تحریر: محمد انور بھٹی
بندن میاں ہنستے ہوئے کہتے ہیں ریل کی پٹری کوئی سیدھی لکیر نہیں رہی، یہ تو اب قبر کی لکیر ہے، جس پر وزیروں کے دعوے، افسروں کی فائلیں اور یونین لیڈروں کی خوشامد سب مل کر اجتماعی جنازہ پڑھتے ہیں۔
وزیر ریلوے اپنی حکومت کی مدت پوری کر کے بڑے وقار کے ساتھ رخصت ہو جائے گا، جاتے وقت اپنی الوداعی تقریر میں یہ دعویٰ کرے گا کہ ہم نے ریلوے کو ترقی کی راہ پر ڈال دیا ہے، باقی کام آنے والے کریں گے، اخبارات اس تقریر کو شہ سرخیوں کے ساتھ شائع کریں گے، ٹی وی چینلز پر ٹکر چلیں گے، سوشل میڈیا پر تعریفوں کے پل باندھے جائیں گے اور عوام تالیاں بجائیں گے جیسے یہ ٹوٹے پھوٹے ڈبے اور چیختی چلاتی پٹریاں واقعی کسی دن تیز رفتار ریل میں بدل جائیں گی، لیکن بندن میاں اپنی مخصوص ہنسی ہنس کر سوال کرتے ہیں کہ بھائیو یہ ترقی کی راہ ہے یا جنازے کا جلوس، یہ پٹری ہے یا قبر کی لکیر، اور سب سے بڑھ کر اس بربادی کا اصل ذمہ دار کون ہے۔ وزیر کو ہم صرف مسافر کہہ کر بری الذمہ نہیں کر سکتے، اس کے ہاتھ میں پالیسی کا قلم ہے، اس کے پاس بجٹ کے خزانوں کی چابی ہے، مگر وہ ان وسائل کو ادارے کی اصلاح پر لگانے کے بجائے الٹے سیدھے منصوبوں پر جھونک دیتا ہے۔ کبھی کسی نئی ٹرین کا اعلان جس کے لیے نہ انجن ہے نہ پٹری، کبھی کسی نان پرفارمنگ معاہدے پر دستخط جو صرف اخباری بیانات میں زندہ رہتا ہے، کبھی کسی غیر پیداواری منصوبے کا افتتاح، کبھی کسی رنگین تختی کی نقاب کشائی، بجٹ کی پوری جیب انہی کاغذی کارخانوں میں جھونک کر وزیر صاحب بگل بجاتے ہوئے روانہ ہو جاتے ہیں جیسے کوئی عظیم فتح حاصل کر لی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ وزیر بھی اس جرم میں برابر کا شریک ہے، وہ ادارے کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے نئی نمائش کے زخم لگا کر چل دیتا ہے، اور جاتے وقت تالیاں بجوا کر اگلے وزیر کے لیے میدان صاف کر دیتا ہے۔ بندن میاں ہنستے ہوئے کہتے ہیں کہ وزیر بس ریل کی لاش پر نیا کفن ڈال دیتا ہے تاکہ بوسیدہ بدن کا تعفن چھپ جائے۔
اصل ڈرائیور تو وہ افسران ہیں جن کے قلم سے فیصلے نکلتے ہیں اور جن کی فائلوں میں ریلوے کی زندگی اور موت لکھی جاتی ہے، یہی وہ افسران ہیں جو ہر آنے والے وزیر کے آگے یس سر کے ترانے گاتے ہیں، ان کے لیے ہر وزیر دیدہ ور اور ہر پالیسی انقلابی ہوتی ہے، وہ حقیقت پر پردہ ڈالنے کے ماہر ہیں، زنگ آلود پٹریوں کو بھی کامیابی کا جشن بنا دیتے ہیں اور کھٹارا بوگیوں کو بھی جدید سہولت قرار دیتے ہیں، ان کی کرسی سلامت رہے تو ادارہ چاہے کھنڈر میں بدل جائے کوئی پرواہ نہیں۔ ان افسروں کے کیلنڈر میں اصلاحات کا دن کبھی نہیں آتا، سب سے زیادہ جگہ ویلکم پارٹی اور الوداعی عشائیے نے گھیر رکھی ہے، کل فلاں افسر ریٹائر ہو رہا ہے، پھولوں کی پتیاں نچھاور ہوں گی، پرسوں نیا افسر آ رہا ہے، ڈھول باجے بجیں گے، ادھر مزدور کی تنخواہ مہینوں تاخیر کا شکار ہے، کسی ریٹائرڈ ملازم کی بیوہ پنشن کے لیے دفتروں کے دھکے کھا رہی ہے، کسی کلرک کی بیٹی کے جہیز کے پیسے فائلوں میں اٹکے پڑے ہیں، لیکن یہ افسران ان سب سے بے نیاز اپنی کرسی کے تقدس میں مست ہیں، ان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ سر کو تاج پہنایا جائے یا ہار کافی ہے۔
