حالیہ امریکہ اسرائیل اور ایران کے درمیان ہونے والی جنگ نے پوری دنیا کو شدید بحران میں مبتلا کردیا ھے الحمدللہ اس جنگ کو امن کی جانب پاکستان نے بہت بڑا کردار ادا کیا جس سے پوری دنیا ششدر ہوکر رہ گئی یہ انصاف نہ ہوگا کہ اس ساری کوشش کرنے والوں کو سراہا نہ جائے اس میں فیلڈ مارشل سید حافظ عاصم منیر اور انکی عسکری و سول ٹیم جس میں وزیراعظم میاں شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر خارجہ محسن رضا سمیت وزارت خارجہ قابل ذکر اور تعریف کے لائق ہیں۔ ان حالات کی روشنی میں ڈاکٹر صادق علی سید اور ابابیل خیرالبشر موومنٹ کے چیئرمین اسد الحق قریشی کے درمیان حالیہ جنگ کے بارے میں تجاویز پر تبادلہ خیال ہوا وہ اہم نکات جس میں اسدالحق قریشی کا موقف اپنے معزز قارئین کی خدمت میں پیش کررھا ھوں، معزز قارئین!! دنیا کے بڑھتے ہوئے موجودہ بحرانوں کے حل کی تلاش کے لیے بین الاقوامی و ملکی ماہرین کا ایک اجلاس منعقد کیا گیا جس میں ماہرین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اپنے تجزیات اور نظریات پیش کیے، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بین الاقوامی انفراسٹرکچر کے ماہر مستند اور تجربہ کار انجینئیر (یاد رہے کہ CPEC منصوبہ بھی ڈاکٹر صادق علی سید کی ذہنی تخلیق ہے) ڈاکٹر صادق علی سید اور ابابیل خیرالبشر موومنٹ کے چیئرمین اسدالحق قریشی کے باہمی مشاورت کے نیتجے میں اپنا نظریہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ: سنہ 1948ء میں، ایم کنگ ہبرٹ نے یہ تصور پیش کیا کہ جیواشم ایندھن کے وسائل محدود ہیں۔ اور کمی کے تابع. آج یہ حقیقت عالمی سطح پر تیزی سے جھلک رہی ہے۔ جغرافیائی سیاسی کشیدگی، جہاں توانائی اور قدرتی وسائل پر مسابقت عدم استحکام کو آگے بڑھا رہا ہے۔ ایک ہی وقت میں، عالمی تجارتی نظام میں خلل کا خطرہ رہتا ہے، جبکہ

اقتصادی عدم مساوات تمام خطوں میں برقرار ہے۔ یہ چیلنجز فوری طور پر نمایاں کرتے ہیں۔ ایک نئی تمثیل کی ضرورت ہے جو وسائل پر مسابقت کی جگہ لے رابطے، تجارت اور مشترکہ خوشحالی کے ذریعے تعاون۔ پس منظر اور تصور کی اصل سنہ 2003 ء میں، مصنف نے ایک اسٹریٹجک تصور تیار کیا جس کا مقصد محفوظ، موثر، اور اقتصادی طور پر قابل عمل تجارتی راہداری، سمندری تجارت میں خطرات کے جواب میں اور علاقائی بنیادی ڈھانچے کے نظام میں ناکاریاں۔ اس تحقیق نے ریلوے کا تجزیہ کیا۔ 80 سے زیادہ ممالک میں نظام اور اس کے ذریعے تبدیلی کی تجویز پیش کی۔ مربوط ریل اور لاجسٹکس نیٹ ورکس۔ تصور میں شامل ہیں:
گوادر پورٹ سے منسلک پورے پاکستان میں دوہری ریلوے کوریڈورز کی ترقی
وسط ایشیائی ریاستوں، چین اور یورپ کی طرف توسیع
کمزور سمندری راستوں کے لیے محفوظ زمین پر مبنی متبادل کی تخلیق
اس وژن کے عناصر بعد میں چین پاکستان جیسی ترقیات کے ساتھ منسلک ہوئے۔ سنہ 2013 ء میں اقتصادی راہداری، مربوط کی طویل مدتی مطابقت کا مظاہرہ تجارتی بنیادی ڈھانچہ. مسئلہ موجودہ عالمی نظام کو تین باہم مربوط چیلنجز کا سامنا ہے:
وسائل سے چلنے والی تناؤ
محدود جیواشم ایندھن پر انحصار جغرافیائی سیاسی مسابقت کو آگے بڑھا رہا ہے۔
