کالمکار: جاوید صدیقی
اردو زبان شہرہ افق پر آج بھی چھائی ہوئی ھے۔ پاکستان ، ہندوستان، ہنگلہ دیش سمیت کئی ایشیائی، یورپی افریکی اور امریکہ و کینڈا میں اردو زبان کو خاص نہ صرف اہمیت حاصل ھے بلکہ بولی سمجھی اور معاشرے میں استعمال ہونے والی زبان بھی ھے کیونکہ پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے روابط کیلئے اردو زبان کا ہی استعمال کرتے ہیں۔ موجودہ ترقیاتی دور میں بین الاقوامی سطح پر پرنٹ و الیکٹرونک میڈیا کے علاوہ سوشل میڈیا میں اردو زبان ہر سو چھائی ہوئی ھے لیکن حیرت و تعجب اور افسوس کا مقام ھے کہ پاکستان کی قومی و سرکاری زبان ہونے کے باوجود سر زمین پاکستان میں اردو زبان کیساتھ جو زیادتی و ظلم اور حق تلفی کی جاتی رہی ھے یہ خود ریاست پاکستان اور آئین پاکستان کی تذلیل سے کم نہیں۔ بی بی سی اردو ہو یا وائس آف امریکہ اردو یا پھر وائس آف جرمنی اردو یا پھر الجزیرہ اردو گوکہ دنیا بھر میں سامعین و ناظرین اور قارئین اردو زبان کے ہر سو نظر آتے ہیں۔۔۔۔ معزز قارئین!! گنگا جمنی تہذیب ایک ثقافتی اصطلاح ہے جو برصغیر، خصوصاً شمالی ہندوستان میں ہندو مسلم اشتراک و اختلاط سے پیدا ہونے والی مشترکہ تہذیب کو بیان کرتی ہے۔ یہ تہذیب بنیادی طور پر مغلیہ دور اور بعد کے زمانوں میں پروان چڑھی، جہاں ہندو اور مسلمان معاشرتی، ثقافتی، لسانی اور ادبی سطح پر ایک دوسرے سے متاثر ہوتے رہے۔ اردو زبان اسی تہذیب کی نمایاں مثال ہے، جس میں فارسی، عربی، ترکی اور مقامی ہندوستانی زبانوں کا امتزاج پایا جاتا ہے۔ صوفی اور بھکتی تحریکوں نے اس تہذیب کو مزید مضبوط کیا، جہاں ہندو بھگتوں اور مسلمان صوفیوں نے محبت، رواداری اور ہم آہنگی کا درس دیا۔ ہندو اور مسلم طرزِ زندگی میں ایک دوسرے کے رنگ نمایاں نظر آتے ہیں، جیسے کہ لباس، زیورات، اور طعام کے انداز۔ خاص مواقع پر مشترکہ تہواروں اور رسومات میں شرکت، جیسے ہولی، دیوالی، عید اور بقرعید میں ایک دوسرے کی شمولیت۔ ہندوستانی کلاسیکی موسیقی میں مسلمان اور ہندو موسیقاروں کا یکساں کردار رہا، جیسے تان سین اور بیجو باورا۔ قوالی اور بھجن کی موسیقی میں کئی مشترکہ عناصر موجود ہیں۔ مغلیہ طرزِ تعمیر میں ہندو راجپوت اور اسلامی فنِ تعمیر کا امتزاج دیکھا جاسکتا ہے، جیسے تاج محل، فتح پور سیکری، اور دیگر تاریخی عمارات۔ گنگا جمنی تہذیب کی روح باہمی احترام اور مذہبی رواداری پر مبنی تھی، جہاں مختلف مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کے عقائد کا احترام کرتے اور مل جل کر رہتے تھے۔ یہ تہذیب کسی ایک مذہب کی ملکیت نہیں بلکہ یہ برصغیر کی مشترکہ تاریخ اور ثقافتی شناخت کا حصہ ہے۔ تاہم، جدید دور میں بعض اوقات سیاسی اور سماجی تنازعات کے سبب اس روایتی ہم آہنگی کو چیلنجز کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔۔۔۔ معزز قارئین!! ہندوستان کی تہذیب کے اثرات سندھ سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں میں آج بھی آثار نظر آتے ہیں، جہاں تک شعر و شاعری میں پائے کے شعراء نے اردو کو جلا بخشی، معزز قارئین!! بین الاقوامی شہرت یافتہ معروف زبان اردو کو نہ تو ختم کیا جاسکتا ھے اور نہ ہی مٹایا جاسکتا ھے یہ کوشش پاکستان بننے کے بعد ہندوستان کی حکومت نے ہندوستان سے اردو کا خاتمہ کرنا چاہا لیکن ناکام و نامراد ٹہرے دوسری جانب جب پاکستان بنا تو قائداعظم محمد علی جناح نے پاکستان کی قومی زبان کو قرار دیا اور جب پاکستان کا آئین بنا تو اس میں اردو کو قومی و سرکاری زبان قرار دیا گیا لیکن آج تک عملدرآمد نہ ہوسکا، یہ پاکستان اور ریاست کی بدقسمتی ھے کہ وہ چند اہم شخصیات کی خواہش کے طابع رھے جو اردو,زبان سے نفرت انگیز جذبات رکھتے تھے۔ یاد رھے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے بار ہا بار اس بابت سختی سے احکامات بھی جاری کئے کہ اردو زبان کو قومی اور سرکاری سطح پر اپنایا جائے یہ درست ھے کہ پاکستانی قوم اردو کو اپناتی ھے مگر سرکاری سطح پر ابتک سستی و کاہلی اور عدم توجہگی کے سبب سپریم کورٹ کے احکامات کو غیر سنجیدگی کی نظر کردیا جاتا رھا ھے۔ اردو کی ایک تاریخ تہذیب رسم الخط اور پیغام رسانی کیساتھ ساتھ روابط کا بہت خوبصورت سلیقہ کرینہ اور انداز پنہا ھے جو بہت اعزاز اور فخریہ بات بھی ھے۔




