وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ پیپلز پارٹی سرائیکی صوبے کے معاملے پر نرم گوشہ رکھتی ہے لیکن جب ملک میں مزید انتظامی یونٹس یا نئے صوبوں کی بات کی جائے تو سندھو دیش کا ذکر چھیڑ دیا جاتا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی کی پالیسی دو رخی ہے اور موجودہ نظام اختیارات کے ارتکاز کی وجہ سے ناکام ہو چکا ہے، اس لیے صوبہ ہو یا کوئی بھی انتظامی یونٹ، اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
دوسری جانب، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت نئے صوبوں پر بحث کرنا قبل از وقت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ اسمبلی میں صوبے کے معاملے پر جو شدت اور حدت پیدا کی گئی وہ غیر ضروری تھی اور پیپلز پارٹی محض سیاست چمکانے کے لیے یہ سب کر رہی ہے، تاہم یہ حقیقت ہے کہ سندھ کی تقسیم پیپلز پارٹی کی سیاست کے لیے ایک انتہائی حساس اور اہم معاملہ ہے۔



