جولائی 12, 2026

حکومت کے کرنے کے کام ۔۔۔۔ کفالت نہیں خود انحصاری کی ترغیب

تحریر: قاضی محمد فضلِ عثمان

شروع دن سے میرا معمول رہا ہے کہ مجھے اخبارات ، جرائید اور کتب کے مطالعہ کا شوق ہے ۔ گزشتہ دنوں محترم رعایت اللہ فاروقی کا ایک آرٹیکل نظر سے گزرا جس میں انہوں نے اس عنوان ،کفالت نہیں خود انحصاری،پر بہت خوبصورت مواد پیش کیا ۔ کافی عرصے سے کچھ باتیں میری ذہن میں بھی ہیں، انہیں الفاظ کی شکل میں پیش کرنے میں کوئی نہ کوئی رکاوٹ سامنے آجاتی رہی ہے ، اب یہ مضمون پڑھا تو سوچا کہ یہ کام آج ہی کیا جانا چاہیئے۔
کتنے خود دار تھے کٹ کر نہ گرے قدموں پر ۔۔۔جتنے سر آپ نے نیزوں پہ اچھالے ہوں گے
کئی بار دوستوں سے اور دیگر ارباب اختیار کی مجالس میں جب کسی صاحب اقتدار سے سامنا ہو تو ہمیشہ میرا مطمع نظر کوئی عوامی فلاح کا موضوع ہی ہوتا ہے ، ان سے بات کی جاتی ہے اور عوامی فلاح کے منصوبوں سے متعلق تجاویز دی جاتی ہیں ۔اگر وہ موقع فراہم کریں تو ۔ لیکن ماننا یا نہ ماننا یہ ان کا اختیار ہے ۔ہمارے پاس قوت نافذہ نہیں ہے ۔
امیر شہر کی مدحت نہ لکھی جائےگی ہم سے ۔۔۔کہ جو خود دار ہیں کار درباری نہیں کرتے
کافی عرصہ پہلے جنرل مشرف کے دور اقتدار میں جب ناظمین وغیرہ بنائے گئے تو اس وقت میرے ایک عزیز دوست میاں خالد رفیق صاحب بھی ناظم منتخب ہوئے ، ان سے بات ہوتی تو یہی مسائل ڈسکس ہوتے ، وہ نوجوان وکیل کی حیثیت سے ناظمین کے اجلاس میں معقول تجاویز دیتے اور مثبت طریقے سے بات کرکے گجرات ضلع ہسپتالوں کے لیے فنڈ کی منظوری میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا ۔دلانوالہ میں ایک بہترین پبلک ہیلتھ یونٹ اس دور کی یادگار ہے ۔اس کے علاوہ مزید کئی منصوبے مثلا پختہ کھالیں ، زرعی زمین تک سڑک یا پکا رستہ اس دور کی یادگار ہیں اسی بات کو لیکر میرا یہ موقف رہا ہے کہ ہیلتھ کارڈ یا کسی بھی صحت کے متعلق عوام کو اگر ریلیف دینا مقصودہوتو بجائے اپنے نام کی تختی لگانے کے یا نئے منصوبے شروع کرنے کے اس علاقے میں موجود پبلک ہیلتھ یونٹ کو فعال کیا جائے ،
کیا معلوم کسی کی مشکل ۔۔۔خود داری ہے یا خود بینی
اپنے ہوش سنبھالتے ہی میں نے خود دیکھا ہے جب ہمارے گاؤں کے ہسپتال کی خوبصورت عمارت تھی ، پورا عملہ موجود تھا اور دوائی بھی ملتی تھی بالکل معمولی فیس کے عوض ، اور اس دوائی سے افاقہ بھی ہوجاتا تھا ، اب کرنے کا کام یہ ہے کہ مقامی ہسپتالوں کو فعال کیا جائے ، داکٹرز کو وہاں ڈیوٹی دینے کی طرف راغب کرنے کے لیے پر کشش پیکیج دیا جائے ، تاکہ وہ فقروفاقہ سے بے نیاز ہوکر اصلی اور حقیقی معنوں میں خدمت خلق کرسکیں۔ یہ کوئی اتنا مشکل کام نہیں خودانحصاری اور خود کفالت کے بل پر چیلیانوالہ میں میرے ایک عزیز دوست نوجوان ڈاکٹر رائے سرفرازکھرل صاحب نے ابھی ماضی قریب میں بڑی کامیابی سے اس ہسپتال کو چلایا ہے ۔ وہاں لوگوں کو مکمل سہولیات کے لیےعوامی علاج اورتوجہ سے ان کی داد رسی ہوتے میں نے خود دیکھ رکھی ہے
تلاش رزق کا یہ مرحلہ عجب ہے کہ ہم ۔۔۔گھرون سے دور بھی گھر کے لیے بسے ہوئے ہیں
