد بلند ہے اور کھلاڑی مکمل فوکس کے ساتھ ایونٹ میں شرکت کریں گے۔
سلمان علی آغا نے بابر اعظم کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر ان پر غیر ضروری دباؤ نہیں ڈالنا چاہیے۔ ان کے مطابق بابر اعظم کو ریلیکس ہو کر کھیلنے دیا جائے تاکہ وہ تسلسل کے ساتھ رنز بناتے رہیں۔ انہوں نے فخر زمان کا بھی دفاع کرتے ہوئے کہا کہ فخر گزشتہ دس برسوں سے پاکستان کے لیے کھیل رہے ہیں اور ٹیم انہیں مکمل طور پر بیک کرے گی۔



