تحریر:ایم سرور صدیقی
برطانوی جریدے کی بشریٰ بی بی سے متعلق رپورٹ نے پاکستان کی سیاست میں ہلچل مچادیرطانوی جریدے (دی اکانومسٹ) میں بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے حوالے سے انکشافات سے بھرپورشائع ہونے والی رپورٹ میں شریک مصنفہ بشریٰ تسکین کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی نے روحانیت کا لبادہ اوڑھا ہوا تھا، وہ عمران خان کو کنٹرول کرنے میں کافی حد تک کامیاب ہو گئیں لیکن ملک کا حال سب کے سامنے ہے،تقرر اور تبادلے ہر چیز جادو اور علم کی بنیاد پر ہو رہی تھی، سیاسی تجربے کی کمی کے باعث بشری بی بی جلد ایکسپوز ہو گئیں، بشری بی بی کے پاس کوئی طاقت ہوتی تو PTI اور بانی کا وہ حال نہ ہوتا جو ہوا۔ برطانوی جریدے کی سٹوری کے متعلق کچھ نہیں کہاجاسکتا کہاس میں کتنی سچائی ہے بہرحال زمانہ قدیم میں جادو ٹونے کے زور پر حکومت کرنا توثابت ہے لیکن آج کے جدید اور ٹیکنالوجی کے دورمیں ایسا ممکن نہیں آخری الہامی کتاب میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے درمیان ایک معرکہ میں جب فرعون کے جادوگروں نے رسیاں پھینکیں جو بڑے خوفناک سانپ بن گئے اس وقت اللہ تبارک تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے عصا کو زمین پر پھینکیں چنانچہ انہوں نے ایساہی کیا عصا نے ایک خوفناک اژدھے کا روپ دھاڑلیا اس نے دیکھتے ہی دیکھتے جادوگروں کے تمام سانپوں کو نگل لیا یہ دیکھ کر تمام جادوگر خوفزدہ ہوکرسجدے میں گر گئے قرآن حکیم میں متعدد آیات میں جادوکا اذکارہے۔ بہرحال برطانوی جریدے میں عمران خان اور بشری ٰ بی بی کے حوالے سے چھپنے والی سٹوری کی شریک مصنفہ بشری تسکین نے مزید کہا کہ یہ جو سارا کچھ اسٹوری کے اندر ہے اس کی رپورٹنگ پاکستانی میڈیا میں ہوتی رہی ہے لیکن ہم نے اس پر جب کام شروع کیا تو بہت ساری ایسی معلومات اور حقائق سامنے آئے جوچونکا دینے والے تھے، بشری بی بی کی روحانی بصیرت تھی جس کا انہوں نے لبادہ اوڑھا ہوا تھا اور وہ بانی PTI کو اس کے ذریعے ہی کنٹرول کرنے میں کافی حد تک کامیاب ہو گئیں لیکن اس کے بعد ملک کا جو حال ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ایک سوال کے جواب میں میں کہنا تھا کہ شائع ہونے والی رپورٹ میں سینئر اینکر پرسن طلعت حسین کے ٹویٹ کو کوڈ کیاگیا ہے جو انہوں نے یہ تمام باتیں مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز پر نشر ہونے کے بعد کیا تھا، طلعت حسین نے ہمیں بتایا کہ بانی PTI کے سیاسی وعدے صرف وعدوں تک محدود تھے ان میں سے کسی ایک پر بھی ہم نے عملد رآمد ہوتے نہیں دیکھا۔ہم نے جب اسٹوری کے سلسلے میں ان کی پارٹی اور کیبنٹ کے سینئر اراکین، قریبی ساتھیوں،پارلیمنٹرین، ٹکٹ ہولڈرز سے رابطہ کر کے ان کے تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کئے تو اکثریت کا ماننا تھا خان صاحب کی پالیسیاں ناکام تھیں، چاہے وہ ڈیویلپمنٹ کے حوالے سے تھیں، وہ سیاسی اصلاحات تھیں،بعد میں بانی نے جس طرح سے اپنا موقف تبدیل کیا کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے رول کیخلاف ہیں یا جو پارلیمانی سیاست ہے اس میں جو ایجنسیوں یا فوج کا کردار ہے وہ اس کیخلاف ہیں لیکن اصل میں وہ اسی پاورفل بارڈرز کی جانب سے لائے ہوئے تھے، وہی ان کے سہولت کار تھے، وہی ان کو چلانے والے تھے۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ جب بانی اور بشری بی بی کی نئی شادی ہو ئی تھی تو اس وقت جمائمہ خان ے ایک ٹویٹ کیا تھا جس میں انہوں نے ایک اینیمیٹڈ تصویر بھی لگائی تھی اور انہوں نے اس کو ایک ٹائٹل بھی دیا تھا۔ وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا ہے کہ اکانومسٹ نے وہی لکھا جو ہم بتاتے رہے ہیں، تحریک انصاف کے دور میں اقتدار جادوگرنی کے ہاتھوں میں تھا، آئینی فیصلوں سے لے کر کابینہ کی تشکیل تک سب بشریٰ پیرنی کے ہاتھوں میں تھا، کالے جادو پر یقین رکھنے والی خاتون کا سب پر قبضہ ہو گیا، یہ دھوکے دے کر لوگوں سے پیسے کمانے والے تھے، وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری نے کہا تبدیلی اور کرپشن کے خاتمے کے دعویدار سے بشریٰ بی بی 4 سال حلال کرپشن کرواتی رہیں، پیپلزپارٹی کی شیری رحمن نے کہا بانی پی ٹی آئی پر بشریٰ بی بی کے اثر و رسوخ پر حیران ہوں، شرم بھی آتی ہے کہ ہر فیصلہ، ہر تقرری، کابینہ کے فیصلے تک بشری بی بی کرتی تھیں، وزیر مملکت طلال چوہدری نے کہا جو سرکار جادو ٹولے سے چلے، اندازہ لگالیں اس نے ملک کے ساتھ اور کیا کیا کِیا ہوگا، اہم ترین تقرریاں جادو ٹونے پر ہوتی تھیں، وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا عثمان بزدار کو بھی ایسے ہی فیصلوں کے تحت وزارت اعلی کے عہدے پر تعینات کیا گیا۔چیئرمین PTI بیرسٹر گوہر نے بشریٰ بی بی کیخلاف آرٹیکل کو کردارکشی قرار دیتے ہوئے جریدے کیخلاف قانونی چارہ جوئی کا اعلان کیا ہے، انہوں نے کہا کہ ایسے آرٹیکل اسپانسرڈ ہوتے ہیں اس قسم کے ہتھکنڈوں سے بشریٰ بی بی کو توڑا نہیں جاسکتا اس آرٹیکل کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق رکھتے ہیں،انہوں نے کہا کہ ایسے ہتھکنڈوں سے بشریٰ بی بی کو نہیں توڑا جا سکے گا، اس وقت جب وہ جیل میں ہیں اس قسم کے آرٹیکل کے آنے کی ہم مذمت کرتے ہیں، اس قسم کے آرٹیکل اسپانسرڈ ہوتے ہیں اور ہم قانونی چارہ جوئی کرینگے۔،PTIرہنما بیرسٹر محمد علی سیف نے بشریٰ بی بی سے متعلق رپورٹ کو من گھڑت اور بے بنیاد قراردیتے ہوئے کہا کہ بشری بی بی کیخلاف جھوٹے الزامات کا مقصد سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہے، بشری بی بی کیخلاف ایک منظم مہم چلائی جا رہی ہے، انکی ساکھ کو خراب کرنے کی ہر کوشش ناکام ہوگی، وزیر مملکت برائے اوورسیز پاکستانیز عون چوہدری نے کہا ہے کہ برطانوی جریدے کے آرٹیکل میں جو بھی چھپا ہے وہ بالکل درست ہے، شرمناک ہے کہ وزیراعظم سرکاری فیصلے بیوی سے پوچھ کر کرتے تھے، اس سے ملک کی عالمی سطح پر جگ ہنسائی ہوئی ہے۔ وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ برطانوی جریدے نے اسٹوری چھاپی کہ بانیPTI عمران خان کی اہلیہ سرکاری فیصلوں پر اثر انداز ہوتی تھی وہ فیصلے ایکسپرٹ سے نہیں بشریٰ بی بی سے پوچھ کر کرتے تھے دنیا کے جریدے کہہ رہے ہیں تمام فیصلے ایک خاتون کرواتی تھیں، بانیPTI کے جتنے فیصلے تھے روحانیت کا لبادہ اوڑھے اِن کی اہلیہ کرتی تھی، تمام معاشی اور سیاسی فیصلے اِن کی اہلیہ کیا کرتی تھیں۔ وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمی بخاری نے کہا ہے کہ جریدے کی بشری بی بی پر رپورٹ 100 فیصد درست اور حقائق کے مطابق ہے۔عظمی بخاری کا کہنا تھا کہ بانیPTI کے بعد بشری بی بی کے کارناموں کے چرچے عالمی میڈیا میں ہو رہے ہیں، رپورٹ نے جعلی پیرخانے اور روحانیت میں چھپی شیطانیت سے پردہ اٹھایا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پنکی، گوگی، کوچ اور بزدار نے ملکر بانی PTI کو چار سال ڈگڈی پر نچایا، جادو ٹونے سے جعلی پیرخانے چلتے ہیں، ملک اور معیشت نہیں چلتے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے کہا عمران خان کی اہلیہ سیاسی بھی تھیں اور بانی PTI کو کنٹرول کرنے کا حصہ تھیں۔ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ بزدار کی تقرری سے لے کر اہم ترین تقرری تک جادو ٹونے سے کام ہوتا رہا، گوگی، پنکی والا گٹھ جوڑ تھا، بزدار لگا کر فائدہ لینا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ بانیPTI کو کنٹرول کر کے ہیرے کی انگوٹھی، پلاٹ، 190 ملین پاؤنڈ میں بشری بی بی ملوث رہی ہیں، کرپشن کی غضب کہانی نے بنی گالا کو منی گالا بنایا۔ سینیٹر شیری رحمان نے برطانوی جریدے کی بشری بی بی سے متعلق شائع کی گئی خصوصی رپورٹ پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عجیب و غریب چیزیں سامنے آرہی ہیں، کافی لوگوں نے یہ کہانی سنائی اور اس کی تصدیق بھی کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک غیر منتخب خاتون کے اشارے پر سب کچھ ہو رہا تھا، وہ حساس اداروں سے معلومات لے کر کہتی تھی کہ یہ میری روحانی پیشگوئی ہے۔ شیری رحمان کا کہنا تھا کہ کوئی ناپسندیدہ ہو اِن کو تو اسے اگلے دن برطرف کیا جاتا تھا۔اِن کا یہ بھی کہنا تھا کہ شرم بھی آتی ہے اور تشویش بھی ہوتی ہے کہ بات کس سطح تک جا پہنچی تھی، جہاز کے اڑنے کا وقت بھی بشری بی بی متعین کرتی تھی۔۔ PTI رہنما بیرسٹر محمد علی سیف نے بشری بی بی سے متعلق رپورٹ کو من گھڑت اور بے بنیاد قرار دیدیا۔ اپنے ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ بشری بی بی کیخلاف ایک منظم مہم چلائی جا رہی ہے، انکی ساکھ کو خراب کرنے کی ہر کوشش ناکام ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بشری بی بی جیل میں رہ کر بھی مثالی قوت برداشت دکھا رہی ہیں۔ قربانیوں کا دور ختم ہوگا، انصاف ضرور ملے گا۔بیرسٹر سیف کا کہنا ہے کہ جیل میں غیر قانونی قید کے باوجود بشری بی بی کا حوصلہ بلند ہے۔دریں اثناء ایک بیان میں سابق وزیراعظم عمران خان کے سابق قریبی ساتھی اور پولیٹیکل سیکرٹری عون چوہدری نے کہاکہ 25کروڑ عوام کا مذاق بنایا گیا ہے، اس سے ملک کی عالمی سطح پر جگ ہنسائی ہوئی ہے۔وزیر ِ دفاع خواجہ آصف نے اکانومسٹ کی خبر کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی مکمل طور پر فیض حمید اور جنرل باجوہ کے کنٹرول میں تھے، جنرل عاصم منیر کی رپورٹ پر بانی پی ٹی آئی نے ناراض ہو کر انہیں ہٹا دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ سنگین مذاق کیا گیا، طاقت کے لیے ایک خاتون کو لانچ کیا گیا، چار پانچ سال کی لوٹ مار ایک منصوبے کے تحت کی گئی۔ لوٹ مار کے پیسے سے بانی پی ٹی آئی کو حصہ ملتا تھا، باقی پیسہ باہر گیا۔خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ فیض حمید عدالتوں اور بانی پی ٹی آئی دونوں کو کنٹرول کر رہے تھے، ملک کی کمانڈ جادو ٹونے کے حوالے کر دی گئی تھی، بشریٰ بی بی دشمن ملک کے ہاتھ لگ جاتیں تو سنگین خطرات پیدا ہوسکتے تھے۔ بہرحال عمران خان کے حامیوں کا رد ِ عمل یہ ہے کہ برطانوی جریدے کی بشریٰ بی بی سے متعلق رپورٹ عمران خان کی کردارکشی کاایک نیا اینگل ہے ماضی میں بھی بہت سے لوگوں نے عمران خان کی تنقیدو تضحیک کرکے ان کی مقبولیت کو کم کرنا چاہاحتیٰ کہ ان کے کئی قریبی ساتھی انہیں چھوڑ گئے جہانگیر ترین،پرویزخٹک، عبدالعلیم خان نے بانی PTIپر سنگین قسم کے الزامات لگائے عمران خان کے خلاف ریحام خان، عائشہ گلہ زئی،شاہدآفریدی سمیت درجنوں افراد کو لانچ کیا گیا لیکن بانی PTI کی مقبولیت پہلے سے بھی زیاڈہ ہوگئی ایسے مضامین حالات کے گردو غبار میں اڑجائیں گے اب27ویں آئینی ترامیم کے بعد پاکستان کا واحد اپوزیشن رہنماعمران خان ہی ہے9مئی اور26نومبر کے واقعات بھیPTIنے Faceکئے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ سیاست میں سب کچھ چلتاہے دیکھنایہ ہے کہ عوام کا اس آرٹیکل پرکیا اثرہوتاہے؟ ملکی سیاست میں یہ کس حد تک اثر انداز ہوسکتی ہے؟عوام نے اس پر سنجیدگی دکھائی تو عمران کی مقبولیت کم ہو سکتی ہے۔





