تحریر:ایم سرور صدیقی
امیرالمومنین حضرت علیؓ کا فرمان ِ ذیشان ہے جب بھی مانگو اللہ تبارک تعالیٰ سے اچھی قسمت مانگو شاید چرچل نے بھی یہ پڑھ لیا تھا اسی لئے ان کے بارے میں مشہور ہے جب ونسٹن چرچل نے کبھی کسی کے لئے جیت کی دعا کی، تو اکثر کہا کرتے تھے:”میں کبھی کسی کی صحت یا دولت کی دعا نہیں کرتا میں انہیں صرف اچھی قسمت کی دعا دیتا ہوں یقینا یہ ایک بہترین دعاہے جس کی قسمت اچھی ہوگی یقینا اسے صحت، دولت، شہرت میسر آئے گی ایک مثال سے وضاحت کافی ہوگی ٹائی ٹینک کے بیشتر مسافر بالکل صحت مند اور انتہائی مالدار تھے مگر قسمت نے یاوری نہیں کی سب کے سب سمندر میں ڈوب گئے آج صرف ان کی کہانیاں موجود ہیں۔”یہ بات واقعی سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے کہ اچھی قسمت کی دعا بہترین دعاہے اس کے ساتھ ساتھ کچھ اتفاقات بھی ایسے ہوتے ہیں جو بھلائے نہیں جاسکتے کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک بڑی کمپنی کا ایک اعلیٰ افسر صرف اس لیے 9/11 کے حملے سے بچ گیا کیونکہ وہ اْس صبح اپنے بیٹے کو پہلی بار کنڈرگارٹن لے گیا تھا؟ ایک شخص زندہ بچا کیونکہ اْس کی باری تھی کہ وہ ڈونٹ خریدنے جائے۔ ایک عورت دیر سے پہنچی کیونکہ اْس کی الارم گھڑی نہیں بجی۔ ایک اور ٹریفک میں پھنس گیا نیو جرسی ٹرن پائک پر۔ ایک بس چھوٹ گئی۔ ایک خاتون نے کپڑوں پر کافی گرا دی اور بدلنا پڑا۔ ایک شخص کی گاڑی اسٹارٹ نہیں ہوئی۔ ایک نے گھر سے نکلنے سے پہلے فون کا جواب دیا۔ ایک کو کیب نہیں ملی۔ لیکن جو کہانی مجھے سب سے زیادہ متاثر کر گئی، وہ یہ ہے ایک شخص نے اس صبح نئے جوتے پہنے۔ راستے میں جوتے نے اْس کے پیر پر چھالہ دے دیا۔ وہ دواخانے رکا کہ پٹی خریدے اسی لیے وہ زندہ ہے۔ تو اب جب بھی مجھے ٹریفک میں پھنسنا پڑے یا لفٹ چھوٹ جائے یا چابی لینے واپس جانا پڑے… میں یاد کرنے کی کوشش کرتا ہوں شاید میں بالکل اْس جگہ ہوں جہاں مجھے ہونا چاہیے تھا۔اگلی بار جب آپ کی صبح منصوبے کے مطابق نہ چلے بچے دیر سے تیار ہو رہے ہوں، چابیاں نہ مل رہی ہوں، یا ہر ٹریفک سگنل سرخ ہو تو ایک لمحے کے لیے رک جائیں۔فکر نہ کریں جلدی نہ کریں۔آپ نہیں جانتے کہ قسمت کا کون سا موڑ آپ کی تاخیر میں آپ کی حفاظت کر رہا ہے۔کبھی کبھی، جو چیز ناکامی لگتی ہے وہ درحقیقت خدا کی عنایت ہوتی ہے۔یقینا ان کی اچھی قسمت تھی کہ یہ اتفاقات ان کی زندگی میں آئے۔کہاوت ہے حضرت مالکؓ بن دینار ایک مرتبہ بصرے کے بازار سے گزر رہے تھے۔ آپ نے ایک لونڈی کو دیکھ کر اس کے مالک سے اس کی قیمت پوچھی۔ وہ کہنے لگا آپ درویش آدمی ہیں آپ اس کی قیمت نہ دے سکیں گے۔ حضرت مالک بن دینار نے فرمایا کہ یہ بیچاری کیا مال ہے میں نے بڑی بڑی گراں قدر لونڈیوں کا بیعنامہ دے رکھا ہے۔ اس لونڈی کی قیمت تو میرے نزدیک کچھ بھی نہیں۔ اگر کچھ ہے تو کھجور کی دو گٹھلیاں ہیں۔ اور وہ اس لئے کہ اس لونڈی میں بہت سے عیب ہیں۔ دو دن عطر نہ لگائے تو بدن اور کپڑوں سے بدبو آنے لگے۔ مسواک نہ کرے تو گندہ دہن ہو جائے، کنگھی چوٹی سے غافل رہے تو سر میں جوئیں پڑ جائیں زیادہ عمر والی ہو کر بڑھیا کہلانے لگے۔ کسی مہینے میں حیض اور کسی وقت نجاست سے خالی نہیں۔ بھائی جان میں نے ان لونڈیوں کا بیعنامہ دے رکھا ہے جو کافور و مشک اور سر اسر نور سے پیدا ہوئیں جن کا لعب دہن دریائے شعور کو میٹھا کر دے۔ جن کا تبسم مردہ کو زندہ کر دے۔ جن کا چہرہ چشمہ آفتاب کو گدلا کر دے اور جن کا حلّہ جہان کو معطر کر دے۔ اور جن کی صفت کہ وہ خیموں میں قیام پذیر ہیں۔ اس شخص نے پوچھا کہ ایسی حسین و جمیلوں کی کیا قیمت ہے۔ حضرت مالک بن دینارؒ نے فرمایا ترک خواہشات نفسانی اور رات کو دو رکعت پڑھ لینا۔ یہ سن کر اس شخص نے اپنی تمام غلام اور لونڈیوں کو آزاد کر دیا اور خدا کی راہ میں سب کچھ لٹا کرگوشہ نشین ہو گیا۔ (نزہتہ المجالس) دنیا کی ہر چیز فانی اور غیر مکمل ہے۔ اور اخروی نعمتیں باقی اور عیوب سے پاک ہیں۔ اور ترک خواہشات نفسانیہ سے بڑے بڑے انعام حاصل ہوتے ہیں۔ اب کچھ ظریفانہ باتیں بھی ہوجائیں ایک
بند دکان کے تھڑے پر بیٹھے دو بوڑھے آپس میں باتیں کرتے ہوئے ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہے تھے کہ ایک متجسس راہگیر نے ان سے اتنا خوش ہونے کی وجہ پوچھ لی۔
ایک بوڑھے نے بمشکل اپنی ہنسی پر قابو پاتے ہوئے کہا: ہمارے پاس اس ملک کے مسائل حل کرنے کیلیے ایک شاندار منصوبہ ہے۔
اور وہ منصوبہ یہ ہے کہ ساری قوم کو جیل میں ڈال دیا جائے۔ اور ان سب کے ساتھ ایک گدھا بھی جیل میں ڈالا جائے۔
راہگیر نے حیرت سے دونوں کو دیکھا اور پوچھا: ان سب کے ساتھ ایک گدھے کو کیوں قید کیا جائے؟
دونوں بوڑھوں نے فلک شگاف قہقہہ لگاتے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھا، اور ایک بوڑھے نے دوسرے سے کہا: دیکھا رحیمے: آگیا یقین تجھے میری بات پر، میں نہیں کہتا تھا کہ بخدا اس قوم کے بارے میں کوئی بھی نہیں پوچھے گا۔ فیوچرپلاننگ ہر حال میں کرتے رہنا چاہیے یہ بھی اچھی قسمت کاایک فارمولاہے ایک دن ایک ارب پتی اپنی طویل عرصے سے کام کرنے والی سیکرٹری سے الوداع کہہ رہا تھا کیونکہ وہ ریٹائر ہو رہی تھی۔ اس نے اس کے سالوں کی وفاداری کا شکریہ ادا کرنے کے لیے فیصلہ کیا کہ اسے چند ملین ڈالر دے دے تاکہ وہ دوبارہ کبھی پیسوں کی فکر نہ کرے۔
اس کی حیرت کے ساتھ، سیکرٹری نے سر ہلا کر کہا، "آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ میرے پاس تو پہلے ہی کچھ ارب ہیں۔”
یہ سن کر ارب پتی بالکل دنگ رہ گیا اور کہا، "لیکن… کیسے؟ آپ تو صرف پانچ یا چھ ہزار ڈالر ماہانہ کماتی تھیں۔ آپ اتنی بڑی رقم کیسے بچا سکتی تھیں؟”
وہ مسکرائی اور کہا، "ان سالوں میں، میں آپ کی میٹنگز میں بیٹھتی رہی۔ جب آپ فون پر زمین یا اسٹاک خرید رہے تھے، میں خاموشی سے وہی کام کرتی تھی — بس چھوٹے پیمانے پر۔ میں نے آپ کی نقل کی۔ تو جب آپ نے ملینز کمائے، میں نے لاکھوں کمائے۔ اور جب آپ نے اربوں کمائے، میں نے ملینز کمائے۔”
زندگی کا سبق یہ ہے کہ آپ اپنے آپ کو کس کے ساتھ گھیرے رکھتے ہیں، وہ اہمیت رکھتا ہے۔ کچھ لوگ آپ کی توانائی کو نکال لیتے ہیں … اور کچھ لوگ آپ کو بلند کرتے ہیں۔
شہد کی مکھیاں ہمیشہ آپ کو پھولوں تک لے کر جاتی ہیں۔ اپنے آپ کو ایسیلوگوں سے گھیر لیں جو آپ کی نشوونما کی ترغیب دیتے ہیں، نہ کہ منفی خیالات سے۔
جب آپ ہوشیار لوگوں کے ساتھ چلتے ہیں — آپ زیادہ عقلمند بنتے ہیں۔ جب آپ پرعزم لوگوں کے ساتھ چلتے ہیں — آپ بلند ہدف مقرر کرنے لگتے ہیں۔ جب آپ خواب دیکھنے والوں کے ساتھ چلتے ہیں — آپ بڑے خواب دیکھنا سیکھتے ہیں۔
لیکن اگر آپ اپنا وقت ان لوگوں کے ساتھ گزارتے ہیں جو شکایت کرتے ہیں، جو خواب نہیں دیکھتے، جو کوئی مقصد نہیں رکھتے، تو وہ آپ کو صرف نیچے کھینچیں گے۔ اپنے حلقے کا انتخاب عقلمند ایسے کریں۔ وہ ماحول بنائیں جو آپ کی نشوونما کو بڑھا سکے۔ اور اپنے آس پاس کے لوگوں کے لیے وہ مثبت قوت بنیں۔




