گجرات (پ۔ر)جامعہ گجرات کے شعبہ علومِ اسلامیہ کے زیراہتمام ایک علمی سیمینار ”عالمِ اسلام کو درپیش چیلنج اور ان کاسدِ باب“ کا انعقاد حافظ حیات کیمپس میں ہوا۔سیمینار کے مہمانِ خصوصی مسلم دنیا کی عظیم شخصیت اور بانی اسلامک سپریم کونسل کینیڈا پروفیسر سید بدیع الزماں سہروردی تھے۔۔صدارت کا فریضہ ڈین فیکلٹی برائے آرٹس پروفیسر ڈاکٹر زاہد یوسف نے سرانجام دیا۔میزبانی صدرِ شعبہ ڈاکٹر سید حامد فاروق بخاری نے کی۔پروفیسر سید بدیع الزماں سہروردی نے کہا کہ عصرِ حاضر میں الحاد تمام دنیا کا ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔اسلامو فوبیا کے نام پر دنیا بھر میں دین اسلام کے خلاف سنسنی خیز خبریں اور غیر حقیقی باتیں پھیلائی جا رہی ہیں۔الحاد کا حل لڑائی جھگڑا نہیں بلکہ دلیل و منطق کے ذریعے اپنا مؤقف دنیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے انہیں دین اسلام کے ابدی اور ہمہ گیر سچائیوں کا قائل کرنا ہے۔دوسروں کی تنقید و تجزیہ کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہوئے تحمل و دلیل سے انہیں قائل کرنا اصل اسلام ہے۔اندھی تقلید عالم اسلام کو درپیش چیلنجوں کا حل قطاً نہیں ہے بلکہ دلیل و منطق سے عقلی تجزیہ پر مبنی فکر اور عملی برتاؤ مسلم امۃ کو دنیا بھر میں ممتاز مقام عطا کر سکتا ہے۔قرآن کریم نے ہمیں دوسری اقوام کے ساتھ معاشرت و معاملات کی بہترین تعلیمات سے آگاہ کیا ہے۔قرآن کریم کی تعلیمات کو صحیح تناظر اور اصل سیاق و سباق میں رکھتے ہوئے ہم ایک راسخ اور نافع مسلمان بن سکتے ہیں۔سید بدیع الزماں سہروردی نے دین اسلام کی تعلیمات کو تاریخی تناظر میں پیش کرتے ہوئے سیرتِ رسولِ اکرمؐ اور اسلامی تاریخ کے مختلف درخشندہ پہلوؤں کو احسن انداز میں عیاں کیا۔ پروفیسر ڈاکٹر زاہد یوسف نے کہا کہ عملی طور پر مسلمان بنتے ہوئے دوسروں کو صراطِ مستقیم کی جانب راغب کرنا ایک کارِ عظیم ہے۔دنیا بھر میں اپنے قول و فعل سے اسلام کا دفاع قابل تحسین امر ہے۔حضورِکرمؐ کے طرز زندگی اور طریقہئ تبلیغ پر عمل کرنے سے ہی دور حاضر میں دنیا بھر میں حقیقی اسلام کا عَلم بلند ہو سکتا ہے۔ڈاکٹر سید حامد فاروق بخاری نے کہاکہ دین اسلام کے خلاف فکری و اخلاقی چیلنجز کا مقابلہ علم وحکمت اور روحانی بصیرت کے امتزاج سے ممکن ہے۔تبلیغ دین ایک آفاقی اور عملی فریضہ ہے۔خدمت دین و علم ایک الوہی نعمت و ذمہ داری ہے۔اسلام کے مقابل کھڑے فتنوں کا پا مردی سے مقابلہ ایک سچے مسلمان کا عملی فریضہ ہے۔سینیئر فیکلٹی یاسر حسین جامی نے والہانہ انداز میں فرائضِ نقابت سر انجام دیتے ہوئے کہا کہ الحاد سے بچاؤ کی بہترین پالیسی دین اسلام کی فطری انداز میں تبلیغ کرتے ہوئے لوگوں کے دلوں میں گھر کرناہے۔نبی اکرمؐ نے اپنے حسن سلوک اور مہارتِ ابلاغ سے دین اسلام کا بول بالا کیا۔ طلبہ کی اخلاقی و روحانی تربیت ایک عظیم فریضہ ہے۔سیمینار کے اختتام پر ڈاکٹر محمد حسیب نے دعائے خیر و امن کرواتے ہوئے امت مسلمہ کی کامیابی کا ادراک کیا۔