نازک تجارتی راستے
میری ٹائم سپلائی چینز جغرافیائی سیاسی خطرات کی وجہ سے رکاوٹ کا شکار رہتی ہیں۔
اقتصادی عدم توازن
قرض سے چلنے والے نظام اور مواقع تک غیر مساوی رسائی طویل مدتی عدم استحکام پیدا کرتی ہے۔ مجوزہ حل: بین البراعظمی امن تجارتی لنک (IPTL) آئی پی ٹی ایل ایک اسٹریٹجک فریم ورک ہے جو تجارت کے ذریعے امن کو فروغ دینے کے لیے بنایا گیا ہے،
کنیکٹوٹی، اور اقتصادی باہمی انحصار۔ یہ ایشیا کو جوڑنے والے نیٹ ورک کا تصور کرتا ہے، یورپ، وسطی ایشیا، اور اس سے آگے مربوط بنیادی ڈھانچے کے ذریعے۔ اس تصور کی ایک اہم خصوصیت مسلسل زمینی رابطے کی ترقی ہے، بڑے علاقوں میں ریل اور سڑک کے نیٹ ورک سمیت۔ اسٹریٹجک مختصر فاصلہ روابط — جیسے آبنائے ہرمز کے پار — رابطے کو مزید بڑھاسکتے ہیں، جیسا کہ یورپ نے برطانیہ اور فرانس کو اس کے ذریعے جوڑا
چینل ٹنل، تاریخی دشمنیوں کو اقتصادی تعاون میں تبدیل کرنا۔ یہ ایک ثابت شدہ اصول کی عکاسی کرتا ہے: وہ خطہ جو ایک ساتھ تجارت کرتے ہیں۔ امن میں رہیں. کلیدی اجزاء
مربوط بین البراعظمی تجارتی نیٹ ورک
پورے ایشیا اور یورپ میں آپس میں جڑے ہوئے سڑک اور ریل کوریڈورز
چین سے جنوبی ایشیاء، وسطی ایشیاء، مشرق وسطیٰ اور یورپ سے روابط
جنوب مشرقی ایشیا اور آسٹریلیا کی طرف ممکنہ توسیع
ٹرانزٹ کا وقت، لاگت اور خطرہ کم ہوا۔
توانائی کی منتقلی اور پائیداری
تجارتی راہداریوں کے اندر قابل تجدید توانائی کے نظام کا انضمام
وکندریقرت، اسٹینڈ اکیلے قابل تجدید توانائی صنعتی کی ترقی
جائیدادیں
جدید تصورات کا اطلاق جیسے کہ SAFT اور N’POWER برائے
مسلسل توانائی کی فراہمی
جیواشم ایندھن اور لمبی دوری کے ٹرانسمیشن سسٹم پر انحصار کم کرنا
تجارتی مرکز امن فریم ورک
اصول کو اپنانا: "تنازعات پر تجارت”
اقتصادی باہمی انحصار کو فروغ دینا
سے منسلک دو طرفہ اور کثیر جہتی تعاون کے معاہدوں کی حوصلہ افزائی
تجارت
اخلاقی اور پائیدار اقتصادی نظام
منصفانہ، اثاثوں کی حمایت یافتہ، اور رسک شیئرنگ مالیاتی ماڈلز کا فروغ
نظامی قرض کے دباؤ میں کمی
طویل مدتی اقتصادی اور ماحولیاتی پائیداری کے ساتھ صف بندی۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ابابیل خیر البشر موومنٹ کے چیئرمین اسد الحق قریشی نے کہا کہ جنگیں کبھی بھی کسی بھی مسائل ک،ا معاملات کا، مشکلات کا یا تنازعات کا حل ثابت نہیں ہوئیں۔ جنگوں سے صرف ہمیشہ جانی اور مالی نقصان ہی پہنچتا ہے جیسا کہ حالیہ ایران اور امریکہ کی جنگ میں ساری دنیا کی معیشت بھی متاثر ہوئی اور مالی طور پر بھی بیشتر ممالک کو انتہائی شدید نقصانات برداشت کرنے پڑے۔ جبکہ اس جنگ کا بظاہر کوئی واضح مقصد تھا ہی نہیں صرف اور صرف اسرائیل کی ناجائز ریاست کی ذاتی خواہش پر امریکہ کے صدر ٹرمپ نے اس جنگ کو ایران پر مسلط کیا اور اسرائیل کے مذہبی جذبات کو تسکین پہنچانے کے لیے اور مسلم امہ کے اتحاد کو توڑنے کے لیے گلف کے مسلم ممالک کو اس میں زبردستی شامل کر دیا گیا اور انہیں شدید نقصانات پہنچائے گئے اور امت مسلمہ میں اختلافات کو بڑھاوا دیا گیا اور اس کے اثرات دنیا کے دیگر پر امن ممالک میں بھی ان کی معیشت پر اثرانداز ہوئے، دنیا بھر میں مہنگائی کا ایک طوفان کھڑا ہوا تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا جس سے دنیا پھر کے تمام ممالک کی عوام اور حکومتیں مشکلات کا شکار ہوئے بالاخر حل مذاکرات کے ٹیبل پر ہی ایا اور اس وقت پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر صاحب نے اور دیگر چند ممالک کے سربراہان مملکت نے ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے اس بے مقصد جنگ کو روکنے کے لیے جنگ بندی کا اور معاہدے کا سلسلہ جو شروع کیا ہے اور انشاءاللہ اللہ تعالی انہیں کامیاب بھی فرمائے گا تمام جنگوں کا اخری حل ہمیشہ مذاکرات ہی ہوتے ہیں جب کہ دنیا کو اس وقت معاشی طور پر مضبوط کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ غیر مستحکم کرنے کے لیے اسلحے کا استعمال، بارود کا استعمال اور جنگوں کے ذریعے اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔

ابابیل خیرالبشر موومنٹ کے چیئرمین اسد الحق قریشی نے اپنا موقف و نظریہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ: امریکہ ایران کی حالیہ جنگ نے نہ صرف پوری دنیا کے ممالک کو شدید بحرانوں میں دھکیل رکھا ہے جس کے سبب بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے اور تیل کی پیداوار بھی شدید متاثر ہوئی، تیل کے زخائر کو آگ میں جھونک دیا گیا اور لاکھوں بیرل خام تیل نظر آتش کیا گیا۔ تیل کے سپلائرز یعنی گلف کے ممالک اپنے خریداروں کو تیل کی فراہمی کے لیے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ چائنا بھی تیل کا بڑا خریدار ان حالات میں پریشانی میں مبتلا ہے۔ سب کی نظریں آبنائے ہرمز پہ بڑی ہیں جو کہ کلی طور پر ایران کے مرہون منت ہے۔ اور دنیا تیزی سے تیسری عالمگیر جنگ کی جانب بڑھ رہی ہے ہر ملک کی معیشت داؤ پہ لگی ہوئی ہے اور سب کی عوام مہنگائی کا شکار ہو رہی ہے۔ تیل کی سپلائی صرف سمندری راستوں پہ انحصار کرتی ہے کسی کے پاس زمینی راستہ میسر نہیں ہے۔ آبنائے ہرمز سے بحری جہاز گزارنا تیل کی قیمتوں میں اور عالمی منڈی پہ بھاری پڑ رہا ہے۔ گلف کے مسلم ممالک آپسی اختلافات کے سبب مسلم امہ بھی مسائل کا شکار ہے لیکن اگر تمام بڑے مسلم ممالک اور چائینا مل کر ایک نیا زمینی راستہ ریلوے ٹریک یا جدید سڑک (سڑک پہ ٹرالرز کے لیے ڈیزل کا خرچ زیادہ ہو سکتا ہے اس لیے چائینا کی بلٹ ٹرین زیادہ مناسب رہے گی) کیونکہ راستوں میں پیٹرول پمپس کا اضافی خرچ بھی کرنا پڑے گا، اس کیلئے جدید ٹیکنالوجی سعودی عرب و چائینا دونوں کے پاس موجود ہے) اور فنڈز کی کمی بھی نہیں ہے اس منصوبے کو انتہائی تیزی سے عمل جامہ پہنایا جاسکتا ہے) یہ ٹریک یا روڈ نہ صرف تیل کی سپلائی میں انتہائی مددگار ہوگا بلکہ چائنا گلف کی مارکیٹ میں اپنی ٹریڈ کو بھی بہت مضبوط کرسکتا ھے اور انسانی مسافروں کی بھی آمد و رفت کے سستے ذرائع میسر ہوسکتے ہیں۔ اور اسکا دوسرا فائدہ یہ بھی ہے کہ ایران سمیت دیگر ممالک بھی ٹول ٹیکس یا راہداری کے نام پہ کثیر سرمایہ حاصل کرسکتے ہیں اور مسلم امہ کے ممالک کے آپسی تعلقات میں بھی بہتری پیدا ہوگی اور تجارت کے راستے بھی پیدا ہونگے۔ چائنا بھی تیل کا بڑا خریدار ان حالات میں پریشانی میں مبتلا ہے۔ سب کی نظریں آبنائے ہرمز پہ ہیں جو کہ کلی طور پر ایران کے مرہون منت ہے۔ حالیہ بیانات میں ایران نے دیگر سمندری راستوں سے بھی تیل کی ترسیلات کو روکنے کی دھمکی دے رکھی ہے
جس کے باعث دنیا تیزی سے تیسری عالمگیر جنگ کی جانب بڑھ رہی ہے ہر ملک کی معیشت داؤ پہ لگی ہوئی ہے اور سب کی عوام مہنگائی کا شکار ہورہی ہے۔ تیل کی سپلائی صرف سمندری راستوں پہ انحصار کرتی ہے کسی کے پاس باقاعدہ زمینی راستہ میسر نہیں ہے۔ آبنائے ہرمز سے بحری جہاز گزارنا اور اس کے نافظ کردہ ٹال ٹیکس و دیگر اضافی اخراجات، تیل کی قیمتوں میں اور عالمی منڈی پہ بھاری پڑ رہا ہے۔ گلف کے مسلم ممالک آپسی اختلافات کے سبب مسلم امہ بھی مسائل کا شکار ہے لیکن اگر تمام بڑے مسلم ممالک اور چائینا مل کر ایک نیا زمینی راستہ ریلوے ٹریک یا جدید سڑک (سڑک پہ ٹرالرز کے لیے ڈیزل کا خرچ زیادہ ہو سکتا ہے اس لیے چائینا کی بلٹ ٹرین زیادہ مناسب ذریعہ ہے) کیونکہ سڑک کے راستوں میں پیٹرول پمپس کا اضافی خرچ بھی کرنا پڑے گا، اس کے لیے جدید ٹیکنالوجی سعودی عرب و چائینہ دونوں کے پاس موجود ہے) اور فنڈز کی کمی بھی نہیں ہے اس منصوبے کو انتہائی تیزی سے عمل جامہ پہنایا جا سکتا ہے) یہ ٹریک یا روڈ نہ صرف تیل کی سپلائی میں انتہائی مددگار ہو گا بلکہ چائنہ گلف کی مارکیٹ میں اپنی ٹریڈ کو بھی بہت مضبوط کر سکتا کیے اور انسانی مسافروں کی بھی آمد و رفت کے سستے زرائع میسر ہو سکتے ہیں۔ اور اس کا دوسرا فائیدہ یہ بھی ہے کہ ایران سمیت دیگر ممالک بھی ٹال ٹیکس یا راہداری کے نام پہ کثیر سرمایہ حاصل کر سکتے ہیں اور مسلم امہ کے ممالک کے آپسی تعلقات میں بھی بہتری پیدا ہو گی اور تجارت کے راستے بھی پیدا ہوں گے۔ اس کے لیے سعودیہ سے آغاز ہوگا اور براستہ کویت، عراق، ایران، عمان، اور گوادر، سے چائنہ کا روٹ مرتب کیا سکتا ہے۔ آخر میں ممبران نے اس عظم کا اظہار بھی کیا کہ وہ ان منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے اس کے لیے کنسلٹنٹس کی خدمات، تکنیکی معاونت اور دیگر خدمات فراہم کرنے کی بھرپور صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ جس کے لیے فیڈ بیک اور رائے عامہ وصول ہونے کے بعد اگلے اجلاس میں مزید معلومات فراہم کی جائیں گی۔ فیڈ بیک، سوالات اور تجاویز کے لیے واٹس ایپ نمبر923122717987+ پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔۔۔۔ معزز قارئین!! یہ تحریر ڈاکٹر صاحب نے گزشتہ دن شیئر کی تھی لیکن آج امن معاہدے کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کھول دی ہے اب دیکھنا یہ ھے کہ یہود و نصاریٰ اپنے عہد پر کس حد تک اور کتنے عرصہ قائم رہتے ہیں کیونکہ انکی سررشت کو قرآن نے کھل کر بیان کردیا ھے کہ یہ جگوٹی دھوکہ باز مکار و عیاری سے باز نہیں آتے یہی سبب ھے کہ یہود و نصاریٰ کی چالوں سازشوں اور مکاریوں پر امت مسلمہ کو کڑی نظر رکھنے کی تلقین فرمائی ھے۔۔۔۔ !!