اسی طرح بے روزگاری اور یتیموں اور بیواؤں کی کفالت کے لیے بجائے اس کے کہ ان سے درخواستیں لی جائیں ، ان کو در بدر خوار کرنے کے بعد اپنے پارٹی کارکنوں کو نوازا جائے ، اس مقصد کے لیے نادرا میں ایک شعبہ قائم کیا جائے جو صرف ایسے لوگوں کی معلومات اکٹھی کرے جو حقیقی معنوں میں مستحق ہیں ، ساری معلومات نادرا کی پاک آئی ڈی میں دستیاب ہیں ۔ بجائے مستحقین کو دردبدر پھرانے کے ان کی دہلیز پر معلومات کے مطابق خدمات پہنچائی جائیں ، انہیں چھوٹے مناسب کاروبار کی ترغیب دی جائے ، اور ساتھ ساتھ اس بات پہ راغب کیا جائے کہ وہ اپنے پاؤں پہ کھڑے ہوں ۔
یہ کوئی بہت بڑا کام نہیں ہے ، پاکستان میں موجود کچھ شخصیات اور ادارے نام ونمود کی نمائش کی پرواہ نہ کرتے ہوئے کام کررہے ہیں ۔ اور بڑے کامیابی سے مخلوق خدا کو فائدہ پہنچارہے ہیں ۔ ان کے اس کام کو بین الاقوامی فورم پہ سرہا بھی جارہا ہے ، غور کریں اگر کچھ لوگ اور تنظیمیں یہ کام کرسکتی ہیں تو حکومت تو بطریق اولی یہ کام کرسکی ہے ۔ کیونکہ کئی ایسے فنڈ ہیں جو خرچ ہی نہیں ہوتے اور ضائع ہوجاتے ہیں ۔
مزید برآں دور دراز دیہات میں ذرائع نقل وحمل کو بہتر کرنا ، عوامی وسائیل کے بہتر استعمال کے لیے لوگوں کو سہولت فراہم کرنا یہ بھی حکومت کی ذمہ داری ہے ، اگر اسے بین الاقوامی معاملات میں اپنے کردار سے فرصت ہوتو ۔اور ان مسائل کے حل کے لیے مخلصانہ کوشش کی جائے تو کسی تحریک کی ضرورت نہیں پڑے گی ، عوام میں مایوسی کا خاتمہ ہوگا معاملات بہتری کی طرف جائیں گے ۔ ایسی قانون سازی کی جائے کہ عوامی فلاح اور مفاد کے معاملات میں رکاوٹ ڈالنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے اور حکومت کی تبدیلی کے ساتھ یہ منصوبے ختم نہ ہوں ۔ اگر پارلیمنٹ کے ممبران بلیو پاسپورٹ والے معاملات سے فارغ ہوجائیں تو انہیں بصد احترام یہ گزارشات کی جائیں ۔جب نیک نیتی سے کوشش کی جائے گی تو ان شاءاللہ معاملات میں بہتری آئے گی مختلف منصوبے شروع کرنا اور پارٹی پروجیکشن کے لیے ان کے نام رکھنا ، پھر ان کے نام پہ کرپشن کا بازار گرم کرنا یہ سلسلہ اب رکنا چاہیے ۔ مشکل تو بہت ہے لیکن یہ بہت ضروری ہے ۔ اگر معاملات کو حل نہ کیا گیا تو جیسے کشمیر میں تحریک اٹھی ہے ، اس سے بڑی تحریک اٹھنے کے امکانات ہیں ۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر مشکل کا علاج ڈنڈہ ہی ہو ، دیگر ذرائع استعمال کرنے میں بھی کوئی قباحت نہیں ،۔عوامی فلاح کے منصوبے سیاسی مفاد سے با لاتر ہوکر شروع کیے جائیں۔ ہے تو بہت مشکل کام لیکن ضروری بھی بہت ہے ۔
ہمارے ذہن پر چھائے نہیں ہیں حرص کے سائے ۔۔۔ جو ہم محسوس کرتے ہیں وہی تحریر کرتے ہیں
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ، ہو یا صحت کارڈ ، نواز شریف روزگار سکیم ہو یا موجودہ سکیمیں یہ ساری سکیمیں کرپشن کا گڑھ بنی ہیں ۔ سب لوگ جانتے ہیں
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے ۔۔ باغ تو سارا جانے ہے
ان تمام چیزوں سے باتر ہوکر خدا کے لیے عوام کے لیے کچجھ کیجئے ورنہ بہت مشکل ہوجائے گی سب کے لیے ۔ اللہ تعالی ہمارے عمائیدین کو حقیقی عوامی خدمت میں مصروف رہنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین