امریکا نے ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے الزام میں پانچ ایرانی شخصیات پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ وہ ایرانی رہنماؤں کی اُن رقوم پر نظر رکھے ہوئے ہے جو دنیا بھر کے بینکوں کو منتقل کی جا رہی ہیں۔
پابندی کی زد میں آنے والوں میں سپریم کونسل برائے قومی سلامتی کے سیکریٹری، اسلامی انقلابی گارڈ کور اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کمانڈرز شامل ہیں۔ وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ امریکی محکمۂ خزانہ جانتا ہے کہ ایرانی رہنما عوام سے حاصل کی گئی رقوم کو دنیا بھر کے بینکوں اور مالیاتی اداروں میں منتقل کر رہے ہیں اور ان رقوم کا سراغ لگایا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران اپنے اقدامات تبدیل کرے تو ابھی بھی وقت موجود ہے، جیسا کہ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ تشدد بند کریں اور ایرانی عوام کے ساتھ کھڑے ہوں۔ بیسنٹ نے کہا کہ امریکا آزادی اور انصاف کے مطالبے میں ایرانی عوام کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔
محکمۂ خزانہ نے مزید 18 افراد پر پابندیاں عائد کی ہیں، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے ایرانی پیٹرولیم اور پیٹروکیمیکل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو غیر ملکی منڈیوں تک منتقل کرنے اور اس رقم کی منی لانڈرنگ میں حصہ لیا۔





