تحریر: ڈاکٹر تصور حسین مرزا
اسلام آباد، جو ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ کا دل اور مرکز ہے، وہاں حالیہ دنوں میں پیش آنے والے دو واقعات نے نہ صرف عوام بلکہ دینی اور سماجی حلقوں کو بھی شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک طرف ایک مسجد کو راتوں رات شہید کر دیا گیا، اور دوسری طرف چار ہوٹلوں کو شراب فروخت کرنے کی باضابطہ اجازت دے دی گئی۔ یہ دونوں اقدامات بظاہر دو الگ معاملات ہیں، مگر حقیقت میں یہ ریاستی پالیسیوں اور اقدار کے حوالے سے ایک ہی سوال پیدا کرتے ہیں — کیا ہم واقعی آئین اور اسلامی اصولوں کے مطابق چل رہے ہیں؟
آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 2 میں واضح ہے کہ ’’اسلام ریاست کا مذہب ہوگا‘‘ اور تمام قوانین قرآن و سنت کے مطابق بنائے جائیں گے۔ آرٹیکل 20 ہر شہری کو مذہبی آزادی دیتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اجتماعی مذہبی شعائر کی حفاظت بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ مسجد کی شہادت اس آئینی عہد سے انحراف کے مترادف ہے۔ مسجد صرف اینٹ اور پتھر کی عمارت نہیں بلکہ ایمان، اتحاد اور اسلامی تشخص کی علامت ہے۔ قرآن میں فرمایا گیا: "اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اللہ کی مسجدوں کو اس میں اللہ کا نام لینے سے روکے اور انہیں ویران کرنے کی کوشش کرے” (سورۃ البقرۃ: 114)۔ اسلامی تاریخ میں، حتیٰ کہ جنگوں میں بھی مساجد کو نقصان پہنچانے سے گریز کیا گیا۔ اس لیے ایک پرامن شہری علاقے میں مسجد کو اس طرح شہید کرنا کسی صورت بھی قابلِ قبول نہیں۔
اگر حکومتی مؤقف درست ہے کہ مسجد کی زمین خریدی نہیں گئی بلکہ کسی کی ملکیت پر قبضہ کیا گیا تھا، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ قبضہ کب اور کیسے ہوا؟ مسجد راتوں رات تعمیر نہیں ہو جاتی۔ برسوں تک اس کی تعمیر اور فعالیت جاری رہی، اور مقامی انتظامیہ و کمیونٹی کی آنکھوں کے سامنے سب ہوتا رہا۔ جب کسی بھی جگہ پر مسجد تعمیر ہو تو ضروری ہے کہ اس کا انتقال یا رجسٹری باقاعدہ مسجد کے نام ہو، تاکہ بعد میں تنازع پیدا نہ ہو۔ اگر یہ قانونی تقاضے پورے نہ کیے جائیں تو یہ غفلت مسجد انتظامیہ اور مقامی ذمہ داران دونوں پر عائد ہوتی ہے۔ لیکن پھر بھی، یہ بات طے ہے کہ راتوں رات بلڈوزر چلا دینا حل نہیں۔ شریعت اور قانون دونوں یہی کہتے ہیں کہ مکمل عدالتی کارروائی کی جائے، شواہد پیش کیے جائیں اور فریقین کو سنا جائے۔ صرف مسجد کے خلاف نہیں بلکہ ان افراد کے خلاف بھی ایکشن ہونا چاہیے جنہوں نے برسوں تک اس معاملے میں آنکھیں بند رکھیں۔ اگر گھر گرانے ہیں تو پھر ایسے غفلت کے مرتکب افراد کے بھی گرائے جائیں جو اپنی ذمہ داریوں سے غافل رہے۔
دوسری جانب چار بڑے ہوٹلوں کو شراب فروخت کرنے کی اجازت دینا نہ صرف شرعی احکام بلکہ ملکی قوانین کے بھی خلاف ہے۔ پاکستان پینل کوڈ اور حدود آرڈیننس کے تحت مسلمانوں کے لیے شراب کی فروخت و استعمال ممنوع ہے، صرف غیر مسلم شہری اپنی مذہبی ضرورت کے لیے مخصوص اجازت لے سکتے ہیں۔ شراب نوشی کے نقصانات صرف مذہبی پہلو تک محدود نہیں، بلکہ عالمی ادارۂ صحت کی رپورٹس کے مطابق شراب جرائم، حادثات اور گھریلو تشدد کا بنیادی سبب ہے۔ اس اجازت نامے سے معاشرتی بگاڑ کو فروغ ملے گا اور یہ ریاست کے دوہرے معیار کی واضح مثال ہے۔
ایک طرف عبادت گاہ کو گرانا اور دوسری طرف شراب کے کاروبار کو فروغ دینا، عوام میں یہ تاثر پیدا کرتا ہے کہ ریاست اپنے ہی نظریاتی اصولوں پر عمل پیرا نہیں۔ ایسے اقدامات ملک کی بین الاقوامی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں اور عوامی اعتماد کو متزلزل کرتے ہیں۔
مسجد شہید کرنے کے واقعے کی آزادانہ عدالتی تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داران کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ آئندہ مساجد کی تعمیر سے قبل زمین کی ملکیت اور قانونی کاغذات مکمل کرانا لازمی قرار دیا جائے۔ شراب کے لائسنس کے اجرا کے قوانین پر نظرثانی کر کے شفافیت اور پابندی کو یقینی بنایا جائے۔ مذہبی اور اخلاقی معاملات پر ریاست دوہرا معیار ترک کرے تاکہ عوامی اعتماد بحال ہو۔
اسلام آباد میں مسجد کی شہادت اور شراب کی اجازت جیسے اقدامات ہماری اجتماعی سوچ، پالیسیوں اور نظریاتی بنیادوں پر سوالیہ نشان ہیں۔ اگر ہم پاکستان کو واقعی ایک اسلامی فلاحی ریاست دیکھنا چاہتے ہیں تو قانون، شریعت اور عوامی جذبات کو یکساں اہمیت دینا ہوگی۔ بصورتِ دیگر یہ تضاد اور بے حسی ہمارے معاشرتی و ریاستی ڈھانچے کو کمزور کر دے گی۔





