تحریر: محمد عارف خان (ایم اے اردو، بی ایڈ) کھاریاں
پاکستان اس وقت سنگین بحرانوں سے دوچار ہے۔ دہشت گردی، لسانی اور فرقہ وارانہ فسادات، باہمی نفرت اور سیاسی انتشار نے ملک کے استحکام کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ حکمران اور اسٹیبلشمنٹ اس مسئلے کو طاقت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن اسلامی اصولوں کی روشنی میں اس کا دیرپا اور پرامن حل ممکن ہے بس شرط صرف یہ ہے تمام اسٹیک ہولڈرز نیک نیتی، حب الوطنی اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر یک بیانیہ کو اپنا لیں۔
اسلامی طرز حکمرانی اور قرآن و سنت میں ایسے اصول موجود ہیں جو ریاستی استحکام، سماجی انصاف اور بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی کو یقینی بنا سکتے ہیں۔
اسلامی طرزِ حکمرانی میں عدل و انصاف سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ جب کسی قوم میں عدل ختم ہو جاتا ہے تو وہاں فساد، ظلم اور انتقام کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔
إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ ۚ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (النحل)
بے شک اللہ تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برائی اور سرکشی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق حاصل کرو۔
تمام شہریوں کے ساتھ مساوی سلوک کیا جائے۔
ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور ریاستی جبر کو روکا جائے۔
پولیس اور عدلیہ کے نظام میں اصلاحات لائی جائیں تاکہ ہر شخص کو انصاف ملے۔
اسلام میں رنگ، نسل اور فرقہ واریت کی کوئی گنجائش نہیں۔ سب انسان برابر ہیں اور برتری کا معیار صرف تقویٰ ہے۔
يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ (الحجرات)
اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قوموں اور قبائل میں تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔
تمام مذاہب، مسالک اور قومیتوں کے درمیان مساوات قائم کی جائے۔
ریاستی اور غیر ریاستی سطح پر نفرت انگیز تقاریر پر پابندی عائد کی جائے۔
تعلیمی نصاب میں رواداری، ہم آہنگی اور بین المذاہب احترام کو فروغ دیا جائے۔
اسلام میں قتل و غارت اور بدامنی پھیلانے کی سخت ممانعت ہے۔
مَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا ۚ وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا (المائدہ)
جس نے کسی کو ناحق قتل کیا تو گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا اور جس نے کسی ایک جان کو بچایا تو گویا اس نے پوری انسانیت کو بچایا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔(بخاری)
دہشت گردی کے خلاف ریاست طاقت کے بجائے اصلاحی اور پرامن پالیسی اپنائے۔
مسلح گروہوں کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں اور انہیں قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے مواقع فراہم کیے جائیں۔
تعلیم، روزگار اور سماجی ترقی کے مواقع پیدا کیے جائیں تاکہ نوجوان دہشت گرد تنظیموں کا شکار نہ بنیں
اسلامی حکمرانی کا بہترین نمونہ نبی کریم ﷺ کی سیرت میں موجود ہے۔ آپ ﷺ نے ہمیشہ رحم، انصاف، مشاورت اور فلاحی اقدامات کو ترجیح دی۔
"وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ ۖ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ (آل عمران)
اور (اے نبی!) معاملات میں ان سے مشورہ کریں پھر جب فیصلہ کر لیں تو اللہ پر بھروسہ کریں بے شک اللہ بھروسہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
جبر اور زبردستی کی پالیسی ترک کر کے مصالحت اور مشاورت کو فروغ دیا جائے۔
عوامی فلاح و بہبود پر توجہ دی جائے جیسے حضرت عمرؓ کے دور میں بیت المال کا نظام تھا۔
حکومتی فیصلوں میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور عوامی نمائندوں کو شامل کیا جائے۔
جہالت، غربت اور بے روزگاری حقیقت میں دہشت گردی اور فسادات کی سب سے بڑی وجوہات ہیں۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق، تعلیم اور معاشی ترقی کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔
علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔ (ابن ماجہ)
تعلیم کے لیے حکومتی بجٹ میں اضافہ کیا جائے اور دینی و دنیاوی تعلیم کو یکجا کیا جائے۔
بے روزگاری کے خاتمے کے لیے نوجوانوں کو اسکل ڈیولپمنٹ اور کاروباری مواقع فراہم کیے جائیں۔
غربت کے خاتمے کے لیے زکوۃ، صدقات اور اسلامی فلاحی ماڈلز کو عملی جامہ پہنایا جائے۔
پاکستان میں جاری دہشت گردی، نفرت، فسادات اور سیاسی انتشار کا طاقت کے ذریعے مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہے اس کے لیے اسلامی عدل، رواداری اور فلاحی اصولوں کو اپنانا ہوگا۔ قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے انصاف، تعلیم، معیشت اور بین المسالک ہم آہنگی پر توجہ دی جائے تو ایک پرامن، مستحکم اور ترقی یافتہ پاکستان کی بنیاد رکھی جا سکتی





