ستمبر 10, 2026

چھٹیاں ختم… ذمہ داریاں شروع

از قلم : فیصل جنجوعہ

بچے اسکول واپس آ رہے ہیں، مگر کیا والدین بھی تیار ہیں؟ بچے ایک بار پھر اسکول کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ بستے تیار ہیں، یونیفارم استری ہو رہی ہے، کتابیں ترتیب دی جا رہی ہیں اور اسکولوں میں بھی تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی کی تیاریاں جاری ہیں۔ لیکن ایک بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے: کیا صرف بچوں کا اسکول واپس آنا کافی ہے، یا والدین بھی اپنی ذمہ داریوں کے ساتھ واپس آ رہے ہیں؟ تعلیمی نظام صرف اسکول کی چار دیواری، اساتذہ اور کتابوں سے نہیں چلتا۔ بچے کی کامیابی کے پیچھے اسکول، استاد، طالب علم اور والدین—چاروں کا کردار ہوتا ہے۔ اگر ان میں سے کوئی ایک فریق اپنی ذمہ داری سے غافل ہو جائے تو بہترین تعلیمی نظام بھی مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتا چھٹیوں کے دوران بچوں کو آرام اور تفریح کی ضرورت ضرور ہوتی ہے، مگر مکمل بے فکری کی نہیں۔ گھر میں پڑھنے کی عادت، ہوم ورک کی تکمیل، وقت کی پابندی اور روزمرہ معمول برقرار رکھنا بھی والدین کی ذمہ داری ہے۔ افسوس یہ ہے کہ بعض والدین اسکول بند ہوتے ہی سمجھتے ہیں کہ اب تعلیم بھی چند ہفتوں کے لیے بند ہو گئی ہے۔ اب جب بچے اسکول واپس آ رہے ہیں تو والدین کو بھی اپنے رویے کا جائزہ لینا ہوگا۔ کیا وہ روزانہ بچے کی ڈائری دیکھیں گے؟ کیا ہوم ورک مکمل ہونے کی نگرانی کریں گے؟ کیا امتحانات اور کلاس ورک کو سنجیدگی سے لیں گے؟ کیا والدین اساتذہ سے رابطے میں رہیں گے یا صرف سالانہ نتیجے کے دن بچے کے نمبروں پر سوال اٹھائیں گے؟
سب سے اہم مسئلہ والدین اور اسکول کے درمیان رابطے کا ہے۔ والدین ٹیچر پیرنٹ میٹنگز میں شرکت نہیں کرتے، اساتذہ سے بچے کی تعلیمی اور اخلاقی کارکردگی کے بارے میں معلومات نہیں لیتے، لیکن جب نتیجہ توقع کے مطابق نہ آئے تو ساری ذمہ داری اسکول پر ڈال دی جاتی ہے۔ یہ رویہ مسئلے کا حل نہیں بلکہ مسئلے کو مزید پیچیدہ کرتا ہے خصوصاً بڑی جماعتوں میں وقت کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ ایک طالب علم اگر کلاس میں غیر حاضر رہے، ہوم ورک کو معمولی سمجھے، ٹیسٹ کی تیاری نہ کرے اور والدین بھی اس معاملے کو سنجیدہ نہ لیں تو چند ماہ بعد اچانک نتائج بہتر بنانے کی کوشش آسان نہیں رہتی۔ والدین کو یہ سمجھنا ہوگا کہ فیس ادا کرنا والدین کی مکمل ذمہ داری ادا کرنے کے مترادف نہیں۔ فیس اسکول کی مالی ذمہ داریوں کو پورا کرتی ہے، مگر بچے کی نگرانی، مطالعے کا ماحول، وقت کی پابندی، اخلاقی تربیت اور اسکول کے ساتھ تعاون والدین کی ذمہ داری ہے۔ دوسری طرف اسکولوں اور اساتذہ کو بھی اپنی ذمہ داری پوری دیانت داری سے ادا کرنا ہوگی۔ بچے کو صرف کتابیں پڑھانا کافی نہیں؛ اسے سوچنا، سوال کرنا، نظم و ضبط اختیار کرنا، دوسروں کا احترام کرنا اور اپنی ذمہ داری سمجھنا بھی سکھانا ہوگا۔ اسکول کی گھنٹی بج چکی ہے۔ بچے واپس آ رہے ہیں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ والدین بھی صرف بچوں کو اسکول کے گیٹ تک چھوڑنے کے بجائے ان کے تعلیمی سفر میں عملی طور پر شریک ہوں۔ کیونکہ بچے کا مستقبل صرف اسکول میں نہیں بنتا، اسکول اور گھر مل کر بناتے ہیں۔ تعلیم ایک مشترکہ ذمہ داری ہے؛ اسے صرف اسکول کے کھاتے میں ڈال کر ہم اپنے بچوں کے مستقبل سے انصاف نہیں کر سکتے۔