جون 6, 2026

سانحہ اور بیانیہ

تحریر:ایم سرور صدیقی

موجودہ سیاسی صورت حال کے تناظرمیں سیاسی مبصرین کا کہناہے کہDG ISPR اس تواتر سے گرجے برسے ہیں کہ اب سیاسی مفاہمت کی امیدبھی دم توڑ گئی ہے جو ملکی مفادمیں نہیں ہے اس سے پاکستانی تقسیم در تقسیم ہو سکتے ہیں دو وفاقی وزراء کے بینات نے جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کیاہے ایک وزیر با تدبیر احسن اقبال کا کہنا تھا ابھی تو ڈی جی آئی ایس پی آر نے نرمی برتی ہے، میں ہوتا تو اس سے بھی سخت الفاظ استعمال کرتا جبکہ و زیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ جن لوگوں کی زبان سے شہداء بھی محفوظ نہ ہوں وہ کس منہ سے شکایت کرتے ہیں؟ ان کی شناخت پاکستان دشمن ہے، اس مٹی کے ساتھ ان کا کوئی رشتہ نہیں ہے، DG ISPRنے محتاط زبان استعمال کی ہے PTIکے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ DG ISPR کی پریس کانفرنس سے مایوسی ہوئی، بانی PTI اور بشریٰ بی بی جیل میں ہیں، ان سے ملاقاتوں کی اجازت ملے تو معاملات بہتری کی طرف چلے جائیں گے۔ ملک کا دفاع اہم ہے، PTI کا بیانیہ کبھی ملک دشمن نہیں تھا، نہ ہے نہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھی ہمارا ہے، فوج بھی ہماری ہے، یہ وقت ہے کہ سب ایک دوسرے کو تسلیم کریں اور جگہ دیں، اعتماد کا فقدان کو ختم کریں اصل بات یہ ہے کہ عمران خان کا جمہوری طرزِ عمل طاقتوروں کی انا سے ٹکرا گیا،عمران خان نے ہر مرحلے پر آئینی اور قانونی راستہ اپنایا، مگر چند افراد کی سوچ اس سیاسی حقیقت کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں عمران خان کا جمہوری طرزِ عمل طاقتوروں کی انا سے ٹکرا گیا،عمران خان نے ہر مرحلے پرآئینی اور قانونی راستہ اپنایا، مگر چند افراد کی سوچ اس سیاسی حقیقت کو قبول کرنے پرآمادہ نہیں DG ISPR کی زبان کسی طور افواج پاکستان کے شایان شان نہیں عمران خان وہ لیڈر ہیں جنہوں نے ہمیشہ کہا کہ ”فوج مضبوط ہو گی تو پاکستان مضبوط ہو گا“ انہوں نے بار ہا کہا کہ یہ فوج میری ہے، یہ ملک میرا ہے۔

کچھ سینئرتجزیہ نگاروں کی رائے ہے کہ حالات جس نہج کی طرف جارہے ہیں اس سے معاملات مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ KPK محکمہ قانون نے 9 مئی کے 57 مقدمات ختم کرنے کی سفارش صوبائی کابینہ کو بھیج دی ہے دوسری جانب وفاقی حکومت9 مئی کے مقدمات برقرار رکھنے کیلئے نئی قانون سازی سے بھی گریز نہیں کریگی نئے محاذ کھلنے سے تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان آنے والے دنوں میں گھمسان کا رن پڑنے کا امکان ہے KPKحکومت کئی ایسے مقدمات سے یک طرفہ طور پر دستبردار ہوچکی ہے حکومت کا موقف ہے کہ ان مقدمات کو بلاوجہ ختم کرنا ایک طرف دہشت گردی کی مدد کرنا ہے تو دوسری جانب وفاقی حکومت کے معاملات میں دخل اندازی بھی بنتی ہے۔ ذرائع نے واضح کیا کہ نو مئی کے مجرموں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا ان کے خلاف مقدمات ختم کرنے کی مہلت دیئے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا وفاقی حکومت کو ان مقدمات کو برقرار رکھنے کے لئے نئی قانون سازی کی ضرورت پڑی تو اس سے گریز نہیں کیا جائیگا۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری DG ISPR کی پریس کانفرنس دراصل فوج کی طرف سے دوٹوک پیغام ہے کہ نفرت آمیز بیانیے کے جواب میں ادارہ کسی دباؤ میں نہیں آنے والا اور اب PTI کے خلاف مزید سخت مؤقف اختیار کرے گا کیونکہ تحریک ِ انصاف کی طرف سے طاقتور لوگوں کو مزید غصہ دلانے کی وجہ سے پاکستان کو نقصان ہو رہا ہے اب یہ خدشہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کرکےPTIکی حکومت کا خاتمہ کیاجاسکتاہے اور اس سے بڑھ کرتحریک انصاف کو کالعدم بھی قراردیا جاسکتاہے اس کا مطلب ہے PTI کی مشکلات میں برابر اضافہ ہوتاجارہاہے یہ نہ بھی ہوا تو پھر بھی جب تلک فیلڈمارشل اپنے نئے عہدے چیف آف ڈیفنس فورسز پر فائز ہیں تحریک ِ انصاف کو کوئی ریلیف ملنے کی امید نہیں اور کوئی پارٹی یا ان کے نظریاتی کارکن بھی سال ہاسال سختیاں برداشت نہیں کرسکتے اس طرح PTI میں توڑپھوڑ ہوتی رہے گی جس سے کچھ عرصہ بعد یہ پارٹی اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتی ایسا ہوا تو یہ ایک مقبول ترین سیاسی پارٹی، جمہوریت،سیاست اور ان کے کارکنوں کیلئے ایک سانحہ سے کم نہیں ہوگا جو ملکی سلامتی کے لئے بھی خطرناک ہے اس لئے اداروں کو مذاکرات کے دروازے کبھی بند نہیں کرنے چاہیں اگربھارت اور طالبان کے ساتھ بات چیت ہوسکتی ہے تو پھر کسی سیاسی پارٹی کو اس سے محروم کرنا دانش مندی نہ ہوگی پی ٹی آئی سے مذاکرات کے تمام دروازے بند کرنے سے ملکی سیاست پر بڑے گہرے اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ پاکستان اب کسی نئے سانحہ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