جون 1, 2026

عورت کی کہانی، عورت کی زبانی

کالمکار: جاوید صدیق

آج کا کالم سیاست سے ہٹ کر معاشرت اور مذہب پر مبنی لکھ رھا ھوں کیونکہ پاکستانی معاشرے کے بگڑتے ماحول اور حالات کی سنگینی کے سبب قلم اٹھانے پر مجبور ہوگیا ہوں کیونکہ ایک صحافی ملک و ریاست کی شفافیت اور بہتری کیلئے پابند ھوتا ھے کہ منفی اور شیطانی و فتنہ انگیزی عوامل کا قلع قمع کرنے کیلئے بناء خوف و خطر اپنے منصب کی فرائض کی ادائیگی ناگزیر رہتی ھے۔ سب سے پہلے ہم خود عورت سے جانتے ہیں کہ وہ ہمارے پاکستانی معاشرے کو کس طرح دیکھتی سمجھتی اور محسوس کرتی ہیں کہ ہمارے معاشرے میں مردوں کا کردار کس طرح کا ھے معزز قارئین ملاحظہ فرمائیے ۔۔ عورت کو اللہ نے خاص طور سے بنایا ھے، یہ حقیقت ھے کہ عورت مرد کی پسلی سے پیدا ھوئی ھے اگر ھم مرد اپنی پسلی پر زور دار چوٹ ماریں تو احساس ھوگا کہ ھم مرد کے جسم کو کس قدر تکلیف سے گزرنا پڑا ھے اور جب اپنی جاہلیت وحشی پن اور بدترین کردار کے سبب صنف نازک کیساتھ ناروا سلوک کرتے ہیں تو یقین جانئے جس نے پیدا کیا ھے اسے کس قدر تکلیف ھوتی ہوگی۔ ہم مرد خود کو بہادر، نڈر، باغیرت، باوقار اور بامقام کہتے ہیں تو پھر ہم سب مردوں پر لعنت جو اپنے سے ہزار کم طاقت میں اس پر اپنی حاکمیت، جبر، ظلم و بربریت دکھا کر زیادہ خوش ہوتے ہیں مگر بھول جاتے ہیں کہ یہ دنیا چند لمحوں کی ھے۔

ابدی زندگی میں جب جائیں گے تو کس منہ سے اللہ واحد لاشریک کا سامنا کریں گے اور یہ اکڑ غرور تکبر اور اپنی دنیاوی طاقت رب العزت کو دکھا سکیں گے۔ اللہ تبارک تعالیٰ نے عورت کو مرد سے زیادہ عزت اور مقام دیا ھے حتیٰ کہ وہ عورت ہی ھے جس کے قدموں کے نیچے جنت رکھی گئی ھے اور وہ عورت ہی ھے جن کی بہترین ایمان والی پرورش سے جنت کا وعدہ کیا گیا ھے اور عورت کی عظمت اور حقوق کیلئے رب العزت نے مکمل ایک سورة "سورة النساء” بھی قرآن پاک میں رکھی ھے تاکہ ہم عورتوں کے متعلق عدل و انصاف، عزت و محبت سے پیش آنے کے پابند رہ سکیں۔۔۔۔ معزز قارئین!! آج میں اپنے کالم کو عورت کے حوالہ سے پیش کررھا ھوں، ایک عورت ہمارے پاکستانی معاشرے میں کس طرح سے دیکھتی ھے، عورت کی ہی زبانی ملاحظہ فرمائیں۔۔۔۔ ہم عورتوں کے بھی عجیب مسائل ہیں جیسے ہی سنِ شباب کو پہنچتی ہیں کسی نہ کسی کو ہم سے محبت ہوجاتی ہے. مارکیٹ چلے جائیں تو سیلزمین کو دل کش اور سریلی لگتی ہیں۔ اسکول چلے جائیں تو راستے میں ہر ایرے غیرے نتھو خیرے کو ہم سے محبت ہوجاتی ہے۔ کالج جانے لگیں تو اپنے ہی کزن کو ہم مادھوری دکشت لگنے لگتی ہیں۔یونیورسٹی میں قدم رکھیں تو کسی

پروفیسر کو ہم پریاں لگنے لگتی ہیں. کسی ادارے میں جاب کے سلسلے میں جائیں تو وہاں کے کسی اسٹاف ممبر کو ہم سے الفت ہوجاتی ہے۔ آفس سنبھالیں تو مینجر کو ہم اپسرا لگنے لگتی ہیں۔ سسرال میں جائیں تو کسی سسرالی رشتہ دار کو ہم میں کسی ماہ رخ کا عکس نظر آنے لگتا ہے۔ الگ گھر لے لیں تو پڑوسی کو ہم کسی حور سے کم نظر نہیں آتیں۔ بازار میں نکلیں تو لونڈے لفنگے اپنی بے سری تال میں ہمیں ایسے خراجِ تحسین پیش کرنے لگتے ہیں جیسے دھرتی پر ہم نے پہلی بار قدم رکھا ہو. کہیں گھومنے پھرنے چلے جائیں تو ماشاءاللہ۔ سبحان اللہ جیسی تسبیحات با آوازِ بلند ہونے لگتی ہیں۔ غرض کہ ہم کہیں بھی ہوں ہر سو محبت، ہول، سیل اور کبھی کبھی تو درباری لنگر کے حساب سے مل رہی ہوتی ہے مگر ایک وہ شخص ہے کہ جس تک ہم بچ بچا کر نکاح کے عوض ملتے ہیں اور ان سے خدائی ناطے محبت ہوجاتی ہے۔ اسی شخص کو ہم میں کوئ خوبی نظر نہیں آتی اور ساری زندگی خود کو مٹانے، کوسنے اور تبدیل کرنے میں گزر جاتی ہے۔۔۔۔معزز قارئین!! افسوس کہ ھم خود کو رب العزت سے بڑھ کر سمجھنے لگے ہیں یہی وجہ ھے کہ ھم دین کی سمجھ اور دینی تربیت سے دور ھونے کے سبب ایک بدترین انسان بن چکے ہیں، اب ہم میں نہ انسانیت باقی رہی اور نہ ہی اخلاق حسنہ ہمارے ذہن کی پرگندگی نے پورے جسم کو بدبودار کردیا ھے یہی سبب ھے ہمارا فعل خلاف شریعت اور خلاف احکام خداوندی پایا جاتا ھے۔ من حیث القوم ہم پاکستانیوں کو پلٹنا ہوگا اپنے والدین اور بزرگوں کے رہن سہن اخلاق و کردار کی جانب جہاں دنیا پرستی کے بجائے دین پرستی سے مزین ہوتی تھی جہاں سکون امن و امان ادب و احترام بھائی چارگی ایثار و قربانی احساس و کیفیات پائی جاتی تھیں جو سنت محمدی ﷺ کو اپنائے ہوئے تھے اور تمام خرافات و حرام کام سے دور تھے۔ دعا ھے اللہ ہم سب پاکستانی قوم کو بھی سنت رسول ﷺ کی اطاعت گزار بنادے آمین