اب ذرا یونین لیڈروں پر بھی نظر ڈال لیجیے جو بظاہر مزدوروں کی زبان ہیں لیکن حقیقت میں یہ زبان مزدور کے دکھ پر نہیں، افسر کے حکم پر چلتی ہے۔ مزدور جب سراپا احتجاج ہوتا ہے تو یہ لیڈر ڈھارس بندھاتے ہیں بھائیو گھبرانا نہیں سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا، لیکن جب کسی مزدور کی چھت گرنے سے جان چلی جائے، جب کسی ملازم کی بیوہ بچوں کے ساتھ پنشن کے لیے دھکے کھا کھا کر بے حال ہو جائے، تب یہ لیڈر صرف فوٹو سیشن کے لیے آتے ہیں، اخباری بیانات دیتے ہیں، تصویریں سوشل میڈیا پر ڈالتے ہیں اور پھر غائب، ہسپتالوں میں دوائی نہ ملنے پر مزدور تڑپتا ہے، حادثے میں معذور کارکن وہیل چیئر پر بیٹھا انصاف مانگتا ہے لیکن ان لیڈروں کی زبان بند رہتی ہے۔ البتہ جب کسی افسر کے استقبال کا وقت آتا ہے تو یہی لیڈر سب سے آگے پھولوں کے ہار اور گلدستے لیے قطار میں کھڑے ہوتے ہیں، بندن میاں کہتے ہیں یہ لیڈر مزدور کے حق کے لیے نہیں جیتے بلکہ افسر کے شامیانے میں کرسی کے لیے زندہ ہیں۔
وزیر رخصت ہو جائے گا، افسر اپنی فائلوں میں کامیابیوں کی جلدیں بند کر دیں گے، یونین لیڈر مزدور کو پھر نیا خواب دکھائیں گے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ریلوے کی پٹریاں زنگ آلود ہی رہیں گی، کوچز بدستور چیختی چلائیں گی، تنخواہیں تاخیر کا شکار رہیں گی اور ریٹائرڈ لوگ دربدر کی ٹھوکریں کھاتے رہیں گے۔ بندن میاں کا کہنا ہے کہ وزیر تو آتا ہے اور چلا جاتا ہے، اصل قبر کھودنے والے یہ افسران اور خاموش تماشائی لیڈر ہیں، مگر سوال یہ بھی ہے کہ ہم سب کہاں کھڑے ہیں، ہم سب بھی تو اسی بھیڑ چال کا حصہ ہیں، کبھی نعرے لگا کر، کبھی کندھوں پر بٹھا کر، کبھی برائی جانتے بوجھتے ہوئے بھی تالیاں بجا کر۔ ہم سب اپنی اپنی جگہ فرعون بن جاتے ہیں، کسی کی ترقی ذاتی عناد میں رکواتے ہیں، کسی کی پوسٹنگ ایسے مقام پر کر دیتے ہیں جہاں نہ اسکول ہے نہ علاج، طاقت کے نشے میں بدمست ہاتھی کی طرح کمزوروں کو لتاڑتے ہیں تاکہ وہ بول نہ سکیں، حقیقت یہ ہے کہ ہم سب ریل کے اس قتل میں برابر کے شریک ہیں۔
ریل آج بھی چیخ رہی ہے کہ میں کس کے ہاتھوں پہ اپنا لہو تلاش کروں، وزیروں کے ہاتھ عارضی ہیں وہ آتے ہیں چلے جاتے ہیں، اصل مجرم وہ افسران ہیں جو تیس پینتیس سال ادارے میں بیٹھ کر اسے دیمک کی طرح چاٹتے رہے، اور وہ عوام بھی شریک جرم ہیں جو جانتے بوجھتے ہوئے ان کے پیچھے چلتے ہیں، خوشامد کرتے ہیں اور زندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں۔ بندن میاں کا آخری طنز یہ ہے کہ ہم سب کے چہرے آئینے کے سامنے ہیں مگر آئینہ دیکھنے سے کتراتے ہیں، ہم سب کے ہاتھ اس خون سے رنگے ہیں مگر ہم تالیاں بجا کر سمجھتے ہیں کہ حساب ختم ہو گیا۔ دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی، ایک طرف افسران اور لیڈر ادارے کو لوٹ رہے ہیں، دوسری طرف ہم عوام اپنی بے حسی اور بھیڑ چال سے اس آگ کو ہوا دے رہے ہیں، ساجد نے خوب کہا کہ وہ لوٹتے رہے میرے قرار کو، میں بے قراریوں کے مزے لوٹتا رہا، اور ریل بھی یہی کہنے پر مجبور ہے کہ میری لاش پر جشن منانے والو تم سب ذمہ دار ہو، وزیر ہو، افسر ہو، لیڈر ہو یا عام آدمی، سب نے اپنا حصہ ڈالا ہے اور میرا قتل اجتماعی ہے۔
بندن میاں ٹھنڈی آہ بھرتے ہیں اور کہتے ہیں ،یہ ریل صرف پٹریوں پر نہیں مرتی، یہ تو ہمارے ضمیر پر مر رہی ہے۔ وزیر صاحب جاتے جاتے تالیاں بجوا کر نکل جاتے ہیں، افسر اپنی فائلوں میں کامیابیوں کے قصے سجا دیتے ہیں، یونین لیڈر مزدور کو پھر کوئی نیا خواب دکھا دیتے ہیں اور ہم سب تماشائی بن کر مطمئن ہو جاتے ہیں کہ شاید یہ ادارہ بچ جائے گا۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ ریل کا قتل کسی ایک وزیر یا کسی ایک افسر کا جرم نہیں، یہ اجتماعی بددیانتی اور بے حسی کا جنازہ ہے۔ ہم سب اس خون کے داغدار ہیں، چاہے ہم مانیں یا نہ مانیں۔ ریل کی چیخ آج بھی سنائی دے رہی ہے کہ میرے قاتل وہی ہیں جو میرے محافظ کہلائے، اور میرے خاموش تماشائی وہ ہیں جو میرے جنازے پر تالیاں بجا رہے ہیں۔





